30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کان علیہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالٰی بمنزلۃ مالو نام مضطجعا [1] اھ فاطلق فی الکل فان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال المذکورۃ فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق اذلایظھر بینھا فی ذلك افتراق [2] اھ ورجع العلامتان ط وش فاثرا انکار الحلیۃ ھذا فی حواشی المراقی والدر و اقراہ۔
اقول : غیر فــــ ان فی نقل ط وقع ھھنا اخلال یوھم من لم یطالع الحلیۃ انہ کما انکر التفرقۃ انکر نفس الثنیا وحکم بوجوب الغسل علی الاطلاق حیث قال تحت قول الشرنبلالی “ اذالم یکن ذکرہ منتشرا قبل النوم مانصہ لم یفصل بین النوم مضطجعا وغیرہ کغیرہ وقال ابن امیر حاج التفرقۃ غیر ظاھرۃ
پائے توامام ابو حنیفہ وامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے قول پر غسل واجب ہوگا جیسے کروٹ لیٹ کر سوجائے تو واجب ہو گااھ۔ توصاحب خانیہ نے حکم سب میں مطلق رکھا۔ تو انتشار سے وجوب غسل کو مقید کرنامذکورہ حالتوں میں سے کسی ایك میں اگرتام اور درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ سب ہی حالتیں مطلق رہیں گی۔ اس لئے کہ اس بارے میں ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔ اور علامہ طحطاوی وشامی نے رجوع کرلیااس طرح کہ مراقی الفلاح اور درمختار کے حواشی میں صاحبِ حلیہ کا یہ انکار نقل کر کے برقراررکھا۔
اقول : مگر یہ ہے کہ یہاں سید طحطاوی کی نقل میں ایك خلل ہے جس سے حلیہ نہ دیکھے ہوئے شخص کو یہ وہم ہوگا کہ صاحبِ حلیہ نے جیسے تفریق کا انکارکیا ہے ویسے ہی استثنا ء کا انکار کیا ہے اورمطلقًا وجوب غسل کا حکم کیا ہے یہ اس طرح کہ علامہ شرنبلالی کے قول “ جب کہ سونے سے پہلے اس کا ذکر منتشرنہ رہا ہو “ کے تحت سیدطحطاوی لکھتے ہیں : دوسرے حضرات کی طرح انہوں نے بھی کروٹ لیٹنے اور دوسرے طور پر لیٹنے میں فرق
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
الوجہ فالکل علی الاطلاق اذلا یظھر بینہما افتراق [3]اھ
فان المراد بالکل اوضاع النوم المذکورۃ وبا لاطلاق فی کلام الحلیۃ وجوب الغسل سواء کان منتشرا قبلہ اولا وھو لم یجزم بھذا الاطلاق بل بناہ علی ان لایتم تقیید المسألۃ بمامر والا فالکل علی التقیید کمالایخفی ، وما قدم من الا یراد لم یجزم بہ ایضا انما قال لوقال “ قائل کذا لاحتاج الی الجواب [4] اھ فلیتنبہ لذلك وبالله التوفیق۔
ثم ان المحقق الحلبی فی الغنیۃ بعد ذکر مسألۃ الثنیا قال وھی تؤید قولھما فی وجوب الغسل اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام[5] اھ
اقول : انما ھی عن فـــــ محمد
نہ کیا اورابن امیر الحاج نے فرمایا : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں تو سبھی حالتوں میں حکم مطلق ہے کیونکہ ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔
اس لئے کہ سبھی حالتوں سے مراد نیندکی مذکورہ حالتیں ہیں اور کلام حلیہ میں “ مطلق ہونے “ سے مراد یہ ہے کہ غسل واجب ہے خواہ سونے سے پہلے ذکر منتشررہاہویا نہ رہا ہواور صاحبِ حلیہ نے اس اطلاق پرجزم نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے اس بات پرمبنی رکھاہے کہ مسئلہ کی تقیید مذکورہ امرسے اگرتام نہ ہو ، ورنہ سبھی میں تقیید ہوگی۔ جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اورجو اعتراض انہوں نے پہلے ذکر کیا ہے اس پربھی جزم نہیں کیا ہے بلکہ یوں کہاہے کہ اگرکوئی کہنے والا یہ کہے توجواب کی ضرورت ہوگی ۔ اھ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔
پھر محقق حلبی نے غنیہ میں مسئلہ استثناء ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے : اس روایت سے طرفین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جب مذی ہونے کایقین ہواوراحتلام یاد نہ ہو تو غسل واجب ہے۔ اھ۔
اقول : یہ روایت امام محمد ہی سے تو ہے
فــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
وانما تبتنی علی قولھمافکیف یؤید الشیئ بنفسہ ھذا واذا قد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ فلنسمہا “ الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل “ حامدین لله علی ماعلم و مصلین علی ھذا الحبیب الاکرم صلی الله تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہ وبارك وسلم۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم ۔
اور ان ہی کے امام صاحب کے قول پر اس کی بنیاد بھی ہے تو شئی کی تائید خود اپنی ہی ذات سے کیسے ہوگی ؟۔ یہ بحث تمام ہوئی۔ اور یہ عُجالہ جب ایك رسالہ کی صورت اختیار کرگیا تو ہم اسے الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل (۱۳۲۰ھ)(احتلام اور تری کی صورتوں سے متعلق احکام واسباب) سے موسوم کریں خدا کی حمد کرتے ہوئے اس پر جو اس نے سکھایا اور درود بھیجتے ہوئے اس حبیب اکرم پر۔ ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر خدائے برتر کی رحمت وبرکت اور سلام ہو۔ اور خدائے پاك وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔ (ت)
_________________
رسالہ
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل
ختم ہوا
_________________
بارق النّور فی مقادیر ماء الطھور ۱۳۲۷ھ
( نورکی تابش ،آب وضووغسل کی مقدارمیں )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع