دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اسی طرح محیط سے برجندی کی شرح نقایہ اور رحمانیہ میں منقول ہے مگر دونوں نے امام ابو علی نسفی کا ذکر چھوڑ دیا ہے اوربرجندی نے شمس الائمہ کا قول بھی ترك کردیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ کتب متداولہ میں محیط جب مطلق بولی جاتی ہے تو محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے

فـــ  : فائدہ :  المحیط اذا اطلق فی الکتب المتداولۃ فالمراد بہ المحیط البرھانی لا محیط السرخسی الرضوی۔

کما یعرفہ من لہ عنایۃ بخدمۃ الفقہ الحنفی ،  وقال الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ المحیط البرھانی ھو المراد من اطلاقہ لغیر واحد کصاحب الخلاصۃ والنھایۃ لامحیط الامام رضی الدین السرخسی [1] اھ ثم الھندیۃ قد افصحت بمرادھا فانھا اذا اثرت عن البرھانی اطلقت واذا نقلت عن المحیط الرضوی قالت کذا فی محیط السرخسی۔    

جیسا کہ فقہ حنفی کی خدمت سے اعتنا ر کھنے والا اسے جانتا ہے۔ اور امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں لکھاہے کہ متعدد حضرات جیسے صاحبِ خلاصہ و نہایہ کے مطلق بولنے سے محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے محیط امام رضی الدین سرخسی نہیں اھ۔ پھر ہندیہ نے تواپنی مراد صاف بتادی ہے کیونکہ اس کا طریقہ یہی ہے کہ محیط برہانی سے نقل ہو تو مطلق محیط لکھا ہوتا ہے اور محیط رضوی سے نقل ہو تو “ کذافی محیط

السرخسی “ سے تعبیر ہوتی ہے اھ(ت)

ثانیا اقول : بلکہ محیط میں فــــ۱ ہے تو اس کا رد ہے اس میں صریح تصریح ہے کہ کھڑے ، بیٹھے ، چلتے ، لیٹے ہر طرح سونے کا تری دیکھنے میں ایك ہی حکم ہے،

ففی الھندیۃ فــــ۲ اذا نام الرجل قاعدا اوقائما اوما شیا ثم استیقظ ووجد بللا فھذا و ما لونام مضطجعا سواء کذافی المحیط[2]اھ۔

ہندیہ میں ہے جب مرد کھڑے بیٹھے چلتے سوجائے پھر بیدار ہو اور تری پائے تو یہ اور لیٹ کر سوجائے توسبھی صورتیں برابرہیں ، ایساہی محیط میں ہے۔ اھ۔ (ت)

ثالثا اقول : فــــ۳ منتہائے مسئلہ امام محمد ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے لفظ کریم ذخیرہ ومحیط وتبیین وفتح القدیر وغیرہا سے سُن چکے اُن میں اس نئے استثنا کا کہیں نشان نہیں ۔

رابعا : اقول : سونے فــــ۴کے طبعی وعادی وضع وہی لیٹ کر سوناہے اور کھڑے بیٹھے چلتے سونا اتفاقی تو اگر لیٹ کر سونے میں بحالتِ شہوت سابقہ علم یااحتمال مذی سے غسل نہ آتا اور دیگر اوضاع پر آتااور علما ء

فـــــ۱ : تطفل اٰخری علی المنیۃ و مسکین۔

فــــ۲ : مسئلہ : جاگ کر تری دیکھنے کے جملہ مسائل میں برابر ہے کہ لیٹا سویا ہو خواہ کھڑا بیٹھا چلتا۔

فـــــ۳ : تطفل ثالث علیھماوعلی الدرومجمع الانھر۔

فــــ۴  : تطفل رابع علیہم۔

مطلق بیان فرماتے کہ سونے سے پہلے شہوت ہونے میں غسل نہیں تو بعید نہ تھا کہ نادر صورتوں کا لحاظ نہ فرمایا نہ کہ خود لیٹ کر سونا ہی کہ اصل وضع خواب ومعروف ومعتاد ومتبادر الی الفہم ہے اس حکم سے مستثنٰی ہو پھر ائمہ کرام اور خود محرر مذہب رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیاُس کا استنا چھوڑ جائیں یہ کس درجہ بعید ودُور از کار ہے۔

خامسا اقول : امام شمس الائمہ حلوانی فــــ۱ کا ارشاد کہ کتب کثیرہ اور خود منیہ میں اس تازہ استثنا کے ساتھ مذکور کہ یہ مسئلہ بکثرت واقع ہوتا ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تو اس کا حفظ کر رکھنا واجب ہے صاف بتارہا ہے کہ اس کا تعلق صرف اُس صورت خواب سے ہرگز نہیں جو نادر الوقوع ہے۔

سادسا : اس تفرقہ پر کوئی دلیل بھی نہیں ۔

اماماابداہ فی الغنیۃ اذقال “ عدم وجوب الغسل فیما اذا کان منتشرا انما ھو اذا نام قائما اوقاعدا لعدم الاستغراق فی النوم عادۃ فلم یعارض سببیۃ الانتشار سبب اخر فحمل علی انہ ھو السبب وانما یتسبب عنہ المذی لاالمنی والاضطجاع سبب الاسترخاء والاستغراق فی النوم الذی ھو سبب الاحتلام فعارض الانتشار فی السببیۃ فیحکم بسبیتہ للاحتلام وان البلل منی رق احتیاطا[3] اھ وتبعہ السیدان ط وش۔

فاقول :  لا فــــ۲ متضح ولا متجہ                                         مگر غنیہ میں یہ رائے ظاہر کی ہے : ذکر منتشرہونے کی صورت میں عدم وجوب غسل اسی وقت ہے جب کھڑے یابیٹھے سویاہوکیونکہ ایسی حالت میں عادۃً گہری نیند نہیں آتی توسبب انتشار کے معارض کوئی اورسبب (اس حالت میں )نہیں پس یہ اس پر محمول ہوگا کہ انتشار ہی سبب ہے اور اس کی وجہ سے مذی ہی آتی ہے منی نہیں آتی۔ اور کروٹ لینا اعضا کے ڈھیلے پڑجانے اور سببِ احتلام نیند میں استغراق کا سبب ہوتا ہے تویہ سبب ہونے کے معاملہ میں انتشار کے معارض ہوگااس لئے احتیاطًا اس کے سببِ احتلام ہونے کا حکم ہوگااوراس کا کہ تری منی ہے جو رقیق ہوگئی ۔ اھ۔ اس رائے میں سید طحطاوی وسید شامی نے بھی غنیہ کا اتباع کیاہے۔

اقول یہ رائے

فــــ۱ : تطفل خامس علیھم ۔                            فـــــ۲ : تطفل علی الغنیۃ وط وش۔

فان النوم کیفما کان لیس سببا قویا للاحتلام کما بیناہ ،  وانما ینتھض موجبا اذا اعتضد بسبب وسیط اوقریب والاضطجاع لایسلب انعقاد سبب المذی قبل النوم بل یؤکد خروج ماھیأہ ھو للخروج لتمام الاسترخاء فلم یثبت ان النوم احدث تلك البلۃ التی لاتنبعث الا عن شھوۃ فلم یبق الا مجرد المنام وھو ولو مضطجعا لیس سببا قویا للاحتلام ،  ھذا علی طریقتنا واما علی طریقۃ الحلیۃ فلان الانتشار قد استولی علی المسبب بالسبق فلا وجہ لقطع النسبۃ عنہ الا بتذکر حلم اوعلم منی ولم یعھد الشرع ھھنا فارقا بین نوم ونوم حتی یسقط الترجیح بالسبق لبعض الاوضاع دون بعض۔   

نہ واضح ہے نہ باوجہ ، اس لئے کہ نیند جس حالت میں بھی ہووہ احتلام کا سبب قوی نہیں ، جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ وہ صرف اس حالت میں موجب بنتی ہے جس سبب وسیط یاقریب سے قوت پاجائے اورسونے سے پہلے جوسبب مذی متحقق ہوچکااضطجاع اسے سلب نہیں کرتا بلکہ اس سبب نے جس تری کو آمادہ خروج کردیا تھا اضطجاع اس کے خروج کو اور مؤکد کردیتاہے کیونکہ اس میں استرخاکامل ہوجاتاہے تویہ ثابت نہ ہوا کہ نیند ہی نے وہ تری پیدا کی تھی جو شہوت ہی سے برانگیختہ ہوتی ہے۔ اب صرف نیند رہ گئی اور نیند خواہ لیٹ ہی کر ہو احتلام کاسبب قوی نہیں ۔ یہ ہمارے طریقہ پر ہے اور حلیہ کے طریقہ پر یوں کہاجائے گاکہ انتشار سبقت کے باعث مسبّب پرحاوی ہوگیا تواس سے اس مذی کی نسبت منقطع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ، مگریہ کہ خواب یاد ہویا منی ہونے کا یقین ہواور شریعت سے یہاں ایك نیند اوردوسری نیند میں کوئی تفریق ثابت نہیں کہ انتشار کوسبقت کے باعث جو ترجیح ملی تھی وہ نیند کی بعض صورتوں میں ساقط ہوجائے اور بعض میں ساقط نہ ہو۔

لاجرم امام محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس تفرقہ سے صاف انکارفرمایا ،

حیث قال التفرقۃ غیر ظاھر الوجہ فلاجرم ان قال فی الخانیۃ اذانام الرجل قائما اوقاعدا او ماشیا فوجد مذیا

اس کے الفاظ یہ ہیں : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں ۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر خانیہ میں فرمایا : جب مرد کھڑے بیٹھے یا چلتے ہوئے سوجائے پھرمذی

 



[1]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[2]   الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵

[3]   غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ، مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن