30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ففصل ھذہ عن الثنیا وخصہ بالاولٰی اماما فی البحر من بیانہ اولا صورتی الخلاف بین الثانی والطرفین مطلقا ثم قولہ بعد ذکر صورۃ الثنیا “ ھذہ تقید الخلاف المتقدم بین ابی یوسف وصاحبیہ بما اذا لم یکن ذکرہ منتشرا[1] اھ فرأیتنی کتبت علی ھامشہ۔
اقول : ای الصورۃ الواحدۃ من صورتی الخلاف وھی ما اذا شك فی المنی والمذی اما اذاشك فی المنی والودی فلا دخل فیہ للانتشار قبل النوم اھ فاعرف ولاتزل۔
امام ابویوسف کے نزدیك نہیں ۔ اس صورت میں جب کہ اسے شك ہو کہ منی ہے یا مذی ، اور ذکر منتشر نہ رہا ہو یا شك ہو کہ منی ہے یا ودی ، اور ان دونوں صورتوں میں احتلام یاد نہ ہو۔ اھ(ت)
تو احتمال منی و ودی کی صورت کو انہوں نے استثناسے الگ کردیا اور استثنا کو صرف پہلی صورت سے خاص کیا مگر بحر میں امام ثانی اور طرفین کے درمیان اختلاف کی دونوں صورتیں پہلے مطلقًا بیان کی ہیں ، پھرصورتِ استثنا ذکر کرکے لکھا ہے یہ صورت استثناامام ابویوسف اورطرفین کے درمیان ذکر شدہ سابقہ اختلاف کو اس حالت سے مقید کردیتی ہے جب ذکر منتشرنہ رہا ہواھ۔ یہاں میں نے دیکھا کہ اس کے حاشیہ پرمیں نے یہ لکھا ہے :
اقول : یعنی اختلاف کی دو صورتوں میں سے ایك صورت کو مقید کرتی ہے وہ منی یا مذی میں شك کی صورت ہے لیکن جب منی یا ودی میں شك ہو تواس میں سونے سے پہلے انتشارِ آلہ کا کوئی دخل نہیں اھ۔ تو تم اس سے آگاہ رہنا اور لغزش میں نہ پڑنا۔ (ت)
اب رہی شکل چہارم کی وہ صورت جس میں منی ومذی مشکوك ہو اور شکل پنجم جس میں مذی کا علم ہو عامہ کتب میں اُسے صورتِ اولٰی یعنی حالت شك سے متعلق فرمایا ہے کما مر عن الخانیۃ وغیرھا(جیساکہ خانیہ وغیرہا سے گزرا۔ ت)
اقول : مگر اس سے متعلق کرنا ہی صورت ثانیہ یعنی علم مذی سے بدرجہ اولٰی تعلق بتاتا ہے کہ احتلام یاد نہ ہونے کی حالت میں جبکہ سوتے وقت شہوت ہونے سے صرف احتمال مذی پر مذی ٹھہرایا اور احتمال منی کا لحاظ نہ فرمایا تو جہاں مذی کا علم ہے بروجہ اولٰی مذی ہی قرار پائے گی اور غسل واجب نہ ہوگا۔ کتب میں حالت اولٰی کے ساتھ اس کی تخصیص فریق اول کے طور پر تو ظاہر کہ اُن کے نزدیك علم مذی کی صورت میں خود ہی غسل نہ تھا کسی استثناکی کیا حاجت ، اور فریق دوم نے صورت خفا پر تنصیص فرمائی کہ بحال احتمال منی بھی صرف احتمال مذی سے مذی ٹھہرنا معلوم ہوجائے ، دوسری صورت کا حکم اس سے خود روشن ہوجائےگا لاجرم حلیہ میں فرمایا :
یکون الغسل اذا وجد البلۃ التی مذی بطریق شك اوفی غالب الرأی اوالیقین بشرط کونہ غیر ذاکر للاحتلام ولا منتشر الذکر قبیل النوم [2] اھ
غسل ہوگاجب وہ تری پائے جس کے مذی ہونے کاشك یاظن غالب یایقین ہے بشرطیکہ احتلام یادنہ ہو ، نہ ہی سونے سے پہلے ذکرمنتشر رہاہواھ۔ (ت)
تنبیہ خامس عشر۱۵عامہ کتب مثل فتاوی امام قاضی خان و ذخیرہ ومحیط برہانی وتبیین الحقائق وفتح القدیر وجوہرہ نیرہ و خزانۃ المفتین و مجتبی وغیاثیہ وبحرالرائق وجامع الرموز و شرح نقایہ برجندی وعالمگیریہ و رحمانیہ ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرہا میں یہ استثنا یونہی مذکور ہے مگر منیہ میں اس استثنا میں ایك استثنا بتایا اور اُسے محیط وذخیرہ اور درمختار ومجمع الانہر میں جواہر کی طرف نسبت فرمایا وہ یہ کہ اس استثنا کا حکم صرف اُس صورت سے خاص ہے کہ آدمی کھڑا یا بیٹھا سویا ہو اور اگر لیٹ کر سویا تو مطلقا صورت مذکورہ میں غسل واجب ہوگا اگرچہ سونے سے پہلے ذکر قائم اور شہوت حاصل ہو منیہ میں ہے :
ھذا اذا نام قائما اوقاعدا اما اذا نام مضطجعا اوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل وھذا مذکور فی المحیط والذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ مسألۃ یکثر و قوعھا والناس عنھا
یہ اس صورت میں ہے جب کھڑا یا بیٹھاسویا ہو اور اگر لیٹ کرسویا ہویا اسے منی ہونے کا یقین ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔ اوریہ محیط وذخیرہ میں مذکور ہے۔ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا : یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے
غافلون [3] اھ وتبعہ مسکین فی شرح الکنز فعزاہ لھما۔
غافل ہیں اھ۔ شرح کنز میں مسکین نے بھی صاحبِ منیہ کا اتباع کرتے ہوئے دونوں کاحوالہ دیا ہے(ت)
مگر اولا فــــ۱اس کا پتا نہ ذخیرہ میں ہے نہ محیط میں والله اعلم صاحب منیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو یہ اشباہ کیونکر ہوا
قال الشامی ذکر فی الحلیۃ انہ راجع الذخیرۃ والمحیط البرھانی فلم یرتقیید عدم الغسل بما اذانام قائما اوقاعدا[4] اھ۔
اقول : فـــ۲ رحم الله السید متی راجع العلامۃ الحلبی المحیط البرھانی وھو قد صرح فی عدۃ مواضع من الحلیۃ انہ لم یقف علیہ وھکذا صرح ھھنا ایضا حیث یقول اسلفت فی شرح خطبۃ الکتاب ان الظاھر ان مراد المصنف بالمحیط المحیط لصاحب الذخیرۃ وانی لم اقف علیہ نفسہ و راجعت محیط الامام رضی الدین السرخسی فلم ار لھذہ المسألۃ فیہ ذکرا اما الذخیرۃ فراجعتھا فرأیتہ اشار الیہا بما لفظہ قال القاضی الامام ابو علی النسفی ذکر ھشام فی نوادرہ
علامہ شامی نے فرمایا : حلیہ میں ذکرہے کہ انہوں نے ذخیرہ اور محیط برہانی کی مراجعت فرمائی تواس میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے سونے کی صورت سے عدم غسل کی تقییدنہ پائی اھ۔ (ت)
اقول : علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو محقق حلبی نے محیط برہانی کی مراجعت کب فرمائی جب کہ انہوں نے حلیہ کے متعدد مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ انہیں محیط برہانی کی واقفیت بہم نہ ہوئی۔ اسی طرح اس مقام پر بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے ، لکھتے ہیں کہ میں خطبہ کتاب کی شرح میں بیان کرچکاہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ محیط سے مصنّف کی مراد صاحبِ ذخیرہ کی محیط ہے اور خوداس کی مجھے واقفیت نہ ہوئی۔ میں نے امام رضی الدین سرخسی کی محیط دیکھی تو اس میں اس مسئلہ کا ذکر نہ پایا۔ اورذخیرہ کی مراجعت کی تو اس میں ان الفاظ میں اس مسئلہ کی جانب اشارہ پایا : قاضی امام ابو علی نسفی نے فرمایاکہ ہشام نے اپنی نوادر میں
فــــ۱ : تطفل علی المنیۃ و شرح الکنز لمسکین۔ فــــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ الشامی۔
عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ ولم یتذکر حلما اذا کان قبل النوم منتشرا لاغسل علیہ وان کان قبل النوم ساکنا کان علیہ الغسل قال وینبغی ان یحفظ ھذا فان البلوی کثیر فیہا والناس عنھا غافلون انتھی[5]اھ۔ نعم لیس ھو فی المحیط البرھانی ایضا فقد نقل عنہ فی الھندیۃ بعین لفظ الذخیرۃ غیر انہ زاد بعد قولہ لاغسل علیہ الا ان تیقن انہ منی وقال قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنہا غافلون فیجب ان تحفظ [6] اھ۔
وھکذا نقل عن المحیط فی شرح النقایۃ للبرجندی والرحمانیۃ الا انھما ترکا ذکر الامام ابی علی النسفی والبرجندی قول شمس الائمۃ ایضا ومعلوم فــ ان المحیط اذا اطلق فی المتداولات کان المراد ھو المحیط البرھانی
امام محمد سے روایت کی ہے کہ جب بیدار ہو کر اپنے احلیل میں تری پائے اور خواب یاد نہیں تو اگر سونے سے پہلے ذکر منتشرتھا تواس پر غسل نہیں ، اور اگرسونے سے پہلے ساکن تھا تو اس پر غسل ہے۔ فرمایا : اور اسے حفظ رکھنا چاہئے کیونکہ اس میں ابتلابہت ہوتا ہے اورلوگ اس سے غافل ہیں انتہی اھ۔ ہاں یہ محیط برہانی میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے ہندیہ میں بعینہ ان ہی الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے جوذخیرہ میں ہیں ، سوا اس کے کہ “ اس پرغسل نہیں “ کے بعدیہ اضافہ ہے “ مگریہ کہ اسے منی ہونے کایقین ہو “ ۔ اور کہاکہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ بہت واقع ہوتاہے اورلوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ کرناضروری ہے اھ۔
[1] البحرا الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۸
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] منیۃ المصلی موجبات الغسل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۳۳
[4] ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
[5] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[6] الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع