30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ ثالث عشر۱۳ : احتلام یاد ہونے کی حالت میں طرفین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیك احتمال منی پر وجوبِ غسل کا حکم ظاہر الروایۃ میں مطلق ہے اور تمام متون اسی پر ہیں مگر نوادر ہشام میں محرر مذہب سیدنا امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے وہ قید مروی ہوئی کہ اگر سونے سے کچھ پہلے شہوت تھی جاگ کر یہ تری دیکھی جس کے منی یا مذی ہونے میں شك ہے تو غسل واجب نہ ہوگا تبیین الحقائق میں ہے :
ذکر ھشام فی نوادرہ عن محمداذا استیقظ فوجد بللا فی احلیلہ ولم یتذکرالحلم فان کان ذکرہ قبل النوم منتشر افلا غسل علیہ وان کان غیر منتشر فعلیہ الغسل [1]۔
امام ہشام نے اپنی نوادر میں امام محمد سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ جب بیدار ہوکر احلیل(ذکر کی نالی ) میں تری پائے اور خواب یاد نہ ہوتواگرسونے سے پہلے ذکر منتشرتھاتو اس پر غسل نہیں ، اور اگر منشتر نہ تھا تواس پرغسل ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
روی عن محمد فی مستیقظ وجدماء ولم یتذکر احتلاماان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والایجب [2]۔
امام محمدسے روایت ہے بیدار ہونے والاتری پائے اوراسے احتلام یاد نہیں تواگرسونے سے پہلے منتشرتھاغسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔ (ت)
اوراس کی وجہ یہ افادہ فرماتے ہیں کہ شہوت خروج مذی کی باعث ہے تو پیش از خواب قیام شہوت بتائے گاکہ یہ مشکوك تری مذی ہے اور مذی سے غسل واجب نہیں ہوتا بخلاف اسکے کہ سونے سے پہلے شہوت نہ ہو تواب سبب مذی بیداری میں نہ تھا اور نیند مظنہ احتلام ہے لہذا اسے منی ٹھہرائیں گے اور رقت وغیرہ سے مذی کااشتباہ معتبر نہ رکھیں گے کہ منی بھی گرمی پہنچ کر رقیق ہوجاتی ہے۔ غیاثیہ میں ہے :
ان کان منتشرا عند النوم فعلیہ الوضوء لاغیر لانہ وجد سبب خروج المذی فیعتقدکونہ مذیا ویحال بہ الیہ الا اذا کان اکبر رأیہ انہ منی رق فحینئذ یلزمہ الغسل [3] اھ
واطال فی الحلیۃ فی بیانہ بماحاصلہ ان النوم مظنۃ للمنی والانتشارللمذی وقد سبق والسبق سبب الترجیح مع ان الاصل براء ۃ الذمۃ وعدم التغیر فی المنی ثم قال ولا یدفعہ ماعن عائشۃ رضی الله تعالی عنہاقالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجدالبلل ولا یذکراحتلاماقال یغتسل وعن الرجل یری انہ قداحتلم ولم یجد بللا قال لاغسل علیہ فان الظاھران المراد
اگرسونے کے وقت ذکر منتشر تھا تواس پرصرف وضو ہے ۔ اس لئے کہ خروجِ مذی کا سبب موجود ہے تواسے مذی ہی ماناجائے گااور اسے اسی کے حوالے کیاجائے گا۔ لیکن جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ منی ہے جو رقیق ہوگئی ہے توایسی صورت میں اس پر غسل لازم ہے۔ اھ۔
اور حلیہ کے اندر اس کے بیان میں طول کلام ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نیند منی کا مظنّہ ہے اور انتشارِ آلہ مذی کا مظنّہ ہے او ر انتشار سابق ہے اور سبقت سببِ ترجیح ہے باوجود یکہ اصل یہ ہے اس کے ذمہ غسل نہیں اور منی میں تغیر نہیں ۔ پھرفرمایا : اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی جوحضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ رسول الله ؐ سے اس مرد کے بارے میں پوچھاگیاجوتری پائے احتلام یاد نہ ہو ، فرمایا غسل کرے اوراس مرد کے بارے میں پوچھاگیا جو یہ خیال رکھتاہے کہ اس نے خواب دیکھا ہے اور تری نہ پائے ، فرمایا اس پرغسل نہیں ۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے
بالبلل المذکور المنی بالاجماع علی ان فی سندہ عبدالله العمری ضعیف [4]اھ مختصرا۔
اقول : فــــ۱ الحدیث قداحتج بہ اصحابنالامام المذھب ومحررہ فی ایجابھما الغسل بالمذی اذا لم یتذکرحلماکماتقدم وقدمناعن البدائع انہ نص فی الباب [5]وان ابا یوسف یحملہ علی المنی وان للامامین اطلاق الحدیث۔
ثم العمری انما فـــ۲ضعفہ یحیی القطان من قبل حفظہ وقال النسائی وغیرہ لیس بالقوی ۔
اقول : وبون بین بینہ وبین لیس بقوی ، وقال ابن معین لیس بہ باس یکتب حدیثہ [6]قیل لہ کیف حالہ فی نافع قال صالح ثقۃ[7]
کہ مذکور ہ تری سے مراد منی ہے بالاجماع علاوہ ازیں اس کی سند میں عبدالله عمری راوی ضعیف ہے ۔ مختصرا۔
اقول : اس حدیث سے ہمارے اصحاب نے امام مذہب اور محررمذہب علیہما الرحمہ کی تائید میں اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات احتلام یا د نہ ہونے کی صورت میں مذی سے غسل واجب قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ گزرا۔ اورہم نے بدائع کے حوالہ سے نقل کیا کہ یہ حدیث اس باب میں نص ہے ، اورامام ابویوسف اسے منی پر محمول کرتے ہیں اورطرفین کی تائید اطلاق حدیث سے ہوتی ہے۔
پھر عبدالله عمری کو یحیٰی قطان نے کمی حفظ کی وجہ سے ضعیف کہاہے اور امام نسائی وغیرہ نے لیس بالقوی (قوی نہیں ) کہا ہے۔
اقول : لیس بالقوی(قوی نہیں ) کہا اور لیس بقوی(ذرا بھی قوی نہیں ) میں نمایاں فرق ہے۔ اور ابن معین نے کہا : ان میں کوئی حرج نہیں ان کی حدیث لکھی جائے گی۔ پوچھا گیا : نافع سے روایت میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا :
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فــــ۲ : تمشیۃ عبدالله العمری المکبر۔
وقال احمد صالح لاباس بہ[8] وقال ابن عدی فی نفسہ صدوق[9] وقال ایضا لاباس بہ وقال یعقوب بن شیبۃ صدوق ثقۃ فی حدیثہ اضطراب وقال الذھبی صدوق فی حفظہ شیئ[10] ، وھذا مسلم قد اخرج لہ فی صحیحہ۔
وبالجملۃ فــــ لیس ممن یسقط حدیثہ ولا عبرۃ بما تعود بہ ابن حبان من عبارۃ واحدۃ یذکرھا فی کل من یرید ، بل لایبعد حدیثہ عن درجۃ الحسن ان شاء الله تعالٰی لاجرم ان سکت ابو داؤد علیہ۔
اما الجواب عنہ فاقول : ظاھر ان السؤال عن بلل ینشؤ بسبب النوم ولذا قال ولم یذکر احتلاما ای یجد المسبب ولا یذکر السبب ، قال یغتسل ثم سئل یذکر السبب ولا یجد المسبب قال لاغسل علیہ وحینئذ بمعزل عنہ مانحن فیہ۔
ثم انہ رحمہ الله تعالٰی
[1] تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ موجبات الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۷
[2] فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
[3] الفتاوٰی الغیاثیہ نوع فی اسباب الجنابۃ واحکامہا مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸،۱۹
[4] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[5] بدائع الصنائع کتاب الطہارۃفصل فی احکام الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۷۸
[6] میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
[7] میزان الاعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع