30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے پیچھے کے مقام سے ہونے کا یقین نہیں ۔ تو مذکورہ بالاجزئیہ میں یہ مثلًا پیشاب وپاخانہ ہے جسے شرعًا موجود مان لیا گیاباوجود یکہ بعینہ اس سے متعلق احاطہ علم نہیں ۔ اب دم سے متعلق دیکھئے۔ درمختار میں ہے : نفاس ایك خون ہے تواگراسے نہ دیکھے (شامی میں ہے مثلًا یوں کہ بچہ خشك نکل آیاجس پر خون کا کوئی نشان نہیں ) توکیا وہ نفاس والی ہوگی یانہیں ؟۔ معتمدیہ ہے کہ ہوگی اھ۔
فــــ : مسئلہ : بچہ بالکل صاف پیداہوا جس کے ساتھ خون کااصلا نشان نہیں نہ بعد کو خون آیا پھر بھی زچہ پر احتیاطا غسل واجب ہے ۔
وفی المراقی من الوضوء قال ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علیہا الغسل احتیاطا لعدم خلوہ عن قلیل دم ظاھراوصححہ فی الفتاوٰی وبہ افتی الصدرالشہید رحمہ الله تعالٰی عنہ [1] اھ وفی حاشیتھا للعلامۃ ط من النفاس اکثر المشایخ علی قول الامام رضی الله تعالی عنہ ٢[2]اھ فھذا فی النفاس۔
ثم اقول : فی قولہ فــــ۱ رحمہ الله تعالٰی مشیرا الی البول والحیض ونحوھما انھا لاتعتبرالا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج تسامح ظاھربالنظرالی البول فانہ لایخرج من الفرج الداخل بل من ثقبۃ فی الفرج الخارج فوق مدخلالذکر فکان الاولی اسقاط قولہ من الفرج الداخل۔
ثم اورد فی الحلیۃ کلام مراقی الفلاح میں باب وضو کے تحت ہے : امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایااحتیاطًا اس پر غسل ہے اس لئے کہ ظاہرًا نفاس دم قلیل سے خالی نہیں ہوتا ، اسی کو فتاوٰی میں صحیح قرار دیا ، اوراسی پرصدرشہید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فتوٰی دیا۔ اھ۔ اور علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں نفاس کے بیان میں ہے : اکثر مشائخ حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قول پر ہیں اھ۔ یہ نفاس سے متعلق ہوگیا۔
ثم اقول : حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پیشاب ، حیض اور ان جیسی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کا اعتبار اسی وقت ہوتاہے جب یہ فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نکلیں ۔ اس عبارت میں پیشاب کی بہ نسبت کھلاہو ا تسامح ہے اس لئے کہ پیشاب فرج داخل سے نہیں نکلتا بلکہ اس سوراخ سے نکلتا ہے جو فر ج خارج میں مدخل ذکرسے اوپر ہوتاہے تو بہتر یہ تھاکہ لفظ “ فرج داخل “ عبارت میں نہ لاتے۔
اس کے بعد حلیہ میں اختیار کی عبارت
فــــ : تطفل خامس علی الحلیۃ ۔
الاختیار کما قدمنا عنھا قال ویطرقہ ان الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین وھو ھنامفقود [3] اھ
اقول : بل موجود کماعلمت قال وکون الظاھر فی الاحتلام الخروج ممنوع بل قد وقد [4]اھ۔
اقول : ان فــــ اراد التساوی فغیر صحیح والا لبطل دلالۃ التذکرعلی ان ھذا المتردد بین المذی والودی منی وان اراد ان الخروج قد یتخلف فنعم ولا یقدح فی الظھور۔
قال ثم لم یظھرمن الشارع اعتبارھذا الاحتمال بل قیدالشارع وجوب الغسل علیھا بعلمہا وجودہ لم یطلق لھا فی الجواب کمااطلقت (ای ام سلیم
ذکر کی ہے جیساکہ اس کے حوالہ سے ہم پیش کرچکے ۔ پھر لکھا ہے کہ : اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ احتیاط دلیل اقوی پر عمل میں ہے اور وہ یہاں مفقود ہے ۔ اھ۔
اقول : بلکہ موجود ہے جیسا واضح ہوچکا۔ آگے فرمایا : یہ کہ احتلام میں ظاہر خروج منی ہے ، قابل تسلیم نہیں ۔ بل قَد وقَد(یعنی بلا خروج منی بھی احتلام ہوتا ہے۱۲م)۔
اقول : اگریہ مرادہے کہ خروج اور عدمِ خروج دونوں احوال برابری پر ہیں تویہ صحیح نہیں ورنہ احتلام یاد ہونے کی دلالت اس امر پرباطل ہوئی کہ یہ شکل جس میں مذی وودی کے درمیان تردّد ہے ، وہ منی ہی ہے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ کبھی ایساہوتاہے کہ احتلام ہواور خروجِ منی نہ ہوتوبات صحیح ہے مگراس سے اس میں کوئی خلل نہیں آتاکہ ظاہر خروج ہے۔
آگے فرماتے ہیں : پھر شارع کی جانب سے اس احتمال کا اعتبار ظاہر نہ ہوا بلکہ شارع نے عورت پر وجوبِ غسل اس سے مقید فرمایاکہ اسے وجودِمنی کا علم ہوجائے اور اس کے لئے جواب مطلق نہ رکھا جیسے(حضرت ام سلیم رَضِیَ اللہُ
فــــ : تطفل سادس علیہا۔
رضی الله تعالٰی عنہا) فی السؤال فانعم النظر تجدہ تحقیقا لاغبار علیہ ان شاء الله تعالٰی [5] اھ
اقول : اما الاحتمال الذی ابداہ فی الاختیار وھو العود حین الاستلقاء فقد عرفت الکلام علیہ وان لاحاجۃ الیہ وان العلم بالوجودمتحقق احتیاطاکمااسلفناو الحمدلله ۔
فھذامنتھی الکلام فی مسألۃ المرأۃ ولا اقول انا الذی وجھتھا بہ یوجب التعویل علی الروایۃ النادرۃ انما اقول ان الرد علی کلام المحقق غیر یسیر۔
اماالتعویل فعلی ماحکم بہ ائمتنا فی ظاھر الروایۃ ونص علی انہ الاصح وانہ الصحیح وبہ یؤخذ وعلیہ فتوی ائمۃ الدرایۃ فسقط معہ للبحث مجال وانماعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم اعاد الله علینا من برکاتھم ومع
تَعَالٰی عَنْہَا کا) سوال مطلق تھا۔ توغور سے نظر ڈالویہ ایسی تحقیق ثابت ہوگی جس پر کوئی غبار نہیں ان شاء الله تعالٰی۔ اھ۔
اقول : وہ احتمال جو اختیار میں ظاہر کیا کہ ہو سکتاہے حالت استلقاء میں منی نکل کر عود کرگئی ہو تواس پرمکمل کلام گزر چکا اور وہاں واضح ہواکہ اس کی کوئی حاجت نہیں وجود منی کا علم یوں ہی احتیاطًا ثابت ومتحقق ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، والحمد لله ۔
مسئلہ زن سے متعلق یہ منتہائے کلام ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جوتوجیہ پیش کی ہے اس کے باعث روایتِ نادرہ پر اعتماد واجب ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ حضرت محقق کے کلام کی تردید آسان نہیں ۔
اعتماد تواسی پرہے جس پر ہمارے ائمہ نے ظاہر الروایہ میں حکم فرمایااورائمہ درایت نے جس کے بارے میں تصریح فرمائی کہ وہ اصح ہے۔ صحیح ہے۔ بہ یؤخذ(اسی کواختیار کیا جائے گا)اوراسی پر ائمہ درایت کا فتوٰی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے بحث کی جگہ ہی نہیں ۔ ہمارے ذمہ تواسی کااتباع لازم ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیاجسے اگروہ اپنی حیات میں ہمیں فتوٰی دیتے توہمارے
ذلك ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ذمہ یہی ہوتا۔ ہم پر الله تعالی ان کی برکتیں پھرو اپس لائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے ، والله سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) ۔
اس کے بیان کو تین۳ تنبیہیں اور اضافہ کریں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع