30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــ : تطفل آخر علیہا۔
دلیل شرعی فقد تحقق وجودہ شرعاولا یحتاج الی شاھد من لمس اوبصرالا تری ان المولج المکسل قام فیہ الدلیل الشرعی علی انزالہ فاعتبرموجودا شرعامع عدم شھادۃ لمس ولا بصر نعم یحتاج الحکم بالدلیل الی عدم المعارض وعدم وجدان الرجل المحتلم معارض لدلالۃ التذکر بخلاف المرأۃ کما بینا نعم دلالۃ الایلاج یقظۃ اعظم واقوی من دلالۃ الاحتلام فلم یقم لہا ھذا المعارض لاحتمالات بعیدۃ لم تکن تحمل لولا غایۃ مافی ھذا الدلیل من عظم القوۃ بخلاف تذکر الحلم۔
قولکم مخالفۃ لظاھر النص[1]اقول : لواوجبت فـــ من دون
شرعی قائم ہوگئی ، شرعًا اس کا وجود ثابت ہوگیا اور چھونے ، دیکھنے جیسے شاہد کی حاجت نہ رہی۔ کیا معلوم نہیں کہ ادخالِ حشفہ والے شخص کے بارے میں انزال پر دلیلِ شرعی قائم ہوگئی تو انزال کو شرعًا موجود مان لیا گیا باوجود یکہ دیکھنے چھونے کی کوئی شہادت نہیں ۔ ہاں دلیل پر حکم کرنے میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی معارض نہ ہو۔ اور جس مرد نے خواب دیکھا اور احتلام اسے یاد ہے مگر اس نے کوئی تری نہ پائی تو اس کے یاد ہونے کا اعتبار نہ ہوا۔ اس لئے کہ تری نہ پانا ، دلیلِ تذکر(یاد ہونا)کے معارض ہے۔ اور عورت کی یہ حالت نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ہاں بیداری میں ادخال کی دلالت ، خواب یاد ہونے کی دلالت سے زیادہ عظیم اور قوی ہے اس لئے یہ معارض(تری نہ پانا) اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ایسے بعید احتمالات کی وجہ سے جو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اگر اس دلیل میں انتہائی قوت نہ ہوتی اور خواب یاد ہونے کی دلیل ایسی قوی نہیں ۔
صاحب حلیۃ : یہ روایت ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اقول : اگر اس میں
فـــ : تطفل ثالث علیہا۔
دلیل علی الخروج لخالفت واذ قدبنت الامرعلی الدلیل وقد اعترفتم انہ لاشك فی الاتفاق علی وجوب الغسل بوجود المنی فی احتلامہا وفی ان المراد بالرؤیۃ العلم بوجودہ لارؤیۃ البصر[2]اھ ففیم الخلاف۔
قولکم والقیاس الصحیح[3] اقول : ماذافـــ۱المناط فی المقیس علیہا تعلق العلم بنفسہا اصالۃ ام اعم الثانی حاصل ھھناکماعلمت والاول غیر مسلم فی المقیس علیہا ففی الاشباہ ذکر عن فــــ۲ محمد رحمہ الله تعالی انہ اذا دخل بیت الخلاء وجلس للاستراحۃ وشك ھل
خروج منی کی دلیل کے بغیر وجوبِ غسل کاحکم ہوتاتو وہ نص کے مخالف ہوتی اورجب اس نے بنائے حکم دلیل پر رکھی ہے(تومخالفت کس بات میں رہی)اور آپ کوبھی اعتراف ہے کہ عورت کے احتلام میں منی پائے جانے سے وجوبِ غسل پر اتفاق ہونے میں کوئی شك نہیں اوراس میں بھی کوئی شك نہیں کہ رؤیت سے مراد وجود منی کا علم ہے آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ۔ اھ۔ اب مخالفت کہاں ہوئی؟
صاحب حلیۃ : قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے۔ اقول : مقیس علیہ(پیشاب ، حیض وغیرہ۱۲م) میں مدار کیا ہے؟ خود ان چیزوں سے براہِ راست علم ویقین کاتعلق ، یا اس سے اعم (وہ علم جو دلیل کے ذریعہ علم کو بھی شامل ہو۱۲م) ثانی تویہاں حاصل ہے جیسا کہ واضح ہوا۔ اور اول خودمقیس علیہ میں تسلیم نہیں ۔ کیونکہ اشباہ میں امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے یہ مسئلہ نقل کیا ہے : یہ یاد ہے کہ بیت الخلا میں داخل ہوا اور قضائے حاجت
فــــ۱ : تطفل رابع علیہا۔
فــــ۲ : مسئلہ : یہ یاد ہے کہ بیت الخلاء میں گیا اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھا تھا مگر یہ یاد نہیں کہ پیشاب وغیرہ کچھ ہوا یانہیں تو یہی ٹھہرائیں گے کہ ہواتھاوضولازم ہے ۔
خرج منہ اولا کان محدثاوان فــــ۱ جلس للوضوء ومعہ ماء ثم شك ھل توضأ ام لاکان متوضیا عملا بالغالب فیھما [4] اھ
وقد جزم بالفرع فی الفتح فقال شك فی الوضوء او الحدث وتیقن سبق احدھما بنی علی السابق الا ان تأید اللاحق فعن محمد علم المتوضیئ دخولہ الخلاء للحاجۃ وشك فی قضائھاقبل خروجہ علیہ الوضوء ثم ذکرمسألۃ الوضوء ثم قال وھذایؤید ماذکرناہ من الوجہ فی وجوب وضوء المفضاۃ [5] اھ
ای اذا فــــ۲ خرج لہاریح
کے لئے بیٹھا تھااور اس میں شك ہے کہ کچھ خارج ہوا تھا یا نہیں تو وہ بے وضو قرار پائے گا۔ اور اگر یہ یاد ہے کہ وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھا تھامگراس میں شك ہے کہ وضوکیا تھایا نہیں تو یہ مانیں گے کہ وضوکرلیا تھا۔ دونوں مسئلوں میں غالب پر عمل کی رو سے یہ حکم ہے۔ اھ۔
اس جُزئیہ پر فتح القدیر میں جزم کیا ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : وضو یاحدث میں شك ہوا اور اس سے پہلے دونوں میں سے ایك کایقین ہے توسابق پربنا ء رکھے مگر یہ کہ لاحق کوکسی چیز سے تقویت حاصل ہو۔ کیونکہ امام محمد سے منقول ہے کہ باوضو شخص کو حاجت کے لئے خلاء میں جانے کا یقین ہے۔ اوراس میں شك ہے کہ نکلنے سے پہلے قضائے حاجت کیایانہیں تواسے وضو کرناہے۔ اس کے بعد مسألہ وضو ذکر کیا پھر فرمایا : اس سے اُس وجہ کی تائید ہوتی ہے جو مفضاۃ پر وضو واجب ہونے کے بارے میں ہم نے ذکر کی ۔ اھ۔
مفضاۃ وہ عورت جس کے دونوں راستے
فــــ۱ : مسئلہ : وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھنایادہے مگر وضوکرنایادنہیں تویہی قرار دیں گے کہ وضوکرلیا۔
فـــ۲ : مسئلہ : جس عورت کے دونوں مسلك پردہ پھٹ کرایك ہوگئے اسے جو ریح آئے احتیاطا وضوکرے اگرچہ احتمال ہے کہ یہ ریح فرج سے آئی ہے۔
لاتعلم ھل ھی من القبل او الدبرتجعل من الدبر لانہ الغالب فیجب علیہا الوضوء فی روایۃ ھشام عن محمد وبہ اخذ الامام ابوحفص الکبیر و مال المحقق الی ترجیحہ بماعلمت خلافا لمافی الہدایۃ وغیرھاانہا انمایستحب لہا الوضوء لعدم التیقن بکونہا من الدبر فھذا بول مثلا اعتبر موجودا شرعامع عدم احاطۃ العلم بہ عینا وفی الدر المختار النفاس دم فلولم فـــ ترہ [6](بان خرج الولد جافابلادم [7]ش) ھل تکون نفساء المعتمدنعم[8] اھ
پردہ پھٹ کر ایك ہوگئے۔ اس سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ جب اس سے ریح نکلی اوراسے علم نہیں کہ آگے کے مقام سے ہے یا پیچھے سے ، تو پیچھے کے مقام سے قراردی جائے گی ، اس لئے کہ یہی غالب ہے ، تواس پر وضو واجب ہوگا۔ یہ امام محمد سے ہشام کی روایت میں ہے اور اسی کوامام ابو حفص کبیر نے اختیار کیا ہے۔ وجہ مذکورسے اسی کی ترجیح کی جانب حضرت محقق کامیلان ہے اس کے برخلاف جو ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ اس پر وضو صرف مستحب ہے کیونکہ
[1] حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
[4] الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۷
[5] فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۸
[6] الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
[7] ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۹۹
[8] <
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع