30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثم رأیت العلامۃ ط رحمہ الله تعالٰی جنح الی بعض ماذکرتہ فقال قلت والنظر لایتم الا اذا کانت البکارۃ تمنع خروج المنی والامربخلاف ذلك لخروج الحیض من ذلك المحل فلماکان الغالب فی تلك الحالۃ النزول خصوصا وقد ظھر الحبل وھو اکبر دلیل علیہ اعتبروہ واقاموا اللازم مقام الملزوم ومن یعرف مواقع الفقہ لایستبعد ذلك [1]اھ فقد افادواجاد علیہ رحمۃ الجواد۔
اقول : غیرفــــ ان فی قولہ خصوصا رکتا ہے جس سے نسل کاوجود خدا تعالٰی نے مقدر فرمایاہے۔ بلکہ ایسابھی ہے کہ مرد کاپانی بھی اسی وقت گرتا ہے جب ان کے انزال کے ساتھ ان کاپانی بھی گرتاہے۔ مختصریہ کہ انزال بعض حصہ منی کے باہر آنے کی دلیل ہے دونوں میں کوئی تعارض نہیں ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پرظاہر ہوا۔
پھر میں نے دیکھا کہ میری مذکورہ کچھ باتوں کی طرف علامہ طحطاوی ، رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکابھی رجحان ہے وہ فرماتے ہیں : میں کہتاہوں یہ نظر(جودرمختار میں منقول ہے ۱۲م)اسی صورت میں تام ہوسکتی ہے جب بکارت خروج سے مانع ہو اور معاملہ اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ خونِ حیض بھی اسی جگہ سے باہر آتا ہے۔ تو اس حالت میں چوں کہ غالب منی کااترنا ہے۔ خصوصًا جب کہ حمل ظاہر ہوچکا اور یہ اس کی بڑی دلیل ہے ، اس لئے اس کا اعتبار کرلیا گیااور لازم کو ملزوم کے قائم مقام قرار دیاگیا۔ اور جو فقہ کے مقامات سے آشنا ہے وہ اسے بعید نہ جانے گا ۔ اھ۔ ان الفاظ سے انہوں نے افادہ کیا اور خوب افادہ فرمایا ، رب جو اد کی ان پر رحمت ہو۔
اقول : مگر یہ ہے کہ ان کا لفظ “ خصوصًا “ نمایاں
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
حزازۃ ظاھرۃ لان الکلام ھھنافی اغلبیۃ الخروج عند الانزال ولامزیۃ فیہ لصورۃ الحبل بل المزیۃ لصورۃ عدمہ لماقدمت من وجوب الا مساك فی الحبل للانعقاد۔
ثم المستفاد فــــ من کلامہ ان مرادہ اغلبیۃ الانزال فی حالۃ الجماع وعلیہ یستقیم قولہ خصوصافان دلالۃ الحبل علی الانزال اظھر و ازھر ولکن لوکان الاغلب انزالہابالجماع لوجب الحکم علیھابالغسل وان لم یظھر الحبل لان الغالب کالمتحقق بل الاغلب فی النساء عدم الانزال بکل جماع الااحیاناکماصرح بہ اھل المعرفۃ بھذا الشان حتی قالوا لوانھا کلما جومعت انزلت لھلکت سریعا ھذا الکلام مع الغنیۃ۔
اما الحلیۃ فنقل فیھاکلام المحقق ثم نازعہ بقولہ دعوی وجودالمنی شرعافیمن احتملت ثم استیقظت وتذکرت
طورپر کھٹك رہاہے اس لئے کہ یہاں وقت انزال خروج منی کے اکثر ہونے سے متعلق گفتگو ہے اوراس میں صورت حمل کو کوئی خصوصیت نہیں ، بلکہ خصوصیت عدم حمل کو ہے کیوں کہ ابھی بیان ہواکہ حمل میں بوجہ استقرار(کچھ پانی) روك لینا ضروری ہے۔
پھران کے کلام سے مستفادیہ ہے کہ ان کی مراد حالتِ جماع میں اکثریت انزال ہے اسی مراد پران کا لفظ “ خصوصًا “ ٹھیك بیٹھ سکتاہے کیونکہ انزال پر حمل کی دلالت بہت واضح وروشن ہے لیکن جماع سے اگر اسے انزال ہوجانااکثر و غالب ہوتاتوحمل ظاہرنہ ہوتے ہوئے بھی (مسئلہ مذکورہ میں ) اس پر غسل کا حکم کرنالازم ہوتا۔ اس لئے کہ غالب واکثر ،
متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ بلکہ عورتوں میں اکثروغالب یہی ہے کہ ہر جماع سے انہیں انزال نہ ہومگربعض اوقات میں ۔ جیسا کہ اس امر کی معرفت رکھنے والوں کی تصریح موجود ہے بلکہ انہوں نے تویہاں تك کہا ہے کہ اگرہرجماع کے ساتھ اسے انزال ہو توجلد ہی ہلاك ہوجائے۔ یہ کلام غنیہ پر ہوا۔
لیکن حلیہ تواس میں محقق علی الاطلاق کاکلام نقل کرنے کے بعدان الفاظ میں اس سے نزاع کیا ہے : عورت جسے احتلام ہوا ، پھر بیدار ہوئی او رخواب میں
فــــ : معروضۃ اخرٰی علیہا
لذۃ انزال مناما ولم تجد بللا لمساولا رؤیۃ ممنوعۃ لان مایتذکر وقوعہ فی نفس الامرفی النوم انما یکون محقق الوجود شرعا اذا وجد فی الیقظۃ مایشھد بذلك ولیس الشاھد لتحقق وجود المنی منھا مناما الا علمہا بوجودہ فی الفرج الخارج یقظۃ بلمس اوبصر فاذافقد فقد ظھر عدم وجودہ وان المرئی لہا فی المنام کان خیالا وھذہ الصورۃ فیمایظھرھی محل الخلاف فظاھرالروایۃ لایجب الغسل وعن محمد نعم ولاشك فی ضعفھا کیف لاوھی مخالفۃ لظاھر النص وکذا القیاس الصحیح علی امثال ذلك من البول و الحیض ونحوھما فان الشارع لم یعتبر ھٰذہ الاشیاء موجودۃ الا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج کذا ھذا[2] اھ
اقول : والجواب فــــ مااٰذناك انزال کی لذت اسے یاد ہے مگر اسے چھونے یا دیکھنے سے کوئی تری نہ ملی اس عورت سے متعلق یہ دعوٰی کہ شرعًا اس کی منی پالی گئی ، قابلِ تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ خواب میں واقعی طور پر جس بات کا واقع ہونا یادآتاہے شرعًا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاجب بیداری میں اس کا کوئی شاہد مل جائے۔ اور خواب میں اس سے منی پائے جانے کے تحقق پر شاہد یہی ہے کہ بیداری میں چھونے یادیکھنے سے اس کو فرج خارج میں وجود منی کا علم ہوجب یہ شاہد موجود نہیں تو ظاہرہو گیاکہ منی پائی نہ گئی اور جوکچھ اس نے خواب میں دیکھاوہ محض ایك خیال تھا۔ اورظاہر یہی ہے کہ یہی صورت محلِ اختلاف ہے۔ اسی سے متعلق ظاہر الروایہ میں ہے کہ غسل واجب نہیں ، اور امام محمد سے ایك روایت ہے کہ واجب ہے ، اور اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شك نہیں ، اورضعیف کیوں نہ ہو جب کہ وہ ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اسی طرح اس کے مثل پیشاب حیض وغیرہ پر قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے اس لئے کہ شارع نے ان چیزوں کاوجود اسی وقت مانا ہے جب یہ فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ظاہر ہوں ۔ تویہی حکم منی کا بھی ہوگا اھ۔
اقول : اس کا جواب وہی ہے جو ہم
فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
مرارا ان تذکرالاحتلام دلیل اعتبرہ الشرع لاسیما مع تذکرلذۃ الانزال ومن ثم نشأ الفرق بین الاحکام فی التذکروعدمہ فلولم یکن دلیلا علی نزول المنی کان احتمال المنی احتمالاعلی احتمال فی من تذکرو رأی بللا یعلم انہ لیس منیا بل ولایعلم ایضاانھابلۃ ناشئۃ عن شھوۃ انمایسوغہ لترددھا بین مذی وودی ومعلوم ان الاحتمال علی الاحتمال لایعبؤبہ فکان کمن رأھاولم یتذکر مع اجماعھم علی الفرق بینھما فما ھو الالان التذکردلیل خروج المنی فترقی بہ عن الاحتمال علی الاحتمال الی الاحتمال فوجب احتیاطالان الاحتمال معتبرفی محل الاحتیاط۔
قولکم انمایکون محقق الوجود شرعا[3]الخ اقول : ماقام فـــ علیہ نے بار بار بتایا کہ احتلام یاد ہونا ایك ایسی دلیل ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہے خصوصًا جب کہ لذتِ انزال بھی یاد ہو۔ یہیں سے تو یاد ہونے اورنہ ہونے میں احکام کا فرق رونماہوا۔ اگریہ نزول منی کی دلیل نہ ہوتا تومنی کا احتمال ، احتمال دراحتمال ہوتا اس شخص کے بارے میں جسے احتلام یاد ہے اور بیداری میں اس نے ایسی تری دیکھی جسے وہ جانتا ہے کہ منی نہیں بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتاکہ یہ کوئی ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔ اس کا صرف امکان مانتاہے اس لئے کہ اس میں مذی اور ودی کے درمیان تردّد ہے۔ اور معلوم ہے کہ احتمال در احتمال کاکوئی اعتبارنہیں تو یہ شخص اسی کی طرح ہواجس نے تری دیکھی اور اسے احتلام یادنہیں ، حالانکہ دونوں کے درمیان تفریق پر ہمارے ائمہ کااجماع ہے اس کاسبب اس کے سواکچھ نہیں کہ احتلام یاد ہونا خروج منی کی دلیل ہے اسی وجہ سے وہ احتمال در احتمال سے ترقی کر کے احتمال کے درجہ تك آگیا۔ تو احتیاط واجب ہوئی اس لئے کہ مقام احتیاط میں احتمال معتبر ہے۔
صاحب حلیہ : شرعًا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاالخ اقول : جس امر پر دلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع