30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھئے فقہا تصریح فرماتے ہیں کہ اگرعورت سے قریب فرج جماع کیاپھر منی اس کی شرم گاہ میں چلی گئی ، یا کنواری سے جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی ، توان صورتوں میں عورت پر غسل نہیں اس لئے کہ غسل کا سبب۔ انزالِ زن یاد خولِ حشفہ۔ نہ پایاگیا۔ یہاں تك کہ اگر اسے حمل ٹھہر جائے تواس پر غسل ہوگا اس لئے کہ یہ اس کاثبوت ہے کہ عورت کو بھی انزال ہوا تھا کیوں کہ اس کے انزال کے بغیر استقرارِ حمل نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ خانیہ ، خلاصہ ، وجیز ، کبرٰی ، خزانۃ المفتین ، فتح القدیر ، البحر الرائق ، غنیہ وغیرہا میں مذکور ہے ۔ توانہوں نے اس کا جواز مانا ہے۔ یہاں تك کہ کنواری میں بھی ، کہ
فــــ : مسئلہ : عورت کی ران پر جماع کیا اور منی اس کی فرج میں چلی گئی یاکنواری کی فرج میں جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی تو ان دونوں صورتوں میں عورت پر غسل نہ ہوگا کہ نہ اس کا انزال ثابت ہوا نہ اس کی فرج داخل میں حشفہ غائب ہوا ورنہ بکارت جاتی رہتی ہاں ان جماعوں سے اگر عورت کو حمل رہ گیاتواب اس پر اسی وقت جماع سے غسل واجب ہونے کاحکم دیں گے اور آج تك جتنی نمازیں قبل غسل پڑھی ہیں سب پھیرے کہ حمل رہ جانے سے ثابت ہواکہ عورت کو خود بھی انزال ہوگیاتھا ورنہ حمل نہ رہتا۔
الخارج ثم ینجذب فیدخل فی الرحم۔
قال فی الغنیۃ بعد ذکر ھذہ المسألۃ الاخیرۃ لاشك انہ مبنی علی وجوب الغسل علیہا بمجرد انفصال منیہا الی رحمہا وھو خلاف الاصح الذی ھو ظاھر الروایۃ قال فی التاترخانیہ وفی ظاھر الروایۃ یشترط الخروج من الفرج الداخل الی الفرج الخارج وفی النصاب وھو الاصح [1] اھ اھ وقد تواردہ علیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ فقال اقول لایخفی ان الحبل یتوقف علی انفصال الماء عن مقرہ لاعلی خروجہ فالظاھر ان وجوب الغسل مبنی علی الروایۃ السابقۃ عن محمد تامل [2]اھ
ثم رأی الحلبی صرح بہ فی الغنیۃ فحمد الله تعالی علیہ وقد تبعہ ایضافی الدر اذ نقل عنہ ما فی شرحہ الصغیر ان فیہ نظرلان خروج
منی اس کی فرج خارج سے باہر واقع ہوپھر جذب وکشش پاکر رحم میں چلی جائے۔
غنیہ میں آخری مسئلہ ذکر کرنے کے بعدلکھاکہ : اس میں شك نہیں کہ یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عورت پر صرف اس سے کہ اس کی منی جدا ہو کر رحم میں چلی جائے غسل واجب ہے ، اور یہ اصح ، ظاہر الروایہ کے خلاف ہے۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں ، فرج داخل سے نکل کر فرج خارج کی طرف آنا شرط ہے۔ اور نصاب میں ہے کہ : یہی اصح ہے اھ اھ ۔ اس بات پر صاحبِ غنیہ سے علامہ شامی کا بھی توارد ہوا ہے ، وہ منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں ، مخفی نہیں کہ استقرارِحمل صرف اس پر موقوف ہے کہ منی اپنی جگہ سے جدا ہوجائے ، وہ منی کے باہر آنے پر موقوف نہیں ۔ توظاہر یہ ہے کہ اس صورت میں وجوبِ غسل کا حکم اس روایت پر مبنی ہے جو امام محمد سے ماسبق میں نقل ہوئی۔ تامل کرو۔ اھ۔
یہ لکھنے کے بعدعلامہ شامی نے غنیہ میں دیکھا کہ محقق حلبی نے اس کی تصریح کی ہے۔ تواس پرخداکاشکر اداکیا۔ حلبی کا اتباع درمختار میں بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ان کی شرح صغیر کا کلام نقل کیا ہے کہ یہ محلِ نظر ہے اس لئے کہ عورت
منیہامن فرجھا الداخل شرط لوجوب الغسل علی المفتٰی بہ ولم یوجد[3]اھ فبزیادۃ قولہ علی المفتٰی بہ اشار الی ابتنائہ علی روایۃ محمد۔
اقول : وھذافــــ ماشبہ علی بعض الانظارفزعمت ان الروایۃ النادرۃلاتشترط الخروج وقد ازالہا المحقق وبیناہ بمایکفی ویشفی فلا وجہ لھذا الحمل امامایذکرعن المنصوریۃ انہ اعتبر فی منیھا الخروج الی فرجہا الخارج عند الفقیہ ابی جعفر والی فرجہا الداخل عند الامامین الحلوانی والسرخسی علی مانقل عنہا البرجندی[4]
فاقول : متوغل فی الاغراب مثل ذلك الکتاب الا تری ان الامام الحلوانی ھو القائل لتلك الروایۃ عن محمد لایؤخذ بھذہ الروایۃ فان النساء یقلن ان منی
کی منی کافرج داخل سے باہرآنا وجوبِ غسل کے لئے مفتٰی بہ قول پرشرط ہے ، اوریہ شرط نہ پائی گئی۔ اھ۔ تو “ مفتی بہ قول پر “ کا اضافہ کرکے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ امام محمد کی روایت پر مبنی ہے۔
اقول : یہ ان بعض نظروں کا اشتباہ ہے جس کے سبب انہوں نے یہ سمجھ لیاکہ روایت نادرہ میں خروج کی شرط نہیں اور محقق علی الاطلاق نے اس شبہ کاازالہ فرمایا ہے اورہم اسے کافی وشافی طور پر بیان کرآئے ہیں ۔ تو اس روایت پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ لیکن وہ جو منصوریہ کے حوالے سے بیان کیاجاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر کے نزدیك عورت کی منی میں فرج خارج کی طرف نکلنے کا اعتبار ہے اور امام حلوانی وامام سرخسی کے نزدیك صرف فرج داخل کی طرف نکلنے کااعتبار ہے۔ جیسا کہ بر جندی میں منصوریہ سے نقل کیاہے۔
فاقول : اس کتاب کی طرح ان دونوں اماموں کی طرف یہ انتساب بھی انتہائی غریب ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ امام حلوانی ہی نے تو امام محمد کی اس روایت نادرہ سے متعلق فرمایاکہ یہ روایت نہ لی جائے گی ، اس لئے کہ عورتیں
فـــــ : تطفل علی الغنیۃ والمنحۃ ۔
المرأۃ یخرج من الداخل کمنی الرجل فھوجواب ظاھرالروایۃ کما فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عنہ رحمہ الله تعالٰی فکیف ینسب الیہ ھذا۔
فان قلت ففرع الحبل مامعناہ قلت معناہ فــــ ظاھران شاء الله تعالی فان بالحبل ثبت انزالہا والغالب فی الانزال الخروج والغالب کالمتحقق فی الفقہ فلاینافیہ نفی التوقف علی الخروج بمعنی لولاہ لم یکن ۔
فان قلت بل الحبل دلیل عدم الخروج لاجل الانعقاد الاتری انھن حین یحبلن یمسکن ماء الرجل فلا یرمین منہ الا شیأقلیلا قلت الانزال یقتضی الخروج والانعقاد یکون بجزء من الماء لابکلہ الاتری انھن حین یحبلن یرمین بشیئ من ماء الرجل ایضاولا یمسکن منہ الاجزء قدر الله
بتاتی ہیں کہ عورت کی منی مرد کی منی کی طرح فرج داخل سے باہر آتی ہے اور یہی ظاہرالروایہ کاحکم ہے ، جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے ، اس میں امام حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے نقل ہے توان کی جانب یہ انتساب کیسے ہوسکتاہے؟
اگر دریافت کرو کہ پھر استقرارِ حمل سے متعلق جوجزئیہ ہے اس کا مطلب کیاہے؟۔ میں کہوں گا اس کا مطلب واضح ہے۔ اِن شاء الله تعالٰی۔ اس لئے کہ حمل سے عورت کو انزال ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ اور انزال میں غالب یہی ہے کہ منی باہرآتی ہے۔ اور غالب فقہ میں متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ تو یہ بات اس کے منافی نہیں کہ حمل خروج منی پر موقوف نہیں بایں معنی کہ اگر خروج نہ ہو توحمل ہی نہ ہو۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ حمل توعدم خروج کی دلیل ہے اس لئے کہ استقرار ہو چکا ہے۔ معلوم ہے کہ عورتوں کوجب حمل ٹھہر تا ہے تو وہ مرد کا پانی بھی روك لیتی ہیں ، اس میں سے بہت قلیل باہرگرتا ہے۔ میں کہوں گا انزال کا تقاضایہ ہے کہ خروجِ منی ہو۔ اور استقرار تو آب منی کے ایك جُز سے ہوتاہے کل سے نہیں ۔ معلوم ہے کہ جب انہیں حمل ہوتاہے تومرد کاکچھ پانی ان سے باہر آگرتا ہے۔ اور اس میں سے صرف وہی جز
فـــ : تطفل آخر علیہم ۔
تعالٰی ان یکون منہ الزرع بل قدلا یرمین بہ الاحین ینزلن تبعا لمائھن وبالجملۃ دلالۃ الانزل علی خروج البعض لایعارضھا دلالۃ الحبل علی امساك البعض ھذاماظھرلی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع