30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وخامسا بل فــــ۳ یجوز ان تکون مضطجعۃ وقد وضعت بین
اصول میں طے شدہ ہے۔
ثالثا مانع مقام کاتنگ ہونا۔ صرف اضطجاع میں متحقق ہوگا کیوں کہ دونوں کنارے مل جائیں گے اور گزر گاہ بند ہو جائے گی ۔ لیکن منہ کے بل لیٹناکشادگی مقام میں چت لیٹنے ہی کی طرح ہے تو استلقاء (چت لیٹنے) سے حکم کی تخصیص کیوں ؟ اگریہ علّت بتائی جائے کہ منہ کے بل ہونے کی صورت ہو اور منی نکلے توبسترپرگرجائے گی ، عود نہ کر سکے گی۔ قلت(میں کہوں گا)اگرفرجِ خارج سے نکلنا مراد ہے تواستلقا کی صورت میں بھی جب اس سے باہر آئے گی تو سرینوں کی طرف ڈھلك آئے گی ، عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر فرج خارج میں باقی رہنے کے ساتھ فرج داخل سے نکلنا مراد ہے تو امکانِ عودمیں صرف استلقا ، مُنہ کے بل لیٹنے ہی کی طرح ہے۔
رابعًا امکان عود کے بارے میں ہم ابھی وہ ذکر کریں گے جس کے بعد فرق کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
خامسًا بلکہ ہوسکتاہے کہ اضطجاع کی حالت ہواور رانوں کے درمیان موٹاساتکیہ
فـــــ۱ : تطفل ثالث علیہ
فـــــ۲ : تطفل رابع علیہ ۔
فـــــ۳ : تطفل خامس علیہ
فخذیھا وسادۃ ضخمۃ فیبقی الفرج متسعا کالا ستلقاء اوافرج ۔
وسادسا : ان استلقت فــــ۱وقدالتفت الساق بالساق لایکون للاستلقاء فضل علی الاضطجاع فی باب الاتساع فالقصر علیہ منقوض طردا وعکسا ولہ صور اخری لاتخفی۔
الا ان یقال ذکرالاستلقاء ونبہ بہ علی صور اتساع الفرج فیشمل الانبطاح والاضطجاع المذکور والمراد بجھۃ اخری جہۃ التقاء الشفرین ولو فی الاستلقاء علی الوجہ المزبور۔
ثم الصواب ما عبربہ فــــ۲فی الاختیار من ان تجد نفسہامستلقیۃ اذا تیقظت ولاحاجۃ الی ان تعلم استلقاءھاحین احتلمت کما وقع فی الغنیۃ ۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یردمااختارفی الاختیار فقال الا ان ماء ھااذا لم ینزل دفقا بل
رکھ لیاہو توشرمگاہ حالت استلقا کی طرح یا اس سے زیادہ کشادہ رہ جائے گی۔
سادسا : اگر حالتِ استلقاء میں ران ، ران سے لپٹی ہوئی ہو تو کشادگی کے معاملے میں استلقا کو اضطجاع پر کوئی زیادتی حاصل نہ ہوگی تو اس پر اقتصار جمعًا اورمنعًا کسی طرح درست نہیں رہ جاتا۔ اس کی اوربھی صورتیں ہیں جو مخفی نہ ہوں گی۔
مگر جوابًا یہ کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے استلقا کو ذکر کرکے اس سے کشادگی کی صورتوں پر تنبیہ کردی ہے لہذا منہ کے بل لیٹنے اور مذکورہ صورت پر لینے کو بھی شامل ہے۔ اور کسی دوسری جہت سے ان کی مراد یہ ہے کہ دونوں کنارے باہم ملے ہوئے ہوں اگرچہ یہ ملنا مذکورہ صورتِ استلقا ہی میں ہو۔
پھر صحیح تعبیر وہ ہے جو “ اختیار “ میں آئی کہ بیدار ہونے کے وقت اپنے کو چت لیٹی ہوئی پائے۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ اسے وقتِ احتلام اپنے چت ہونے کا علم ہو۔ جیسا کہ غنیہ میں تعبیر کی۔
اس کے بعد محقق حلبی نے اس کی تردید شروع کی جسے “ اختیار “ میں اختیار کیا۔ کہتے ہیں : مگریہ ہے کہ جب اس کا پانی بطور دفق نہیں اترتا بلکہ
فــــ۱ : تطفل سادس علیہ ۔ فــــ۲ : تطفل سادس علی الغنیۃ ۔
سیلانا یلزم اماعدم الخروج ان لم یکن الفرج فی صبب اوعدم العودان کان فی صبب فلیتامل [1] اھ
اقول : کلا اللاز مین منتف اما الاول فـــــ۱ فلما حققنا ان منیہالایخلوعن دفق وان لم یکن کدفق الرجل فلا نسلم لزوم عدم الخروج اذا لم یکن الفرج فی صبب الاتری انھن ربما یوطأن بوضع وسادۃ تحت اعجازھن فیکون الفرج مرتفعا ومع ذلك یرمین بماء ھن
بل وبماء الرجل ایضا ،
واما الثانی فــــ۲ ٢فلان للرحم قوۃ جاذبۃ شدیدۃ الجذب فربما یجوزان یخرج المنی من الفرج الداخل ویکون فی الفرج الخارج وتھیج جاذبۃ الرحم فتجذبہ من الفرج الخارج وان کان الفرج فی صبب بل یجوز ان یجوز المنی الفرج الخارج ایضا ثم یعود بجذب الرحم ۔
بہاؤ کے طور پراترتا ہے ۔ تو دو باتوں میں سے ایك لازم ہے۔ اگر فرج بہاؤ کیجانب میں نہ ہو تو عدم خروج لازم ہے اور اگر بہاؤ کی جانب میں ہوتوعدمِ عود لازم ہے۔ تو اس پر تامل کی ضرورت ہے۔ اھ ۔
اقول : دو باتوں میں سے ایك بھی لازم نہیں ۔ اول اس لئے کہ ہم تحقیق کر چکے کہ عورت کی منی دفق سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ وہ مرد کے دفق کی طرح نہ ہوتوہمیں یہ تسلیم نہیں کہ جب شرم گاہ بہاؤکی جانب میں نہ ہو توعدم خروج لازم ہے۔ کیا معلوم نہیں کہ عورتوں سے وطی یوں بھی ہوتی ہے کہ ان کے سرینوں کے نیچے تکیہ رکھ دیتے ہیں جس سے شرمگاہ اونچائی پرہوجاتی ہے اس کے باوجود اس سے پانی باہرآتاہے بلکہ اس کے ساتھ اس مرد کاپانی بھی باہر آتاہے۔
دوم اس لئے کہ رحم میں جذب کی شدید قوت ہوتی ہے۔ توبعض اوقات ہوسکتاہے کہ منی فرجِ داخل سے نکل کر فرج خارج میں ہو اور رحم کی قوتِ جاذبہ اُبھر کر اسے فرج خارج سے جذب کرلے اگرچہ فرج بہاؤ کی جانب میں ہی ہو۔ بلکہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ منی فرج خارج سے بھی تجاوز کرجائے پھر بھی کشش رحم سے عود کر آئے۔
فـــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہا۔
الا تری الی مانصواعلیہ ان لوجومعت فــــ فیما دون الفرج فسبق الماء الی فرجہا او جومعت البکر لاغسل علیہا لفقد السبب وھو الانزال ومواراۃ الحشفۃ حتی لو حبلت کان علیہا الغسل لانھالاتحبل الااذا انزلت والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والوجیز والکبری وخزانۃ المفتین والفتح والبحر والغنیۃ[2] وغیرھا فقد جوزوا حتی فی البکران یقع الماء خارج فرجہا
[1] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵
[2] فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الاغتسال نولکشورلکھنؤ۱ / ۲۱ ، خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی فی الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۱ / ۱۳ ، الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱ ، فتح القدیر کتاب الطہارۃفصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۵ ، البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع