30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اما الشامی فظن ان المحقق یرید بدعوی الاتفاق التوفیق بین الروایتین بان مراد الظاھرۃ عدم الوجوب اذالم یوجد الانزال و مرادالنادرۃ الوجوب اذا وجد ولم ترہ المرأۃ بعینہافاخذ علیہ بما ھوعنہ بریئ اذیقول “ یفھم من کلام الفتح ان مرادہ انھم اتفقوا علی انہ اذاوجد المنی فقد وجب الغسل ومحمد قال بوجوبہ بناء علی وجود المنی وان لم ترہ فلم
استعمال ہوتاہے۔ کسی نے کہا : رأیت الله اکبر کل شئی ، میں نے خدا کو ہر شے سے بڑا دیکھا (یعنی جانا اوریقین کیا) اھ۔ ہم نے بفیض فتح القدیر عزّ جلالہ جو تقریر دلیل رقم کی ہے اس سے واضح ہے کہ حضرت محقق کے اس کلام پر رد کرنے والے اکثر حضرات نے ان کے کلام میں اچھی طرح غورنہ کیا۔ رَد کرنے والے یہ جلیل القدر علماء ہیں (۱) صاحب فتح کے تلمیذ ، محقق حلبی حلیہ میں (۲) محقق ابراہیم حلبی غنیہ میں (۳) علامہ سیّد شامی منحۃ الخالق میں ۔ خدا کی رحمت ہو حضرت محقق پر ، اور ان حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔
علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق دعوائے اتفاق کرکے دونوں روایتوں میں تطبیق دینا چاہتے ہیں کہ ظاہر الروایہ سے مراد اس صورت میں عدمِ وجوب ہے جب انزال نہ پایا جائے ، اور روایت نادرہ سے مراداس صورت میں وجوب ہے جب انزال پایاجاچکا ہو اور عورت نے اپنی آنکھ سے اسے دیکھا نہ ہو۔ یہ سمجھ کر ان پراس معنی کے تحت گرفت کی جس سے وہ بری ہیں ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : کلامِ فتح سے سمجھ میں آتاہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ جب منی پائی جائے تو غسل واجب ہے۔ اور امام محمد نے اس بنا پر
یخرج علی معنی ولم ترہ خرج لکن لایخفی ان غیر محمد لایقول بعدم الوجوب والحالۃ ھذہ فکیف یجعلون عدم الوجوب ظاھرالروایۃ اللھم الا ان یکون مرادہ الاعتراض علیھم فی نقل الخلاف وانھم لم یفھموا قول محمد وان مرادہ بعدمالخروج عدم الرؤیۃ ولا یخفی بعد ھذافانھم قید وا الوجوب عند غیر محمد بما اذاخرج الی الفرج الخارج فان کان مرادہ (یعنی محمدا) بعدم الرؤیۃ البصریۃ فھو ممالا یسع احدا ان یخالف فیہ وان کان العلمیۃ فلم یحصل الاتفاق علی تعلق الوجوب بوجود المنی فالظاھروجود الخلاف وان مافی التجنیس مبنی علی قول محمد وحینئذ لادلالۃ لہ علی ما ادعاہ فلیتامل [1] اھ۔
اقول : لاھو فـــــ ینکر الخلاف غسل واجب کہا کہ منی پائی جاچکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں تو “ پانی نہ نکلا “ کا معنی یہ ہے کہ “ اس نے نکلتے دیکھا نہیں “ ۔ لیکن مخفی نہ ہوگاکہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں ہیں توعلماء عدم وجوب کو ظاہر الروایہ کیسے قرار دے سکتے ہیں ؟ مگر یہ کہ حضرت محقق کا مقصد ان علماء پر نقل اختلاف کے بارے میں اعتراض کرناہوکہ انہوں نے امام محمدکا قول سمجھا نہیں ، عدم خروج سے ان کی مراد عدمِ رؤیت ہے۔ اور اس مراد کا بعید ہونا پوشیدہ نہیں ۔ اس لئے کہ ان علماء نے غیر امام محمد کے نزدیك وجوب کو اس صورت سے مقید کیا ہے جب منی فرج خارج کی جانب نکل آئے۔ تو عدم رؤیت میں رؤیت سے اگر امام محمد کی مراد آنکھ سے دیکھنا ہے تو کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا اوراگراس سے ان کی مراد علم ویقین ہے تووجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کہاں ہے؟پس ظاہر یہی ہے کہ اختلاف باقی ہے اور تجنیس کا کلام امام محمد کے قول پر مبنی ہے۔ اس صورت میں حضرت محقق کے دعوے پر کلامِ تجنیس میں کوئی دلیل نہیں ۔ تو اس میں تامل کیا جائے۔ اھ۔
اقول : حضرت محقق کو نہ اختلاف سے
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
ولا ان ما فی التجنیس مبنی علی ماروی عن محمد ولا ھو یرید ببیان الاتفاق ابداء الوفاق وانما الامر انھم ظنوا ان محمدا فی ھٰذہ الروایۃ لایشترط فی احتلامھا وجود الماء لقول التجنیس وغیرہ المبنی علی تلك الروایۃ احتلمت ولم یخرج منھا الماء فردوا علیہا بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نعم اذا رأت الماء علق ایجاب الغسل علیہا برؤیہ الماء فکیف یجب ولم یخرج ۔
فاشار المحقق الی الجواب عنہ بان وجدان الماء شرط بالاجماع ولاتنکرہ ھذہ الروایۃ انما نشأ الخلاف من واد اخر وذلك ان العلم بالشیئ قد یحصل بنفسہ وقد یحصل بالعلم بسببہ فالروایۃ الظاھرۃ شرطت العلم بالوجہ الاول وقالت لاغسل علیہا وان وجدت لذۃ الامناء مالم تحس بمنی خرج من فرجہا الداخل سواء کان الاحساس بالبصر اوباللمس کما ھو فی الرجل بالاتفاق و روایۃ محمد
انکار ہے نہ اس سے انکار ہے کہ کلامِ تجنیس اس پر مبنی ہے جو امام محمدسے ایك روایت ہے۔ نہ ہی بیان اتفاق سے ان کا مقصد اظہارِ مطابقت ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھا کہ اس روایت میں امام محمداحتلامِ زن میں وجود منی کی شرط قرار نہیں دیتے کیونکہ اس روایت پر مبنی تجنیس وغیرہ کے کلام میں یہ آیا ہے کہ “ عورت کو احتلام ہوا اور اس نے پانی نہ دیکھا “ ۔ یہ سمجھ کران حضرات نے اس روایت پر اس حدیث سے رد کیاکہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے : “ ہاں جب وہ پانی دیکھے “ ۔ سرکار نے وجوبِ غسل کو پانی دیکھنے سے مشروط فرمایا۔ تو اس صورت میں غسل کیسے واجب ہوسکتا ہے جب پانی نہ نکلا ہو۔
حضرت محقق نے اس کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ منی کا پایا جانا بالاجماع شرط ہے اور اس روایت میں بھی اس کا انکار نہیں ہے۔ اختلاف ایك دوسری جگہ سے رونما ہوا ہے وہ یہ کہ شیئ کا علم کبھی خود شیئ سے ہوتاہے اور کبھی اس کے سبب کے علم سے ہوتاہے۔ روایت ظاہرہ میں بطریق اول علم کی شرط ہے اور اس میں یہ حکم ہے کہ عورت پر غسل نہیں اگرچہ اسے لذتِ انزال محسوس ہوجب تك کہ یہ محسوس نہ کرے کہ منی اس کی فرج داخل سے باہر آئی ، یہ احساس خواہ دیکھنے سے ہویا چھُونے سے ہو۔ جیسا کہ مرد کے بارے میں بالا تفاق یہ شرط ہے۔ اور اما م محمدکی
فرقت بینہا وبین الرجل بما بینا فاجتزت فیہا بالعلم بلذۃ الانزال وجعلتہ علما بخروج المنی وان لم تحس منیا خارج فرجہا ھذا مراد الکلام فاین فیہ رفع الخلاف او انکار ابتناء کلام التجنیس علی الروایۃ النادرۃ۔
ولو رأیتم فــــ۱ “ فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ لعلمتم انہ یبقی الخلاف ویرید الترجیح لارفع الخلاف وابداء التوفیق ولکن سبحٰن من لایزل۔
قولکم لایخفی ان غیر محمد لایقول [2]الخ اقول : بلی فــــ۲ ان غیر محمد بل و محمدا ایضا فی ظاھر الروایۃ یقول بعدم الوجوب اذا لم یحط علمہا بنفس خروج
روایت میں ، عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے اس طورپرجو ہم نے بیان کیا۔ یہ روایت عورت کے بارے میں لذتِ انزال کے علم کو کافی قرار دیتی ہے اور اسی کوخروجِ منی کا علم مانتی ہے اگرچہ عورت فرج خارج میں منی محسوس نہ کرے۔ یہ ہے حضرت محقق کے کلام کی مراد۔ اس میں اختلاف کو ختم کرنا یا کلام تجنیس کی روایت نادرہ پر مبنی ہونے کا انکار کہاں ہے؟
اگر آپ ان کی یہ عبارت ملاحظہ کرتے “ فعلی ھذا الا وجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ ( اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو) توآپ کو معلوم ہوتاکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ اختلاف باقی ہے اور ترجیح دینا چاہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ اختلاف اٹھانا اور تطبیق دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن پاك ہے وہ ذات جسے لغزش نہیں ۔
علامہ شامی : مخفی نہ ہوگا کہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدمِ وجوب کے قائل نہیں اقول : کیوں نہیں امام محمد کے علاوہ حضرات اور خود امام محمد بھی ظاہرالروایہ میں عدمِ وجوب کے قائل ہیں جب عورت کو نفس خروج کا پورے طور پر
فـــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
المنی اصالۃ وفی النادرۃ یقول بالوجوب اذا علمت وجود المنی علما فقہیا بوجدان لذۃ الانزال
قولکم الا ان یکون مرادہ الاعتراض [3] اقول : لم یردہ ولم فـــــ۱ یرد الخلاف بل اراد الجواب عما اورد علی محمد من مخالفۃ الحدیث بان الرؤیۃ فی الحدیث علمیۃ اجماعا ولا یسع احدا ان یخالف فیہ وھو اذن یعم العلم الحاصل بسبب العلم بالسبب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع