30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : فقول فـــ۱ ١المنیۃ قال محمد لیس کما ینبغی وحمل الامام برھان الدین فی تجنیسہ ھذہ الروایۃ علی ما اذا وجدت لذۃ الانزال ثم اختارھا معللا بان ماء ھا لایکون وافقا کماء الرجل وانما ینزل من صدرھا [1] اھ واعتمدہ البزازی فی الوجیز فجزم بالوجوب قال وقیل لا یلزمھا کالرجل [2]اھ
اقول : واغرب فیفــــ۲السراجیۃ فقال علیھا الغسل افتی ابو بکر بن الفضل البخاری وعن محمد انہ لایجب [3]اھ فجعل الظاھرنادرا والنادر ظاھرا و حکی روایۃ محمدکقول الکل وجعل قول الکل روایۃ عن محمد ثم ان المحقق ایضا
اقول : تو(روایت نوادر سے متعلق ۱۲م) منیہ کا قول : قال محمد(امام محمد نے فرمایا) مناسب نہیں ۔ اور امام برہان الدین نے اپنی کتاب تجنیس میں اس روایت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب عورت لذتِ انزال محسوس کرے۔ پھر انہوں نے اسی روایت کو اختیار کیا یہ علّت بیان کرتے ہوئے کہ عورت کا پانی مرد کے پانی کی طرح دفق اور جست والا نہیں ہوتاوہ اس کے سینے سے اترتا ہے اھ۔ اور اس پر بزازی نے وجیز میں اعتماد کرکے وجوب غسل پر جزم کیاپھر لکھاکہ “ اورکہاگیااس پر غسل لازم نہیں جیسے مردپر لازم نہیں ۔ اھ۔
اقول : اور سراجیہ میں توعجیب روش اختیار کی۔ اس میں لکھا : اس عورت پر غسل ہے۔ اسی پر ابو بکر بن الفضل بخاری نے فتوٰی دیا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ۔ اھ۔ یوں لکھ کر ظاہرالرویہ کو نادر اور نادر کو ظاہر بنا دیا اور امام محمد کی روایت کی حکایت اس طرح کی جیسے یہ تینوں ائمہ کا قول ہو اور جو سب کا قول تھا اسے امام محمد سے ایك روایت
فـــ۱١ : تطفل علی المنیۃ۔ فـــ۲ : تطفل علی السراجیہ۔
استوجہہ فی الفتح وللامام الزیلعی فی التبیین ایضا میل الی اختیارھا حیث قدمہا جازما بھا واخردلیلہا وعلله اکالتجنیس بقولہ لان ماء ھا ینزل من صدرھا الی رحمہا بخلاف الرجل حیث یشترط الظہور الی ظاھر الفرج فی حقہ حقیقۃ [4] اھ فھذا ماوجدت الان فی تشیید ھذہ الروایۃ۔
اما التعلیل فاقول : حاصلہ ان منی المرأۃ وان کان لہ دفق لشہادۃ قولہ تعالی “
مَّآءٍ دَافِقٍۙ(۶) یَّخْرُ جُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىٕبِؕ(۷) “ [5] لکن لاکمنی الرجل وذلك لانہ ینزل من صلبہ الی انثییہ الی ذکرہ وھو طریق ذوعوج فلولم یندفع بقوۃ شدیدۃ لبقی فی بعض الطریق بخلاف منیہافانہ ینزل من ترائبہاالی رحمہا وھو طریق مستقیم فکان یکفیہ
قراردے دیا۔ پھر حـضرت محقق نے بھی فتح القدیر میں ا س کوباوجہ قراردیاہے۔ اور تبیین میں امام زیلعی کا بھی اس کی ترجیح کی جانب میلان ہے اس طرح کہ جزم فرماتے ہوئے اسے پہلے ذکر کیاہے اور اس کی دلیل بعد میں ذکرکی۔ اور تجنیس کی طرح ان الفاظ سے اس کی تعلیل فرمائی ہے : اس لئے کہ اس کا پانی سینے سے رحم کی جانب اترتاہے ، اور مرد کا یہ حال نہیں کیونکہ اس کے حق میں بیرون شرم گاہ حقیقۃً ظاہر ہونا شرط ہے ۔ اھ۔ یہ وہ ہے جو میں نے اس وقت اس روایت کی تائید میں پایا۔
لیکن تعلیل تو میں کہتا ہوں اس کاحاصل یہ ہے کہ عورت کی منی میں اگر چہ کچھ دفق(جست) ہوتا ہے جس کی شہادت ارشادِ باری تعالٰی : “ اچھلتاپانی جو پشت اور سینے کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے “ ہے لیکن وہ مرد کی منی کی طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ اس کی پشت سے انثیین پھر ذکر کی جانب اترتی ہے۔ یہ ایك پیچیدہ راستہ ہے۔ اس لئے وہ اگر شدید قوت کے ساتھ دفع نہ ہوتوراستے ہی میں رہ جائے بخلاف عورت کی منی کے۔ اس لئے کہ وہ اس کے سینے کی پسلیوں سے رحم کی جانب اترتی ہے ، یہ سیدھاراستہ ہے ، تو اس کے لئے
السیلان غیران نزولہ بحرارۃ فلزمہ نوع دفق ولاوجہ لانکارہ فانہ مشہودمعلوم۔
ولکن العجب من المدقق العلائی حیث قال لم یذکر الدفق لیشمل منی المرأۃ لان الدفق فیہ غیر ظاھرامااسنادہ الیہ فی الایۃ فیحتمل التغلیب فالمستدل بہا کالقہستانی تبعا لاخی چلپی غیر مصیب تامل[6] اھ
اقول : فــــالنصوص تحمل علی ظواھرھامالم یصرف عنہادلیل فاحتمال التغلیب محتاج الی اثبات عدم الدفق فی منیہا واذلا دلیل فلا سبیل الا الاحتمال فلا اخذ علی الاستدلال۔
بہناکافی ہے مگر یہ ہے کہ اس کااترناکچھ حرارت کے ساتھ ہوتاہے تو ایك طرح کا دفق اسے بھی لازم ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ، اس لئے کہ یہ معلوم ومشاہد ہے۔
لیکن مدقق علائی پر تعجب ہے کہ وہ یوں لکھتے ہیں : دفق ذکر نہ کیاتاکہ عورت کی منی کو بھی شامل رہے اس لئے کہ اس میں دفق غیر ظاہر ہے۔ رہایہ کہ اس کی جانب بھی آیت میں دفق کی نسبت موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ نسبت بطور تغلیب ہو(کہ دراصل صرف مرد کی منی میں دفق ہوتاہے اسی لحاظ سے اس پانی کو مطلقا دفق والا فرمادیا گیا١٢م)تو اثباتِ دفق میں اس آیت سے استدلال کرنے والا درستی پر نہیں ۔ جیسے قہستانی نے اخی چلپی کی تبعیت میں اس سے استدلال کیاہے۔ تامل کرو ، اھ۔ (درمختار)
اقول : نصوص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوں گے جب تك کہ کوئی دلیل ظاہرسے پھیرنے والی موجود نہ ہو۔ تو تغلیب کا احتمال اس کا محتاج ہےکہ پہلے عورت کی منی میں عدمِ دفق ثابت کیا جائے۔ اور جب ا س پر کوئی دلیل نہیں تو احتمال کی کوئی سبیل نہیں ، لہذا استدلال پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی۔
فــــ : تطفل علی الدر۔
قال العلامۃ ط الدلیل اذا طرقہ الاحتمال سقط بہ الاستدلال [7] اھ
اقول : الاحتمال فــــ۱ اذا لم یدل دلیل علیہ لم ینظرالیہ وکان المدقق رحمہ الله تعالی الی ھذااشار بقولہ تامل۔
وقال العلامۃ ش لعلہ یشیر الی امکان الجواب لان کون الدفق منہاغیرظاھریشعر بان فیہ دفقا وان لم یکن کالرجل افادہ ابن عبدالرزاق [8] اھ
اقول : لو انفــــ۲المدقق اراد ھذالناقض اول کلامہ اخرہ بل لم فـــ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع