دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

ہرگز کافی نہیں ۔
(
۱۴)کلائی کا ہربال جڑ سے نوك تک۔ ایسا نہ ہو کہ کھڑے بالوں کی جڑ میں پانی گزر جائے نوکیں رہ جائیں ۔
(
۱۵) آرسی ، چھلّے اور کلائی کے ہر گہنے کے نیچے۔

(۱۶) عورتوں کو پھنسی چُوڑیوں کا شوق ہوتا ہے اُنہیں ہٹا ہٹا کر پانی بہائیں ۔
(
۱۷) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے پوروں کے سرے گزار دینا اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔
(
۱۸) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں ۔
(
۱۹) یہاں انگلیوں کی کروٹیں زیادہ قابلِ لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں ۔
(
۲۰) ناخنوں کے اندر کوئی سخت چیز نہ ہو۔
(
۲۱) پاؤوں کے چھلّے اور جو گہنا گٹوں پر یا گٹوں سے نیچے ہو اس کے نیچے سیلان شرط ہے۔
(
۲۲) گٹّے۔
(
۲۳) تلوے۔
(
۲۴) ایڑیاں ۔
(
۲۵) کونچیں خاص فــــ بہ مردان۔

(۲۶) مونچھیں ۔

(۲۷) صحیح مذہب میں ساری داڑھی دھونا فرض ہے یعنی جتنی چہرے کی حد میں ہے نہ لٹکی ہوئی کہ ہاتھ سے گلے کی طرف کو دباؤ تو ٹھوڑی کے اُس حصّے سے نکل جائے جس پر دانت جمے ہیں کہ اس کا صرف مسح سنّت اور دھونا مستحب ہے۔

(۲۸ و ۲۹) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا۔
(
۳۰) مونچھیں بڑھ کر لبوں کو چھپالیں تو انہیں ہٹا ہٹا کر لبوں کی کھال دھونا اگرچہ مونچھیں کیسی ہی گھنی ہوں ۔

درمختار میں ہے :

ارکان الوضوء غسل الوجہ من مبدء سطح جبھتہ الی منبت

ارکان وضو یہ ہیں : چہرے کو لمبائی میں پیشانی کی سطح کے شروع سے نیچے کے دانتوں کے اُگنے کی

فــــ : وضو میں پانچ مواقع اورہیں جن کی احتیاط خاص مردوں پر لازم۔

اسنانہ السفلی طولا ومابین شحمتی الاذنین عرضافیجب غسل المیاقی ومایظھر من الشفۃ عند انضمامھا(الطبیعی لاعند انضمامھا بشدۃ وتکلف اھ ح وکذالوغمض عینیہ شدیدا لا یجوزبحر) وغسل جمیع اللحیۃ فرض علی المذھب الصحیح المفتی بہ المرجوع الیہ وما عداھذہ الروایۃ مرجوع عنہ ثم لاخلاف ان المسترسل(وفسرہ ابن حجر فی شرح المنھاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ ثم رأیت المصنف فی شرحہ علی زادالفقیرقال وفی المجتبی قال البقالی ومانزل من شعراللحیۃ من الذقن لیس من الوجہ عندناخلافاللشافعی اھ) لایجب غسلہ ولا مسحہ بل یسن (المسح) وان الخفیفۃ التی تری بشرتھا یجب غسل ماتحتھا نھر وفی البرھان یجب غسل بشرۃ لم یسترھا الشعر                                                                                                                         

جگہ تک ، اور چوڑائی میں ایك کان کی لُو سے دوسرے کان کی لُو تك جتناحصہ ہے سب دھونا-توآنکھوں کے گوشوں کو دھونا ضروری ہے اور لب کا وہ حصہ بھی جو لب بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے (یعنی طبعی طور پر بندہونے کے وقت ، شدت اور تکلیف سے بند کرنے کے وقت نہیں ، اھ ، حلبی - اسی طرح اگر وقتِ وضو آنکھیں سختی سے بند کرلیں تو وضو نہ ہوگا - بحر-) اور پوری داڑھی کا دھونا فرض ہے - مذہبِ صحیح مُفتی بہ پر- جس کی طرف امام نے رجوع کرلیا ہے۔ اور اس کے علاوہ جو روایت ہے اس سے رجوع ہوچکا ہے ۔ پھر اس میں اختلاف نہیں کہ داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا یا مسح کرنا فرض نہیں بلکہ ( اس کا مسح ) مسنون ہے۔ ( مستر سل ، لٹکتے بالوں ، کی تفسیر علامہ ابن حجر شافعی نے شرح منہاج میں یہ لکھی ہے : بالوں کا وہ حصہ جو نیچے کو پھیلایا جائے تو چہرے کے دائرے سے باہر ہوجائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مصنف نے زاد الفقیرکی شرح میں یہ لکھا ہے : مجتبی میں ہے کہ بقالی نے کہا : داڑھی کے وہ بال جو ٹھوڑی سے نیچے ہیں وہ امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك چہرے میں شمار نہیں اھ)ہلکی داڑھی جس کی جلد نظر آتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا فرض ہے ، نہر۔ اور برہان میں ہے : مذہب مختار میں اس جلد کو دھونا فرض ہے جو بالوں سے چُھپی ہوئی نہیں ہے

کحاجب وشارب وعنفقۃ فی المختار(ویستثنی منہ ما اذا کان الشارب طویلا یسترحمرۃ الشفتین لما فی السراجیۃ من ان تخلیل الشارب الساتر حمرۃ الشفتین واجب ([1]))اھ ملخصا مزیدا ما بین الاھلۃ من ردالمحتار۔

قلت :  واستحبابی غسل المسترسل نظرا الی خلاف الامام الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ لما نصوافــ علیہ من ان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع مالم یرتکب مکروہ مذھبہ کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ ([2])

جیسے بھووں ، مونچھوں اور بچیّ کے بالوں سے  [نہ چھپنے والی جلد ۱۲م] اس سے وہ صو رت مستثنی ہے جب مونچھیں اتنی لمبی ہوں کہ لبوں کی سُرخی کو چھپالیں ، کیونکہ سراجیہ میں ہے کہ لبوں کی سُرخی کو چھپالینے والی مونچھوں کا خلال کرنا یعنی ہٹا کر لب کی جلد دھونا فرض ہے)اھ۔ درمختار کی عبارت تلخیص اور ہلالین کے درمیان رد المحتار سے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔

قلت داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کو دھونا ، میں نے امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اختلاف کا لحاظ کرتے ہوئے مستحب کہا اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ صورتِ اختلاف سے بچنا بالا جماع مستحب ہے بشرطیکہ اس میں اپنے مذہب کے کسی مکروہ کاارتکاب نہ ہو ، جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔

اُسی میں ہے :

سننہ تخلیل اصابع الیدین والرجلین وھذا بعد

ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال سنت ہے یہ اس وقت ہے جب پانی

 



[1]   الدرالمختار کتاب الطہارت ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۸ ،۱۹ ، ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶ تا۶۹

[2]   الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن