30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اما الاول فمع عدم وفائہ بالمقصودلان لزوم المنویۃ للشھوۃ یہ عبارت ویسی اس لئے نہیں کہ حذف (پھینکنے) میں دفق (جست کرنا)ہوتاہے اور وہ شہوت ہی سے ہوتاہے ، نفس خروج منی میں ایسا نہیں ۔ اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ متون ، شروح ، فتاوٰی تمام ترکتابوں میں غسل واجب کرنے والی منی کے ساتھ شہوت والی ہونے کی قید لگی ہوئی ہے۔ اور یہ احترازی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب ضرب سے یا گرنے سے وزنی چیز اٹھانے سے بلا شہوت منی نکل آئے تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
رہا حضرت محقق کا کلام ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے استدلال اس پر چند کلام ہے۔
اقول : اول ہماری ماں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاان پانیوں کی تعریف ان کے اکثری خواص سے کرناچاہتی ہیں اور خاص سے تعریف روا اور عام ہے خصوصًا زمانہ اولی میں ۔
ثانی ضابطہ سے کیامراد ہے؟۔ پانیوں کی جانب سے صدق کلی ، یا خواص کی جانب سے ، یا ونوں جانب سے ؟ کوئی بھی درست نہیں ۔
اول اس لئے کہ ایك تو اس سے مقصد حاصل نہیں کیوں کہ اگر شہوت کو منی ہونالازم بھی ہو
فـــ : تطفل علی الفتح۔
فــــ : مسئلہ : چوٹ لگنے یاگرنے بوجھ اٹھانے سے منی بے شہوت نکل جائے تو غسل نہ ہوگاصر ف وضو آئے گا۔
فـــــ : تطفل آخر علی الفتح ۔
فــ : تطفل ثالث علیہ ۔
لایستلزم لزوم الشھوۃ للمنویۃ وانما الکلام فیہ لایصح فی نفسہ لان الرجل قد یمنی بالملاعبۃ فیکون ھذا الانزال مذیا ولا یوجب الغسل وقد یمنی بشھوۃ عقیب البول کما تقدم عن المحقق فیکون ھذا الامناء ودیا ولا غسل وکلاھماخلاف للاجماع ۔
واما الثانی فلان الانتشاربنظراوفکر من دون ملاعبۃ ربمایورث الامذاء لاسیما اذا کان الرجل مذاء وھل لایمذی الاعزب ابدا اذلا مرأۃ یلاعبہامع انہاقالت کل فحل یمذی فاذا لم یفسد الضابط بالتخلف فی المذی لایفسد ایضافی المنی ۔
وثالثا وھو فــــ الطرازالمعلم والحل المحکم ان ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا لم تقل ھو الماء الاعظم الذی من الشہوۃ لیلزم ان لا یخرج منی الا بشھوۃ وانماقالت منہ
تو یہ اسے مستلزم نہیں کہ منی ہونے کو شہوت بھی لازم ہو ، اور کلام اسی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ خود بھی صحیح نہیں ( کہ جب بھی شہوت ہو تو منی بھی ہو)اس لئے کہ مرد کو کبھی ملاعبت سے منی آتی ہے تویہ انزال مذی ہوجاتاہے اور غسل واجب نہیں کرتا۔ اور کبھی اسے پیشاب کے بعد شہوت کے ساتھ منی آتی ہے۔ جیسا کہ حضرت محقق سے نقل ہوا۔ تویہ اِمنا(منی آنا) ودی قرار پاتا ہے اور غسل نہیں ہوتا۔ اور دونوں ہی خلافِ اجماع ہیں ( کیوں کہ شہوت کے ساتھ انزال اور اِمناقطعًا موجب غسل ہے)
دوم اس لئے کہ بغیر ملاعبت کے نظر یا فکر سے بھی انتشارِ آلہ سے بعض اوقات مذی آتی ہے خصوصًا جب مرد زیادہ مذی والا ہو۔ اور کیابیوی نہ رکھنے والے کو کبھی مذی نہیں آتی اس لئے کہ کوئی عورت نہیں جس سے وہ ملاعبت کرے باوجودیکہ انہوں نے فرمایا ہر نر کو مذی آتی ہے۔ تو جب مذی کے بارے میں تخلّف سے ضابطہ فاسد نہیں ہوتا تو منی میں تخلّف سے بھی فاسد نہ ہو گا۔
ثالث اور یہی نشان زدہ نقش ونگار اور محکم حل ہے۔ امّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا کہ “ یہ وہ آب اعظم ہے جو شہوت سے ہوتا ہے “ کہ یہ لازم آسکے کہ کوئی منی بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ انہوں نے تو فرمایا ہے : منہ
فـــــ : تطفل رابع علیہ ۔
الشھوۃ فانما یلزم ان لزم ان لکل منی دخلافی ایراث الشہوۃ وما یورث الشہوۃ لایلزم ان لایخرج الابھافقد یعتریہ عارض یزیلہ عن مکانہ بدون شہوۃ ولا شك ان تخلق المنی فی البدن ھو الذی یولد الشھوۃ لتوجہ الطبع الی دفع تلك الفضلۃ فالمنی وان خرج لعارض بغیر شھوۃ لایخرج من انہ الماء الذی یولد الشھوۃ لایبعد ان ویکون لك جزء منہ دخل فیما لان کلہ فضلہ ومن المعلوم انہ کلما ازدادالمنی تزدادالشھوۃ ۔
فقول ام المؤمنین لایمس مااراد المحقق ولکن لاغروفلکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ وابی الله الصحۃ کلیۃ الالکلامہ وکلام صاحب النبوۃ صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ اولی الفتوۃ ونسأل المولی سبحنہ وتعالی عافیتہ وعفوہ۔
الشھوۃ “ اس سے شہوت ہوتی ہے۔ اس سے اگر لازم آئے گا تو یہی لازم آئے گا کہ ہر منی کو شہوت پیدا کرنے میں کچھ دخل ہوتاہے۔ اور جوچیزشہوت کو پید ا کرنے والی ہوضروری نہیں کہ شہوت کے ساتھ ہی نکلے۔ ایسا بھی عارض درپیش ہوگا جو اسے اس کی جگہ سے بغیر شہوت کے ہٹادے۔ اور اس میں شك نہیں کہ بدن میں منی کاپیدا ہونا ہی شہوت کی تولید کرتاہے کیوں کہ طبیعت اس فضلہ کو دفع کرنے کی جانب متوجہ ہوتی ہے۔ تو منی اگرچہ کسی عارض کے باعث بلا شہوت نکلی ہو مگر اس سے باہر نہ ہوگی کہ یہ وہ پانی ہے جو شہوت پیدا کرتاہے۔ اور بعید نہیں کہ اس کے ہر جُز کو شہوت میں کچھ دخل ہو اس لئے کہ ہر جُز فضلہ ہی ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب منی زیادہ ہوتی ہے شہوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تو اُم المومنین کے ارشاد کو حضرت محقق کی مراد سے کوئی مس نہیں ۔ مگر تعجب کی بات نہیں ا س لئے کہ (عرب نے کہا ہے) ہر اسپ خوش رفتار ٹھوکر بھی کھاتا ہے ، اورہر شمشیر براں ناموافق بھی ہوجاتی ہے ، اور خدا کو اپنے کلام اور اپنے نبی کے کلام کے سوا کسی اور کلام کی بالکلیہ صحت منظور نہیں ۔ خدا ئے برتر کا درودوسلام ہو حضرت نبی اور ان کے جوانمردآل واصحاب پر۔ اور ہم مولا ئے پاك وبرتر سے اس کی عافیت وعفو کے طالب ہیں ۔
الثانی عشر المرأۃ فـــ ۱ کالرجل فی الاحتلام نص علیہ محمد کمافی مختصر الامام الحاکم الشہید فان احتلمت ولم تربللا لاغسل علیہا ھو المذھب کما فی البحروالدر وبہ یؤخذ قالہ شمس الائمۃ الحلوانی وھوالصحیح قالہ فی الخلاصۃ وعلیہ الفتوی قالہ فی معراج الدرایۃ والبحر والمجتبی والحلیۃ والہندیۃ وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ فقیہ النفس فی الخانیۃ فلا تعویل علی ماروی عن محمد انہا یجب علیہاالغسل احتیاطا وھذہ غیر روایۃ الاصول عنہ فان محمدانص فی الاصل ان المرأۃ اذا احتملت لایجب علیہا الغسل حتی تری مثل مایری الرجل کما فی الحلیۃ [1] عن الذخیرۃ۔
بارھویں تنبیہ : احتلام کے معاملے میں عورت بھی مرد ہی کی طرح ہے۔ امام محمد نے اس کی تصریح فرمائی ہے ، جیسا کہ امام حاکم شہید کی مختصر میں ہے۔ تو اگرعورت کو احتلام ہواور تری نہ دیکھے تو اس پرغسل نہیں ۔ یہی مذہب ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق ودرمختار میں ہے۔ اور اسی کولیاجائے گا ، یہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا۔ یہی صحیح ہے۔ یہ خلاصہ میں فرمایا۔ اسی پر فتوٰی ہے۔ یہ معراج الدرایہ ، البحر الرائق ، مجتبی ، حلیہ اور ہندیہ میں کہا۔ اور اسی پر فقیہ ابو جعفر نے فتوٰی دیا۔ اسی پر فقیہ النفس نے خانیہ میں اعتماد فرمایا۔ تو اس پر اعتماد نہیں جو امام محمد سے ایك روایت ہے کہ اس عورت پر احتیاطًا غسل واجب ہے۔ یہ روایت امام محمد سے روایت اصول کے علاوہ ہے۔ اس لئے کہ امام محمد نے مبسوط میں نص فرمایا ہے کہ عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب نہیں یہاں تك کہ اسی کے مثل دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : عورت کو اگر احتلام یاد ہو اور جاگ کر تری نہ پائے تو مرد کی طرح اس پر بھی غسل نہیں اور اسی پر فتوٰی ، اور بعض مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ اگر خواب میں انزال ہونے کی لذت یاد ہو تو غسل واجب ہے بعض فرماتے ہیں کہ اس وقت چت لیٹی ہو تو غسل واجب ہے لہذا ان صورتوں میں بہتر یہ ہے کہ نہالے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع