30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقیقی ہے توایسا نہیں ۔ جواس کامدعی ہو وہ اس کے ثبوت میں دعوٰی سے زیادہ کچھ پیش نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ قابلِ قبول نہیں ۔ اور اعتبار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے یہ مختلف ہوتا رہا ہے ۔ دیکھئے ہماری شریعت میں شراب کی نجاست کا حکم ہے اور
فعلم انہا لیست سوی اعتبار شرعی الزم معہ کذاالی غایۃ کذا ابتلاء[1] اھ ولا عطر بعد عروس ۔
الحادی عشر : عدم وجوب الغسل بمنی خرج بعدالبول ونحوہ من دون الشھوۃ وقع تعلیلہ فی مصفی الامام النسفی رحمہ الله تعالی بانہ مذی ولیس بمنی لان البول والنوم والمشی یقطع مادۃ الشھوۃ[2] اھ نقلہ فی البحر واقر۔
اقول : وفیہ نظر فــــ۱ ظاھر فان صورۃ المنی لاتکون قط للمذی وفی قولہ رحمہ الله تعالی انھا تقطع مادۃ الشھوۃ تسامح فـــ۲ واضح وانما تقطع مادۃ المنی المنفصل فیؤمن بھا ان یکون الخارج بعدھا بقیۃ منی کان نزل بشھوۃ وھذا ھو الصحیح فی تعلیل المسألۃ کماافادہ فی التبیین دوسری شریعت میں اس کی طہارت کاحکم رہا ہے تومعلوم ہوا کہ یہ نجاست صرف ایك اعتبار شرعی ہے جس کے ساتھ شریعت نے آزمائش کے لئے فلاں چیز فلاں حدتك لازم فرمائی ہے اھ۔ ولاعطر بعد عروس۔ (اس صاف تصریح کے بعد مزید تو ضیح واثبات کی حاجت ہی نہیں ۱۲)۔
گیارھویں تنبیہ : پیشاب وغیرہ کے بعد بلاشہوت نکلنے والی منی غسل واجب نہ ہونے کی تعلیل امام نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی مصفّی میں یہ واقع ہوئی کہ وہ مذی ہے ، منی نہیں ہے۔ اس لئے کہ پیشاب ، نیند ، اورچلنا مادہ شہوت قطع کردیتاہے اھ۔ اسے بحر میں نقل کر کے بر قرار رکھا۔
اقول : یہ واضح طور پر محلِ نظر ہے۔ اس لئے کہ منی کی صورت ، مذی کے لئے کبھی نہیں ہوتی۔ اور امام موصوف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام “ یہ سب مادہ شہوت کو قطع کردیتے ہیں “ میں کھلا ہوا تسامح ہے۔ یہ چیزیں صرف جدا ہونے والی منی کا مادہ منقطع کردیتی ہیں تو ان کے باعث اس بات سے اطمینان ہوجاتا ہے کہ ان کے بعدنکلنے والی چیزاس منی کا بقیہ حصہ ہوجو شہوت کے ساتھ اُتری تھی۔ اور یہی مسئلہ کی صحیح تعلیل ہے جیسا کہ تبیین وغیرہ
فـــ۱ : تطفل علی المصفی والبحر۔
فـــــ۲ : تطفل آخر علیہما۔
وغیرہ فان لیس خروج کل منی مجنبا بل منی نزل عن شھوۃ وقد انقطع مادتہ بہا فالخارج الان منیا منی قطعا لکن غیر نازل عن شھوۃ فلایوجب الغسل خلافا للامام الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ۔
فان قلت الیس افاد فی الفتح ان مانزل عن غیر شھوۃ لایکون منیا قال رحمہ الله تعالٰی کون المنی عن غیر شھوۃ ممنوع فان عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہا اخذت فی تفسیرھا ایاہ الشھوۃ قال ابن المنذر حدثنا محمد بن یحیی حدثنا ابو حنیفۃ حدثنا عکرمۃ عن عبدربہ بن موسٰی عن امہ انھا سألت عائشۃ رضی الله تعالی عنھا عن المذی فقالت ان کل فحل یمذی وانہ المذی والودی والمنی فاماالمذی فالرجل یلاعب امراتہ فیظہر علی ذکرہ الشیئ فیغسل ذکرہ وانثییہ ویتوضأولا یغتسل واماالودی فانہ یکون بعد البول یغسل ذکرہ وانثییہ
میں اس کا افادہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ہر منی کانکلنا جنابت لانے والا نہیں ، بلکہ صرف وہ منی سببِ جنابت ہوتی ہے جو شہوت سے اتری ہواور مذکورہ چیزوں سے اس کامادہ منقطع ہوگیا۔ تو اس وقت منی کی صورت میں نکلنے والی چیزقطعًا منی ہی ہے لیکن وہ شہوت سے اترنے والی نہیں اس لئے موجبِ غسل نہیں بخلاف امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے۔
اگر یہ سوال ہو کہ کیا فتح القدیر میں افادہ نہیں فرمایا ہے جو بلا شہوت نکلے وہ منی نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں : منی کا بغیر شہوت ہونا تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اس کی جو تفسیر کی ہے اس میں شہوت کو لیا ہے۔ ابن المنذر نے کہا ہم سے محمد بن یحیٰی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا ہم سے ابو حنیفہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہاہم سے عکرمہ نے حدیث بیا ن کی ، انہوں نے عبدالله بن موسٰی سے ، انہوں نے اپنی ماں سے روایت کی ، کہ انہوں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایاہرنر کو مذی آتی ہے۔ اور مذی ، ودی ، منی تین چیزیں ہیں ۔ مذی یہ کہ مرد اپنی بیوی سے ملاعبت کرتاہے تواس کے ذکر پر کچھ ظاہر ہوجاتاہے ۔ وہ اپنے ذکر اور انثیین کو دھوئے اور وضو کر ے ، اسے غسل نہیں کرنا ہے۔ اور ودی پیشاب کے بعد آتی ہے ۔ ذکر اور انثیین کو دھوئے گا
ویتوضأولایغتسل واماالمنی فانہ الماء الاعظم الذی منہ الشھوۃ وفیہ الغسل و روی عبدالرزاق فی مصنفہ عن قتادۃ وعکرمۃ نحوہ فلایتصورمنی الامن خروجہ بشھوۃ والافیفسد الضابط الذی وضعتہ لتمییز المیاہ لتعطی احکامھا ١[3] اھ
قلت علی تسلیمہ ایضا لایصح جعلہ مذیا بل ان کان فلخروجہ بعد البول ودیا۔
علا ان ما افادالمحقق شیئ تفردبہ لااظن احداسبقہ الیہ اوتبعہ علیہ وقول التبیین قال صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاحذفت الماء فاغتسل وان لم تکن حاذفا فلا تغتسل فاعتبر الحذف وھو لایکون الا بالشھوۃ [4] اھ او روضو کرے گا ، غسل نہیں کرنا ہے ۔ لیکن منی تو وہ آب اعظم ہے جس سے شہوت ہوتی ہے اور اسی میں غسل ہے۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنّف میں حضرت قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ نکلے بغیر منی ہونا متصور نہیں ۔ ورنہ وہ ضابطہ ہی فاسد ہوجائے گاجو ام المومنین نے احکام بتانے کے لئے پانیوں کے باہمی امتیاز کے لے وضع کیا ۔ اھ۔
قلتُ (میں جواب دوں گا) اس کلام محقق کو اگر تسلیم کرلیاجائے تو بھی اسے (پیشاب وغیرہ کے بعد نکلنے والی منی کو)مذی قرار دینا درست نہیں ۔ بلکہ اگر وہ ہو سکتی ہے تو پیشاب کے بعد نکلنے کی وجہ سے ودی ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں حضرت محقق نے جو افادہ کیا اس میں وہ متفرد ہیں ۔ میرے خیال میں ان سے پہلے کسی نے یہ بات نہ کہی اور نہ ان کے بعد اس میں کسی نے ان کی پیروی کی۔ اور تبیین کی یہ عبارت کلامِ فتح کی طرح نہیں ، تبیین میں ہے : حضور اقدس نے فرمایا جب تو پانی پھینکے تو غسل کر ، اور اگر پھینکنے والانہ ہو توغسل نہ کر۔ تو حضور نے پھینکنے کا اعتبار فرمایا اور یہ شہوت ہی کے ساتھ ہوتاہے ۔ اھ۔
لیس کمثلہ لمن تأمل ففی الحذف الدفق ولا یکون الا بشھوۃ بخلاف نفس خروج المنی کیف فـــ۱ وقد نطقت الکتب عن اخرھا متونھا و شرو حہاوفتاوٰھا بتقیید المنی الذی یوجب الغسل بکونہ ذاشہوۃ وان ھذاالقیداحترازی وان المنی فـــ۲اذا خرج من ضربۃ اوسقطۃ اوحمل ثقیل من دون شھوۃ لایوجب الغسل ۔
امااحتجاجہ بقول ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا ۔
فاقول : فیہ فــــ۳ اولا ان امناانماترید تعریف المیاہ بخواص لہا اغلبیۃ والتعریف بالخاص سائغ شائع لاسیما فی الصدر الاول
وثانیا ماذا یراد فـــ۴٤ بالضابط اٰالصدق الکلی من جانب المیاہ اوالخواص اوالجانبین والکل منقوض ۔
[1] فتح القدیر1کتاب الطہارۃ1باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر1۱ / ۷۵
[2] البحرالرائق بحوالہ المصفی ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۵
[3] فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳،۵۴
[4] تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ1دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع