دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فـــ۱  : تطفل علی ابن کثیر۔
فـــ
۲ : مسئلہ : زوج کی منی اگر عورت کی فرج سے نکلے تو اس پر وضو واجب ہوگا اس کے سبب غسل نہ ہوگا۔

استعمال المزیل کما قال الفتح والبحر وغیرھما فی حدالحدث اذلافـــ١ حاجۃ الیہ فان زوال المنع بزوال المانع مما لاحاجۃ الی التنبیہ علیہ فضلا عن الاحتیاج الی اخذہ فی الحد فافھم ۔

واقتصرت مما یمنع بھا علی التلاوۃ لعدم الحاجۃ الی استیعاب الممنوعات فی التعریف وانما ذلك عند تعریف الاحکام۔

اقول :  والحاجۃ الٰی ذکرہ اخراج نجاسۃ المنی الحقیقیۃ وحکم البلوغ باول انزال الصبی واخترت القراٰن        

عورت سے نکلے اور عورت جنابت زدہ بالکل نہ ہو مثلًا اس نے نصف حشفہ داخل کیا پھر باہر اس سے منی نکلی جو عورت کی شرم گاہ میں چلی گئی پھر باہر آئی۔ اور میں نے “ الٰی غایۃ استعمال المزیل “ نہ کہا جیسا کہ فتح وبحر وغیرہما میں حدث کی تعریف میں کہا ہے( یعنی یہ کہ شریعت نے اس وصف کومانع قرار دیاہے جب تك کہ مکلف اس وصف کو “ زائل کرنے والی چیز استعمال نہ کرلے “ مثلًا غسل یا تیمم جنابت نہ کرلے۱۲م)اس لئے کہ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ مانع ختم ہوجانے سے ممانعت کا ختم ہوجانا خود ہی ظاہر ہے اس پر تو تنبیہ کی حاجت نہیں ، کسی تعریف میں اسے داخل کرنے کی حاجت کیا ہوگی؟۔ اسے سمجھ لو۔

جنابت کی وجہ سے شرعًا جو چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں ان میں صرف تلاوت کے ذکر پر میں نے اکتفا کی ، اس لئے کہ تعریف کے اندر ممنوعات کا احاطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ ضرورت تو احکام بتانے کے وقت ہے (کہا جاسکتاہے کہ مانع تلاوت ہونے کا ذکر کرنے کی بھی کیا حاجت؟ اس کے جواب میں کہا ۱۲م) :

اقول : اس کے ذکر کی حاجت یہ ہے کہ منی کی نجاستِ حقیقیہ تعریف سے خارج ہوجائے ، اوربچےّ کے پہلی بار انزال سے ہی اس کے لئے بلوغ کا حکم ہوناثابت ہوجائے۔ اور میں نے مانع نماز

فـــــ۱  : تطفل علی الفتح و البحر وغیرھما۔  

علی قربان الصلاۃ لان المنع منھالایختص بالحدث الاکبر ولم اقل قائما بظاھر بدن المکلف کی یصح الحمل علی کلامعنیی الحدث مایتجزی منہ وھی النجاسۃ الحکمیۃ القائمۃ بسطوح الاعضاء الظاھرۃ ومالا وھوتلبس المکلف بہاکمابینتہ فی الطرس المعدل فی حد الماء المستعمل ولوقلتہ لاختص بالاول۔

اقول :  وبہ ظھران فی حد الحدث المذکور فی الحلیۃ انہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ والحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما

ہونے کے بجائے مانع تلاوت ہونااختیار کیا اس لئے کہ نمازسے ممانعت حدثِ اکبر کے ساتھ خاص نہیں ۔ میں نے(قائم بمکلف کہا) “ مکلف کے ظاہر بدن کے ساتھ قائم “ نہ کہاتاکہ حدث کے دونوں معنوں پر محمول کرنا صحیح ہو سکے۔ حدث کا ایك معنٰی تو وہ ہے جس کی تجز ّی اورانقسام ہو سکتاہے۔ یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو ظاہری اعضا کی سطحوں سے لگی ہوئی ہے (اس کی تجز ی مثلًا یوں ہو سکتی ہے کہ بعض اعضا دھولئے ان سے نجاست حکمیہ دور ہوگئی اور بعض دیگر پر باقی رہ گئی ۱۲م) اور ایك معنی وہ ہے جس کی تجزی نہیں ہوسکتی۔ وہ ہے مکلف کا اس نجاست حکمیہ سے متلبس ہونا(بعض اعضا کے دھلنے سے مکلف کی ناپا کی کا حکم ختم نہیں ہوگا جب تك کہ مکمل طورپرتطہیرنہ ہوجائے۔ سب دھونے کے بعد ہی وہ پاك کہلائے گااسی طرح تیمم کی صورت میں ۱۲م )جیسا کہ میں نے اسے “ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل “ میں بیان کیاہے۔ اگر میں “ قائم بظاہرِ بدن مکلف : کہہ دیتا تو یہ تعریف صرف معنی اول کے ساتھ خاص ہوجاتی۔

اقول : اسی سے ظاہر ہوا کہ حدث کی درج ذیل تعریف جو صاحبِ حلیہ نے کی ہے اس میں کھلا ہوا تسامح ہے وہ لکھتے ہیں : “ حدث وہ وصف حکمی ہے شارع نے “ اعضا کے ساتھ جس کے قائم “ ہونے کو جنابت ، حیض ، نفاس ، پیشاب ، پاخانہ اوران دونوں کے علاوہ نواقض وضو کا مسبّب

من نواقض الوضوء ومنع من قربان الصّلاۃ ومافی معناھامعہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبرہ زائلا بہ [1] اھ

تسامحا فــــ۱ ظاھرا فی جعل الحدث مسبباعن الجنابۃ بل ھی نفسہا احد الحدثین فان وجہ بان الحد للحدث بمعنی التلبس والمراد بالجنابۃ تلك النجاسۃ الحکمیۃ ولا بعد ان یقال ان تلبسہ بھا مسبب عن وجودھا۔

قلت :  یدفعہ قولہ رحمہ الله تعالٰی قیامہ بالاعضاء فالقائم بھا ھی النجاسۃ الحکمیۃ دون تلبس المکلف بھا فلا محیدالا ان یرتکب المجاز فی الحدفیرادبھا المنی النازل عن شھوۃ۔

ثم اقول :  خلل فــــ۲ اخرفی مانعتیہ فان الواوات فی قولہ والحیض والنفاس الخ بمعنی اوفیشمل

                                                مانا ہے۔ اور اس وصف کے ساتھ نماز اور ان چیزوں کے قریب جانے سے روکا ہے جو نماز کے معنی میں ہیں اس حالت میں کہ یہ وصف جس کے ساتھ لگا ہے اس سے لگا ہوا ہو یہا ں تك کہ وہ چیز استعمال کرے جس سے شارع اس وصف کو زائل مانے “ ۔ اھ۔

تسامح اس طرح کہ حدث کو جنابت کا مسبّب قرار دیا ہے حالاں کہ خود جنابت ایك حدث ہے۔ حدثِ اکبر۔ اب اگر یہ توجیہ کی جائے کہ یہ تعریف حدث بمعنی تلبّس کی ہے اور جنابت سے مراد وہ نجاست حکمیہ ہے( جو اعضاء میں لگی ہوئی ہے۱۲م)اور بعید نہیں کہ یہ کہا جائے کہ جنابت سے مکلف کا تلبّس اُس نجاست حکمیہ کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن