دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

موجبِ غسل مانا ہے بغیر اس کے کہ وہاں منی کا کوئی احتمال ہو۔ تو احتلام اگر منی نکلنے کی قوی تردلیل نہ ہوتا تو اس منویت کا اعتبارنہ کرتے جو شکل مرئی کے لحاظ سے احتمال دراحتمال ہے۔ اس کے باوجود تمام حضرات کی تصریح ہے کہ اگر احتلام کے بعد بیداری میں مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا تو اس پرغسل نہیں ، یہ تصریح ناطق ہے کہ آنکھ کے سامنے نکلنے والی تری وہی ہے جو دیکھنے میں آر ہی ہے۔ اس مسئلہ پر ان تمام حضرات

الخلاصۃ قائلا ولورأی فی منامہ مباشرۃ امرأۃ ولم یربللا علی فراشہ فمکث ساعۃ فخرج منہ مذی لایلزمہ الغسل ([1])اھ

والعبد الفقیر راجع الخانیۃ والبزازیۃ والفتح والبحر وشرح النقایۃ للقھستانی والبرجندی والمنیۃ والغنیۃ والھندیۃ وشرح الوقایۃ والسراجیۃ والغیاثیۃ وتبیین الحقائق ومجمع الانھر وشرح مسکین وابا السعود ومراقی الفلاح و ردالمحتار وغیرھا من الاسفار فوجدتھم جمیعا انما ذکروا فی المسألۃ خروج المنی وکذا رأیتہ منقولا عن الاجناس والمحیط والذخیرۃ والمصفی والمجتبی والنھر وغیرھا ولم ار احدا ذکر المذی الاما فی خزانۃ المفتین فانہ ذکر اولا خروج بقیۃ المنی ثم قال ولو اغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا ([2]) ۔ ثم ذکر مسائل و رمز فی اخرھا (طح) ای شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی    

کی موافقت صاحبِ خلاصہ نے بھی کی ہے اور کہا ہے کہ : “ اگرخواب میں اپنے کو کسی عورت سے مباشرت کرتے دیکھا اور بستر پر کوئی تری نہ پائی پھر تھوڑی دیر رُکنے کے بعد اس سے مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں اھ۔ “

اور فقیر نے ۱خانیہ ۲ بزازیہ ۳فتح القدیر ۴البحر الرائق ۵شرح نقایہ ازقہستانی اور۶برجندی  ۷منیہ ۸ غنیہ ۹ہندیہ ۱۰ شرح وقایہ ۱۱ سراجیہ ۱۲غیاثیہ ۱۳تبیین الحقائق ۱۴مجمع الانہر ۱۵ شرح مسکین ۱۶ابو السعود ۱۷مراقی الفلاح ۱۸رد المحتار وغیرہا کتابوں کی مراجعت کی تو دیکھا کہ سب نے مذکورہ مسئلہ میں منی کا نکلنا ذکر کیا ہےیعنی یہ کہ اگر پیشاب سے پہلے غسل کرلیا پھر منی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا برخلاف خلاصہ کے کہ اس میں یہاں مذی نکلنا مذکرمذکورہے ۱۲ م  اسی طرح اس کو۱۹ اجناس ۲۰محیط ۲۱ذخیرہ ۲۲ مصفی۲۳ مجتبی۲۴النہر الفائق وغیرہا سے منقول پایا- اور کسی کو نہ دیکھا کہ یہاں مذی کا ذکر کیا ہو مگر وہ جو خزانۃ المفتین میں ہے کہ اس میں پہلے بقیہ منی کا نکلنا ذکر کیا ، پھر کہا : “ اور اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا ، پھر اس سے مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ “

اس کے بعد کچھ اور مسائل ذکر کئے اور ان کے آخر میں طح یعنی امام اسبیجابی کی شرح طحاوی کا

فھذا ھو سلف الخلاصۃ فی ما اعلم ثم رأیت فی جواھر الاخلاطی ما نصہ بال بعد الجماع فاغتسل وصلی الوقتیۃ ثم خرج بقیۃ المنی لاغسل علیہ بخلاف ما لولم یبل قبل الاغتسال علیہ الغسل عندھما وکذا بخروج المذی ([3])اھ۔

ولیس ھو فی الاعتماد کھؤلاء الاربعۃ اعنی الاسبیجابی و البخاری والسمعانی والحلبی رحمہم الله تعالٰی فلایزیدون بہ قوۃ وھم ناصون فی مسألۃ المحتلم الذی عاین خروج المذی بعدم الغسل وفاقا لسائر الکبراء فقد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ فی الحلیۃ وخزانۃ المفتین واقراہ ،   ومعلوم قطعا ان لاوجہ لہ الا ان المذی اذا خرج عیانا لایجعل قط الا مذیا کما نص علیہ الامام الاجل مفتی الثقلین والامام ابن ابی المفاخر الکرمانی والامام الفخر الزیلعی وغیرھم رحمہم الله تعالٰی فقولھم فی الوفاق                                                

رمز دے دیا تو میرے علم میں صاحبِ خلاصہ کے  پیش رو یہی ہیں ۔ پھر میں نے جواہرالاخلاطی میں یہ عبارت دیکھی : جماع کے بعد پیشاب کیا پھر غسل کیا اور اس وقت کی نماز ادا کرلی پھر بقیہ منی نکلی تو اس پر غسل نہیں ، اس کے بر خلاف اگر غسل سے پہلے پیشاب نہیں کیا تھا تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے۔ اور اسی طرح مذی نکلنے سے بھی۔ اھ۔

اور اعتماد میں ان کا وہ مقام نہیں جو ان چار حضرات یعنی اسبیجابی صاحب شرح طحاوی ، طاہر بن احمد بخاری صاحب خلاصۃ الفتاوی ، حسین بن محمد سمعانی صاحبِ خزانۃالمفتین ، اور محقق حلبی صاحبِ حلیہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکا ہے۔ تواخلاطی کی عبارت سے ان کی قوت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اور یہ حضرات بموافق دیگر اکابر ، خروج مذی کا مشاہدہ کرنے والے محتلم کے مسئلہ میں عدم غسل کی تصریح کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے خلاصہ کی عبارت جو پہلے پیش کی اسے صاحبِ حلیہ وصاحبِ خزانۃ المفتین نے بھی نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے اور قطعًا معلوم ہے کہ اس کی سوا اس کے کوئی وجہ نہیں کہ مذی جب سامنے نکلے تو مذی ہی قرار دی جائے گی جیسا کہ امام اجل مفتی ثقلین ، امام ابن ابی المفاخر کرمانی ، امام فخرالدین زیلعی وغیرہم رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے اس کی تصریح فرمائی ہے تو میرے

احب الی من قولھم فی الخلاف وجادۃ واضحۃ سلکوھا مع الجمیع احق بالقبول مما تفردوا بہ ولایعرف لہ وجہ الا القیاس علی المحتلم یستیقظ فیجد مذیا حیث یجب الغسل عند ائمتنا وقد علمت من کلام الامام مفتی الجن والانس انہ قیاس لایروج ھذا ماظھر للعبد الضعیف ومع ذلك ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ والله تعالی اعلم۔

فائدہ : اقول :  یتراأی لی ان الحل مامر عن الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی لایجب الغسل عندھم جمیعا علی ھذہ المسألۃ المتظافرۃ علیھا کلمات العلماء من دون خلاف اعنی المحتلم یستیقظ فیخرج المذی بمرأی منہ والدلیل علیہ ماقدمنا تحقیقہ ان التیقن لاسبیل الیہ لمن خرجت البلۃ وھو نائم انما ھو لمن تیقظ فخرجت بمرأی عینہ و            

نزدیك موافقت میں ان حضرات کا کلام ان کے مخالفت والے کلام سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور صاف واضح راہ جس پر وہ سب کے ساتھ چلے ہیں اس سے زیادہ قابل قبول ہے جس میں وہ متفرد ہیں ۔ اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے کہ اس محتلم پر قیاس کیا ہو جو بیدار ہو کر مذی پائے کہ ہمارے ائمہ کے نزدیك اس پر غسل واجب ہوتاہے۔ اور امام مفتی جن وانس کے کلام سے واضح ہوچکا ہے کہ یہ قیاس چلنے والا نہیں ۔ یہ وہ ہے جو بندہ ضعیف پر منکشف ہوا ، اس کے بعد اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے۔ والله تعالی اعلم۔

فائدہ : اقول؃ وہ مسئلہ جو حلیہ کے حوالہ سے بواسطہ مصفی مختلفات سے نقل ہوا کہ جب احتلام کا یقین ہو اور تری کے مذی ہونے کا یقین ہو تو اس پر ان سبھی ائمہ کے نزدیك غسل واجب نہیں ، اس سے متعلق مجھے خیال ہوتا ہے کہ اسے اسی مسئلہ پر محمول کروں جس پر کلماتِ علماء بغیر کسی اختلاف کے باہم متفق ہیں یعنی وہ محتلم جو بیدار ہو پھر اس کے سامنے مذی نکلے ، اور اس پر دلیل ہماری سابقہ تحقیق ہے کہ سوتے میں جس سے تری نکلی اس کے لئے یقین کی کوئی راہ نہیں ، یہ تو اس کے لئے ہے جو بیدار ہوا پھر اس کی آنکھ کے سامنے تری نکلی۔ اس صورت

حینئذ ھی مسألۃ صحیحۃ لاغبار علیھا ولله الحمد ۔

التاسع :  فـــ اجمعوا ان لو بال اونام اومشی کثیرا ثم خرج بقیۃ المنی بدون شھوۃ لایجب الغسل تظافرت الکتب علی نقل الاجماع فی ذلك کالتبیین والفتح والمصفی والمجتبی والحلیۃ والغنیۃ والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وغیرھا غیر ان منھم من یقتصر علی ذکر البول کا لخانیۃ ومنھم من یزید النوم کالمحیط والا سبیجابی والذخیرۃ وخزانۃ المفتین ومنھم من زاد المشی ایضا کالتبیین والفتح والمنتقی والظہیریۃ ثم اطلق المشی کثیر وقیدہ الزاھدی بالکثیر وھو الاوجہ کما ترجاہ فی الحلیۃ وجزم بہ فی البحر لان الخطوۃ والخطوتین لایکون منھما ذلك ونقل ش عن العلامۃ المقدسی قال فی خاطری انہ عین لہ اربعون خطوۃ فلینظر([4])اھ۔                                          

میں یہ مسئلہ صحیح بے غبار ہے۔ ولله الحمد۔

 



[1]   خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳

[2]   خزانۃ المفتین ، فصل فی الغسل ، (قلمی فوٹو کاپی) ۱ / ۵

[3]   جواہر الاخلاطی ، کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل ، (قلمی فوٹو کاپی) ص۷

[4]    ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن