دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

لکن نص الامام الجلیل مفتی الجن والانس نجم الدین النسفی قدس سرہ ان التغیر لایکون فی الباطن کما قدمنا عن جواھر الفتاوی عن ذلك الامام من التفرقۃ بین ھذا وبین من استیقظ فوجد بلۃ حیث یجب الغسل لاحتمال کونہ منیارق بمرور الزمان اما ھھنا فقد عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل والتفرقۃ بینہ وبین ما اذامکث فخرج منی ان الغسل انماوجب بالمنی و                          

غسل نہیں ۔ اور اسی کے مثل خلاصہ ، خزانۃ المفتین ، بر جندی ، حلیہ  میں بھی ہے۔ اور غیاثیہ میں غریب الروایہ سے اور فتاوٰی ناصری سے برمز (ن) منقول ہے اور قنیہ میں فتاوٰی ابو الفضل کرمانی سے نقل ہے اور متعدد کتابوں میں ہے۔ اور اس تقدیر پر غسل واجب کرنا ضروری ہے اس لئے کہ احتلام منی ہونے کی قوی تر دلیل ہے اور مذی کی صورت پر تقدیر مذکور احتمال منویت سے جدا نہ ہوگی اگرچہ اس کی آنکھ کے سامنے نکلی ہو اور اس میں بدن کی حرارت اور ہوا اثر انداز نہ ہوئی ہو اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ غذا کی وجہ سے اندر ہی متغیر ہوئی ہو۔

لیکن امام جلیل مفتی جن وانس نجم الدین نسفی قدس سرہ نے تصریح فرمائی ہے کہ تغیر باطن میں نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ان سے ہم نے بحوالہ جواہر الفتاوٰی فرق نقل کیاہے اس میں اور اُس میں جو بیدار ہو کر تری پائے کہ اس پر غسل واجب ہوتا ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے وہ منی رہی ہوجو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ لیکن یہاں تو اس نے مذی نکلتے آنکھ سے دیکھی ہے تو وضو واجب ہوا غسل نہ ہوا۔ اور ان سے فرق نقل کیا۔ اس میں اور اُس صورت میں جب وہ کچھ دیر ٹھہر چکا ہو پھر منی نکلی ہو کہ غسل منی ہی سے واجب ہوا اور یہاں اس کے سامنے مذی

ھھنا زال المذی وھویراہ فلم یلزم لانہ مذی وصریح النص مانقل عنہ الامام الزیلعی فی التبیین حیث ذکر جوابہ فی المسألۃ انہ لایلزمہ شیئ قال فقیل لہ ذکر فی حیرۃ الفقہاء فیمن احتلم ولم یربللا فتوضأ وصلی ثم نزل منی انہ یجب علیہ الغسل فقال یجب بالمنی بخلاف المذی اذارأہ یخرج لانہ مذی ولیس فیہ احتمال انہ کان منیا فتغیر لان التغیر لایکون فی الباطن ([1]) اھ ومثلہ فی الحلیۃ عن مجموع النوازل عن الامام نجم الدین وزادامافی الظاھر فقد یکون ([2]) اھ

اقول  :  فعلی ھذا یجب ان یراد بکلام التجنیس ومن تبعہ ان الغذاء ونحوہ یعد المنی لسرعۃ التغیرفی الخارج بعمل حرارۃ تصلہ فیہ من بدن اوھواء وبھذایخرج جواب عمااوردنا علی العلامۃ ابن کمال من وجود قصور فی                         

نکلی ہے تو غسل لازم نہ ہواکیونکہ یہ مذی ہے۔ اور صریح نص وہ ہے جو ان سے امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں نقل کیاہے۔ اس طرح کہ صورتِ مسئلہ میں ان کا یہ جواب ذکر کیاکہ اس پرکچھ لازم نہیں ۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ حیرۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ جسے احتلام ہوا اور تری نہ پائی۔ وضو کر کے نماز ادا کرلی۔ اس کے بعد منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے۔ تو فرمایا منی کی وجہ سے واجب ہے بر خلاف مذی کے ، جب کہ مذی کو نکلتے دیکھا ہو اس لئے کہ وہ مذی ہے اور اس میں یہ احتمال نہیں کہ منی رہی ہو  پھر متغیر ہو گئی ہو اس لئے کہ تغیر باطن میں (اندر) نہیں ہوتااھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں مجموع النوازل کے حوالہ سے امام نجم الدین سے منقول ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے : لیکن ظاہر میں تغیر ہوتا ہے اھ۔

اقول : تو اس بنیاد پر ضروری ہے کہ صاحب تجنیس اور ان کے متبعین کے کلام سے مراد یہ ہو کہ غذا اور اس جیسی چیز منی کو اس قابل بنادیتی ہے کہ خارج میں وہ اس حرارت کے عمل سے جو بدن یا ہواسے پہنچے جلد متغیر ہوجائے ۔ اسی سے اس کا بھی جواب نکل آئے گا جو ہم نے علامہ ابن کمال پر اعتراض کیا کہ ان کی عبارت میں بھی

کلامہ ایضالکن وقع فی الخلاصۃ مانصہ وعلی ھذا لواغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا وعند ابی یوسف لایغتسل ([3]) اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ یرید خرج منہ ماھو علی صورۃ المذی کما صرح بہ ھو وغیرہ وقدمناہ فکن منہ علی ذکر ([4]) اھ۔

اقول :  ایش یفید فـــ التاویل بعدما تظافرت النقول عن اجلۃ الفحول منھم صاحب الخلاصۃ نفسہ انہ اذا احتلم فاستیقظ فلم یجد شیئا ثم نزل المذی لایغتسل فان بالاغتسال قبل البول وان لم یعلم انقطاع مادۃ المنی الزائل بشھوۃ لکن عاین خروج المذی والتغیرفی الباطن لایکون فکیف یجب الغسل بالمذی بل لعل الامرھھنااستھل لانہ قدامنی مرۃ واغتسل وبقاء شیئ مما زال فی داخل البدن غیرلازم بل ولاغالب بل الغالب ان المنی اذا اندفق                      

قصورو کمی موجود ہے۔ لیکن خلاصہ میں یہ عبارت آئی ہے۔ اور اسی بنیاد پر اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ اور امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك غسل نہ کرے گا اھ۔ حلیہ میں اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھا : اس سے مرادوہ ہے جو مذی کی صورت پرنکلے جیسا کہ اس کی تصریح صاحبِ خلاصہ اوردوسرے حـضرات نے کی ہے اور پہلے ہم اسے پیش کر چکے ہیں ۔ تو وہ یاد رہے اھ۔

اقول : تاویل کا کیا فائدہ جب کہ اجلّہ علماء سے بالاتفاق نقول وارد ہیں ، ان میں خود صاحبِ خلاصہ بھی ہیں ، وہ یہ کہ جب احتلام ہو پھر بیدار ہوکرکچھ نہ پائے  پھر مذی نکلے تو غسل نہیں ۔ اس لئے کہ پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرنے سے شہوت کے ساتھ جدا ہونے والی منی کے مادہ کا ختم ہونا اگرچہ معلوم نہ ہوالیکن جب اس نے آنکھ سے دیکھ لیا کہ مذی نکلی ہے اور تغیر اندر نہیں ہوتا ، تو مذی سے غسل کیسے واجب ہوگا۔ بلکہ معاملہ یہاں شاید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ ایك بار اس سے منی نکلی اور اس نے غسل کرلیااور جداہونے والی منی میں سے کچھ اندر رہ جانالازم نہیں ، بلکہ غالب بھی نہیں ، بلکہ عمومًایہ ہوتاہے کہ منی جست کرتی ہے

فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔

اندفع بخلاف مااذا احتلم ولم یخرج شیئ ثم نزل مایشبہ مذیافان کونہ ھوالذی زال بالاحتلام اظھرمن کون النازل مرۃ اخری بقیۃ المنی الزائل۔

فان قلت الاحتلام قد یکون من اضغاث احلام فان النائم ربما یری مالا حقیقۃ لہ۔ قلت نعم لاحقیقۃ لما رأی من الافعال لکن اثرھا علی الطبع کمثلہا فی الخارج ولذا لایتخلف الانزال عن الاحتلام الا نادرا الا تری ان ائمتنا جمیعا اعتبروا مجرد احتمال المذی بدون احتمال منی اصلا مو جبا للغسل عند تذکر الحلم فلو لا انہ من اقوی الادلۃ علی الامناء لم یعتبروا المنویۃ الکائنۃ من جہۃ المرای احتمالا علی احتمال ومع ذلك تصریحہم جمیعا بان لواحتلم فرأی فی الیقظۃ زوال مذی لاغسل علیہ ناطق بان ماینزل بمرأی العین لایکون الا مایری وقد وافقہم علیہ صاحب                               

تو مندفع ہوجاتی ہے بخلاف اس صورت کے جب اسے احتلام ہوا اور کچھ باہر نہ آیا پھروہ چیز نکلی جو مذی کے مشابہ ہے تو اس کا احتلام ہی سے جدا ہونے والی ہونا زیادہ ظاہر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسری بار نکلنے والی چیز ، پہلی بار جدا ہونے والی منی کا بقیہ ہو۔

اگریہ کہو کہ احتلام بعض اوقات بس ایك پر اگندہ خواب ہوتا ہے اس لئے کہ سونے والا کبھی وہ دیکھتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ میں کہوں گا ہاں جو افعال اس نے دیکھے ان کی کوئی حقیقت نہیں لیکن طبیعت پر ان کا اثر ویسے ہی ہوتاہے جیسے ان افعال کا خارج میں ہوتاہے-یہی وجہ ہے کہ عمومًا احتلام کے بعد انزال ضرور ہوتاہے ، اس کے خلاف نادرًاہی ہوتاہے۔ یہی دیکھئے کہ ہمارے تمام ائمہ نے خواب یاد ہونے کے وقت محض احتمال مذی کو



[1]   تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۸

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[3]   خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۲

[4]     حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن