30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر اس میں نزاع کیا جائے کہ جست کرنا صرف اسے مستلزم ہے کہ کچھ باہر آجائے نہ اسے کہ کل باہر آئے تو اوّلا دونوں میں تفریق پردلیل کا مطالبہ ہوگا پھر فتح القدیر کے اس جزئیہ سے معارضہ ہوگا کہ “ نماز میں خواب دیکھا اورانزال نہ ہوا یہاں تك کہ نماز پوری کرلی پھرانزال ہوا تو اس کے ذمہ نماز کا اعادہ نہیں اور غسل ہے اھ “ ۔ مان لیجئے اس کی یہ توجیہ کردی جائے کہ حرکت ایك تدریجی عمل ہے جس کی صورت یہ ہو کہ قعدہ اخیرہ میں تھا اس وقت
فـــ : مسئلہ : نمازمیں احتلام ہوااورمنی باہرنہ آئی کہ نمازتمام کرلی اس کے بعد اتری توغسل واجب ہوگامگرنمازہوگئی کہ اس وقت تك جنب نہ ہواتھا۔
ان ینزل الی القصبۃ ویخرج سلم فسلم من النزول فی الصلاۃ فماذا یجاب عن فرع الھندیۃ عن الذخیرۃ احتلم فـــ۱ ١لیلا ثم استیقظ ولم یربللا فتوضأ وصلی صلوۃالفجر ثم نزل المنی یجب علیہ الغسل([1]) اھ اطلق ولم یقید با لانتشار عند الخروج فما کان الغسل الا باندفاقہ فی النوم وبقاء کلہ داخل البدن الی ان تیقظ وتوضأ وصلی ام فـــ٢ماذا یصنع بفرعھا عنہا استیقظ وھو یتذکر احتلاما ولم یربللا ومکث ساعۃ فخرج مذی لایلزمہ الغسل ([2]) اھ “ فافاد بمفھومہ ان لو خرج منی لزم فان
احتلام ہوا او رمنی جست کر کے پشت سے چلی اور ذکر کی نالی میں آنے اور نکلنے تك اس نے سلام پھیر دیا اس لئے نماز کے اندر منی نکلنے سے بچ گیا۔ پھر اس جزئیہ کاکیا جو اب ہوگا جو ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے : رات کو احتلام ہوا پھر صبح بیدار ہوا اور تری نہ پائی ، وضو کر کے نمازِ فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اھ(اور نماز ہوگئی)۔ اسے مطلق ذکر کیا اور یہ قید نہ لگائی کہ خروج منی کے وقت انتشارِ آلہ تھاتو غسل اسی وجہ سے ہواکہ نیند کی حالت میں منی نے جست کیا اور سب کی سب بدن کے اندر رہ گئی یہاں تك کہ بیدار ہوا ، وضو کیا اور نماز پڑھی۔ یااس جزئیہ کو کیا کریں گے جو ہندیہ میں اسی ذخیرہ سے نقل ہے : اس حالت میں بیدار ہوا کہ اسے احتلام یاد ہے اور کوئی تری نہ دیکھی ، تھوڑی دیر رکا رہا پھر مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں ۔ اس کے مفہوم سے مستفاد ہواکہ اگر
فــ۱ : مسئلہ : رات کواحتلام ہواجاگاتوتری نہ پائی وضوکرکے نمازپڑھ لی اس کے بعد منی باہرآئی توغسل اب واجب ہوااور وہ نمازصحیح ہوگئی ۔
فــــ۲مسئلہ : جاگااحتلام خوب یاد ہے مگرتری نہیں پھرمذی نکلی غسل نہ ہوگا۔
لم یقنع بہ ففی الغنیۃ نفسہا رأی فی نومہ انہ یجامع فانتبہ ولم یربللا ثم بعد ساعۃ خرج منہ مذی لایجب الغسل وان خرج منی وجب ([3]) اھ
فان اعتل بان النزول بدفق یستلزم الخروج والتجاوزعن الاحلیل ولوبعدحین فلاترد الفروع وھھنا اذلم یتجاوز رأس الذکر علم انہ لیس بمنی۔
قلت کان استنادہ الی الحرکۃ الدفقیۃ انھا توجب التجاوز لان مایندفق فھویندفع بقوۃ فلا یمنع الا قھراوقدابطلتہ الفروع وھذااعتلال بنفس الانفصال انہ اذاخلی مقرہ فلا بدلہ من الخروج ولو بعدحین وجوابہ ماقدمت ان الکثرۃ لاتلزم الامناء فقدلاینزل الاقطرۃ اوقطر تان کماعرف فی مسألۃ التقاء الختانین قال فی الھدایۃ قد یخفی علیہ
منی نکلتی توغسل لازم ہوتا۔ اگر اس پر قناعت نہ ہو تو خود غنیہ ہی میں ہے : خواب میں اپنے کو جماع کرتے دیکھا ، بیدار ہوا تو کوئی تری نہ پائی پھر کچھ دیر بعد مذی نکلی تو اس پر غسل واجب نہیں اور اگر منی نکلے تو واجب ہے اھ۔
اگر یہ علت پیش کریں کہ جست کے ساتھ اپنی جگہ سے اترنا نکلنے اور احلیل سے تجاوز کرنے کو مستلزم ہے اگرچہ کچھ دیر بعد سہی ، تو ان جزئیات سے اعتراض نہ ہو سکے گا۔ اور یہاں جب سر ذکر سے تجاوز نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ منی نہیں ۔
قُلتُ(میں کہوں گا) پہلے ان کا استناد جست والی حرکت سے تھا کہ یہ تجاوز کو لازم کرتی ہے اس لئے کہ جو چیزجست کرے وہ بقوت دفع ہوگی تو اسے بغیر جبر وقسر کے روکانہ جاسکے گا۔ یہ استناد تو ان جزئیات سے باطل ہوگیا۔ اب یہ خود انفصال کو علت ٹھہرانا ہے کہ جب وہ اپنی جگہ چھوڑے گی تو اس کے لئے نکلناضروری ہے اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہو۔ اس کا جواب وہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ منی نکلنے کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قطرہ دو قطرہ آتا ہے ، جیسا کہ التقائے ختانین(مردوزن کے ختنہ کی جگہوں کے باہم ملنے ) کے مسئلہ میں معلوم ہوا) ہدایہ میں
لقلتہ ([4]) اھ
وفی الفتح خفاء خروجہ لقلتہ وتکسلہ فی المجری لضعف الدفق لعدم بلوغ الشھوۃ منتھاھا کمایجدہ المجامع فی اثناء الجماع من اللذۃ بمقاربۃ المزایلۃ ([5]) اھ
وزاد فی الحلیۃ لقلتہ مع غلبۃ الحرارۃ المجففۃ لہ ([6]) اھ
اقول : فـــ۱ والامر فی النائم اظھر فقد یتجاوز بعضہ الاحلیل وینشفہ بعض ثیابہ ولایحس بہ لقلتہ ،
وبالجملۃ فـــ۲اطلاق المتون والشروح وقدوتھم محمد فی المبسوط کماقدمناعن الخانیۃ عن الاصل وتصریح فــــ۳ امثال الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ وغیرھم وعمدتھم محمد فی النوادر فرمایا :
منی قلت کی وجہ سے اس پر مخفی رہ جاتی ہے اھ۔
فتح القدیر میں ہے : خروجِ منی کا مخفی رہ جانااس کے کم ہونے اور مجرا(گزر گاہ)میں سست ہو جانے کے باعث ہے ، اس وجہ سے کہ جست کمزور تھی کیوں کہ شہوت اپنی انتہاء کو نہ پہنچی تھی جیسے جماع کرنے والا اثنائے جماع جدا ہونے کے قریب لذت پاتاہے اھ۔
اور حلیہ میں اضافہ کے ساتھ کہا : کیوں کہ وہ کم ہوتی ہے ساتھ ہی اسے خشك کرنے والی حرارت غالب ہوتی ہے اھ۔
اقول : اورمعاملہ سونے والے کے بارے میں اور زیادہ واضح ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کچھ منی احلیل سے تجاوز کرکے کپڑے میں جذب ہوجاتی ہے اور قلیل ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتی ۔
مختصر یہ کہ ایك تو متون اور شروح میں اطلاق ہے اور ان کے پیشوا امام محمد ہیں جنہوں نے مبسوط میں سب سے پہلے ذکر کیا جیسا کہ ہم نے خانیہ سے بحوالہ مبسوط نقل کیا۔ دوسرے اصحاب خانیہ ، محیط ، ذخیرہ وغیرہم کی تصریحات ہیں اور ان کے معتمد امام محمد ہیں جنہوں نے نوادر
فـــ۱ : تطفل آخر علی الغنیۃ ۔
[1] الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
[2] الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
[3] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۶
[4] الہدایہ کتاب الطہارات فصل فی الغسل المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۴
[5] فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۶
[6] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع