30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المذی والودی فی عدم التذکرلان بالتقریر المذکور کل احتمال مذی احتمال منی و احتمال المنی موجب عندھما مطلقا فیبطل الفرق بین التذکر وعدمہ فیجب القول بان احتمال المنی انما یکون باحد شیئین احدھما ان تکون الصورۃ مترددۃ بین المنی وغیرہ سواء تذکر الحلم او لا والاخر ان یری ماھو مذی ولو احتمالا و یتذکر الاحتلام فان تذکرہ اقوی دلیل علی الامناء فلاجلہ یحمل ما یری مذیا علی انہ منی رق اما اذا لم یتذکر ولم تحتمل الصورۃ المنویۃ فلم یعدل عن حکم الصورۃ من دون دلیل داع الیہ وتقریر الجواب واضح ممافتح القدیر الان من فیض فتح القدیر ولله الحمد۔
الثالث : عــــہ۱مع قطع النظر عن التحقیق الذی ظھرنا علیہ
اقول : کا معنٰی یہ کہ مذی اور ودی ہونے کے درمیان تردّد ہو۔ اس لئے کہ تقریر مذکور کی رُوسے ہراحتمال مذی ، احتمال منی ہے۔ اور طرفین کے نزدیك احتمال منی سے مطلقا غسل واجب ہوتاہے تو یاد ہونے اور نہ ہونے کی تفریق بیکار ہے۔ تو یہ کہنا ضروری ہے کہ منی کا احتمال دوباتوں میں سے کسی ایك سے ہونا ہے(۱)یہ کہ صورت کے اندر منی اور غیر منی کے درمیان تردّد ہو ، خواب یاد ہو یانہ ہو(۲) وہ شکل نظر آئے جو مذی ہے اگرچہ احتمالاسہی۔ اوراحتلام بھی یاد ہو کیوں کہ اس کا یاد ہونا منی نکلنے کی قوی دلیل ہے تو اس کی وجہ سے جو مذی کی شکل میں نظرآرہا ہے اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ وہ منی ہے جو رقیق ہوگئی۔ لیکن احتلام یاد نہ ہونے اور صورت منویہ کا احتمال نہ ہونے کی حالت میں حکم صورت سے انحراف نہ ہوا جب تك کہ اس کی داعی کوئی دلیل نہ ہو اور جواب کی تقریر اس سے واضح ہے جو اس وقت ربِ قدیر نے بفیض فتح القدیر مجھ پر منکشف فرمایا۔ ولله الحمد۔
تیسری تنبیہ : اقول قطع نظر اس تحقیق سے جو ہم پر واضح ہوئی۔ میں کہتا ہوں
عــــہ۱ : ای ماقدمنا ان العلم بالحقیقۃ لاالیہ سبیل للمستیقظ ولا لارادتہ مساغ فی کلام العلماء اھ منہ غفرلہ (م)
یعنی وہ تحقیق جو ہم پیش کر چکے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے لئے علم حقیقت کی کوئی سبیل نہیں اور کلامِ علماء میں اس کے مراد ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ۱۲منہ(ت)
انما عُلم المنی یتصور مذیا ولیس ھذا للودی ولا تترك الصورۃ لمحض امکان فعلم المذی لا یکون احتمال الودی ولذا لم یفسروہ الا بالشك فی المنی والمذی فاستثناء عــــہ۲ الدر الشك فــــ فی
منی سے متعلق معلوم ہے کہ وہ مذی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ بات ودی میں نہیں ۔ اورصورت محض امکان کی وجہ سے ترك نہیں کی جاسکتی ۔ تو مذی کے علم کی حالت میں ودی کا احتمال نہ ہوگا۔ اسی لئے علماء نے علم مذی کی تفسیر میں صرف منی و مذی کے درمیا ن شك ہونے کو ذکر کیا۔ تو
فــــ : معروضۃ اخری علیہ۔
عــــہ۲ : قدمنا عبارۃ التنویر فی نصوص الفریق الثانی وذکرنا بعد انھاء المنقول مااستثنی فی الدر وبعدہ کلام العلامۃ الشامی الشارح قد اصلح ١[1] الخ
وتمامہ وبھذا الحل الذی ھو من فیض الفتاح العلیم ظھر ان ھذا المتعاطفات مرتبطۃ ببعضھا وان الاستثناء فیھا کلہا متصل ولله در ھذا الشارح الفاضل فکثیرا ما تخفی اشاراتہ علی المعترضین و کانوا من الماھرین ہم نے فریق ثانی کے نصوص کے تحت تنویر الابصار کی یہ عبارت ذکر کی ہے (ورؤیۃ المستیقظ منیا او مذیا وان لم یتذکر الاحتلام۔
بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو) ۔ اور نقول ختم کرنے کے بعد درمختار کا استثنا ذکر کیا : (مگر جب اسے مذی کاعلم ہو یا اس میں شك ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ) اس کے بعد علامہ شامی کا یہ کلام ذکر کیا کہ “ شارح نے عبارتِ مصنف کی اصلاح کی ہے۔ الخ۔ “
اس کے آگے علامہ شامی کی پوری عبارت اس طرح ہے : فتاح علیم کے فیض سے منکشف ہونے والے اس حل سے ظاہر ہوگیا کہ یہ معطوفات باہم ایك دوسرے سے مرتبط ہیں (باقی برصفحہ آئندہ)
المذی والودی منقطع
صاحب درمختار نے مذی و ودی کے مابین شک (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فافھم ([2]) اھ وعرض بہ علی العلامۃ ح محشی الدر المعترض علیہ والعلامۃ ط المجیب بالتزام ان لاضیر فی عطف الاستثناء المنقطع علی المتصل۔
اقول : لاشك وقد اعترف ھذا المحقق ایضا ان المراد بالرؤیۃ العلم والاخرج الاعمی فقول المتن ورؤیۃ المستیقظ مذیا معناہ یجب الغسل اذا علم المذی وان لم یتذکر وانتم جعلتموہ محتملا لمعنیین الاول ان یکون المراد بالمذی حقیقتہ والثانی صورتہ وجعلتم الاول علما بانہ مذی والا خیر شکا فیہ وفی غیرہ فعلی الاول
اور ان سب میں استثنا ئے متصل ہے اور یہ حضرت شارح فاضل کا کمال ہے کہ ان کے اشارات ماہر معترضین کی نظر سے بھی مخفی رہ جاتے ہیں اھ اس سے علامہ شامی نے محشی درمختار علامہ حلبی معترض پر تعریـض کی ہے اور علامہ طحطاوی پر جنہوں نے استثنا ئے منقطع مان کر یہ جواب دیا ہے کہ استثنائے متصل پر استثنا ئے منقطع کا عطف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
اقول : اس میں کوئی شك نہیں اور ان محقق نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ دیکھنے سے مراد علم ہے ورنہ نابینا اس حکم سے خارج ہو جائے گا تو عبارت متن : (بیدار ہونے والے کا مذی دیکھنا) کا معنی یہ ہے کہ جب مذی کا علم ہو تو غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ او ر آپ نے اس عبارت میں دو معنوں کا احتمال بتایا ہے۔ اول یہ کہ مذی سے حقیقتِ مذی مراد ہو۔ دوم یہ کہ صورتِ مذی مراد ہو۔ اور اول کو آپ نے مذی ہونے کا علم قرار دیا ہے اور دوم کو مذی اور غیر مذی کے درمیان شك ٹھہرایا ہے۔ تو برتقدیر اول (باقی برصفحہ آئندہ)
قطعا۔
کاجو استثناء کیا وہ قطعا استثنا سے منقطع ہے۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
معنی المتن اذا علم حقیقۃ المذی ولا شك انہ ھو المراد بقول الشارح الا اذا علم انہ مذی فیکون استثناء الشیئ عن نفسہ ویکون حاصل الاستثناء الثانی یجب اذا علم حقیقۃ المذی الا اذا شك انہ مذی او ودی ولا شك انہ استثناء منقطع وعلی الثانی معنی المتن یجب الغسل اذا علم صورۃ المذی وشك فی حقیقۃ انہ مذی اوغیرہ فیکون قول الشارح الا اذا علم حقیقۃ المذی استثناء منقطعا قطعا ولیس ھذا سبیل ماقصدتم بل کان ینبغی ان یقال ان المراد فی کلام المصنّف العلم بالصورۃ لا غیرکما ذکرتموہ فی التوفیق والعلم بالصورۃ المذی یشمل ما اذا علم انہ فی الحقیقۃ ایضا مذی وما اذا شك انہ ھو اوغیرہ
متن کا معنٰی یہ ہوا کہ جب حقیقت مذی کا علم ہو(تو غسل واجب ہے) اور بلاشبہ شارح کے کلام “ الااذاعلم انہ مذی۔ مگر جب اسے علم ہو کہ وہ مذی ہے “ سے وہی (حقیقت مذی کا علم) مراد ہے تو یہ شیئ کا خوداسی شیئ سے استثناء ہوگا۔ استثنائے ثانی کا حاصل یہ ہوگا کہ غسل واجب ہے جب حقیقت مذی کا علم ہو مگر جب اسے شك ہو کہ مذی ہے یا ودی(توبالاتفاق واجب نہ ہوگا)بلا شبہہ یہ استثنا ئے منقطع ہے۔ برتقدیر دوم متن کا معنٰی یہ ہو کہ غسل واجب ہے۔ جب اسے مذی کی صورت کا علم ویقین ہو اور اس کی حقیقت میں شك ہو کہ وہ مذی ہے یا غیرمذی ۔ اب شارح کا قول “ مگر جب اسے حقیقت مذی کا علم ہو “ قطعًااستثنا ئے منقطع ہوگا۔ تو آپ کا جو مقصد تھا(استثنائے متصل کا اثبات) اس کی یہ راہ نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ مصنف کے کلام میں صورتِ مذی کا علم مراد ہے کچھ اور نہیں ۔ جیسا کہ تطبیق میں آپ نے یہی ذکر کیاہے۔ اور صورت مذی کا علم اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے علم ہو کہ وہ حقیقت میں بھی مذی ہی ہے ، اور اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے شك ہو (باقی برصفحہ آئندہ )
علی ان جعل فــــ العلامۃ ش مراد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع