دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

                                                شئی کی صورت کو کسی دوسری چیز کی صورت پر بلا دلیل محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اور دلیل کوئی ہے نہیں ۔ اسے حضرت محقق نے یوں رد کیا کہ اس مذی کی صورت میں جسے خواب سے بیدار ہونے والا دیکھے ، منی ہونے کا احتمال مطلقًا موجود ہے۔ اور علامہ طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق کی مراد وہ احتمال ہے جو یقین کی نفی کردے توجواب دیا کہ یہاں یقین فقہی مراد ہے اور حضرت سید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس پر متنبہ نہ ہوئے کہ حضرت محقق اسی کا تو انکار کررہے ہیں اور یہ دعوٰی کر رہے ہیں کہ صورت  مذی سے متعلق بیدار ہونے والے کا یقین فقہی ، منی ہونے کے احتمال صحیح سے خالی نہیں ہوسکتا تووہ حقیقتِ مذی کا یقین فقہی کیسے ہوسکے گا؟

آپ کو معلوم ہے کہ یہاں کی پوری بحث کا مدار اس پرہے کہ یہ دعوی ثابت ہو۔ اگر دعوی ثابت ہوجاتا ہے تو جواب بے کار او ر تطبیق بے سود ہوجائے گی اور غسل واجب قرار دینے والوں کے قول پر اعتماد واجب ہوگا۔ اب وقت آیا کہ ہم اپنے رب کی مدد حاصل کریں اور اس بحث کی تحقیق میں عنان نظر کو رخصت دیں تاکہ حقیقتِ امر عیاں ہو سکے۔

فاقول : وبالله التوفیق ، مجھے یہ سمجھ میں آتاہے

فـــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔

ان الحق مع المحقق حیث اطلق وبیانہ ان المذی وان باین المنی صدقا لکنہ یجامع تحققا فرب مذی معہ منی کما ان کل منی معہ مذی وغلبۃ ظن المذویۃ بعد النوم المانع لاحاطۃ علم المستیقظ بحقیقۃ البلۃ عینا ان کان فانما یکون لاحدی ثلث صورۃ المذی اووجود اسبابہ المفضیۃ الیہ غالبا اورؤیۃ اٰثارہ المخصوصۃ بہ ولا شیئ منھاینفی احتمال المنی ۔

اماالاول فظاھر فانہ لاینافی کون المرئی کلہ منیا فضلا عن نفیہ وجود منی ھناك وذلك لان الصورۃ ربما تکون لہ۔

واما الثانی فلانہ انما یقتضی غلبۃ الظن بان فی المرئی مذیا لا ان لیس فیہ منی اصلا کیف والاسباب المفضیۃ الی الامذاء غالبا اسباب داعیۃ الی الامناء فتحققہا لاینفی المنویۃ بل

                                                کہ حق حضرت محقق علی الا طلاق کے ساتھ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذی کامصداق اگر چہ منی کے مباین ہے مگر تحقق میں مذی ، منی کے ساتھ  مجتمع ہوتی ہے۔ بہت سی مذی وہ ہے جس کے ساتھ منی بھی ہوتی ہے

جیسے ہر منی کے ساتھ مذی ہوتی ہے۔ اور نیند جو اس سے مانع ہے کہ بیدار ہونے والے کا علم تری کی حقیقت کا معین طور پر احاطہ کرسکے اس نیند کے بعدمذی ہونے کا غلبہ ظن اگر ہوگا تو تین چیزوں میں سے کسی ایك کے سبب ہوگا(۱) مذی کی صورت (۲)ان اسباب کا وجود جن کے نتیجے میں عموما مذی نکلتی ہے (۳)ان آثار کامشاہدہ جو مذی ہی کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی احتمال منی کی نفی نہیں کرتی۔

اول کاحال توظاہر ہے۔ اس لئے مذی کی صورت ہونا اس کے منافی نہیں کہ جو نگاہ کے سامنے ہے کل کی کل منی ہی ہو وہاں ذرا سی منی کے وجود کی بھی نفی کرنا تو دور کی بات ہے اس لئے کہ یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے ۔

دوم اس لئے کہ اس کا تقاضاصرف اس قدر ہے کہ شیئ مرئی میں کچھ مذی ہو ، اس کا تقاضا یہ نہیں کہ اس میں منی بالکل ہی نہ ہو ، یہ ہو بھی کیسے جب کہ وہ اسباب جو عام طور سے مذی نکلنے کا سبب ہوتے ہیں وہ منی نکلنے کے داعی اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ تو ان اسباب کا تحقق منی ہونے

ھو من مقدماتہا ۔

واما الثالث فلانہ ان قضی فبان غالب المرئی مذی لاان لیس فیہ مزج منی فان الممزوج یکون فیہ لزوجۃ ورقۃ والقلۃ ایضا لاتنفی المنی لان الکثرۃ لاتلزمہ الا تری ان الشرع اوجب الغسل بایلاج الحشفۃ فقط وان اخرجہا من فورہ ولم یرعلیہا بلۃ اصلا سوی نداوۃ من رطوبۃ الفرج وماھو الا لان الا یلاج مظنۃ خروج المنی وربمایکون قلیلا لایحس بہ حتی انہ لم ینظرفیہ الی ان المنی اذانزل بشہوۃ یحس بہ المستیقظ لانہ یدفق ویلذذ ویحرك العضو بل یحس نازلا وانمالم ینظر الیہ لان ھذہ الاثار لکمال الانزال لا لخروج قطرہ بشھوۃ ربما لایتنبہ لھا لشغل البال اذ ذاك بمطلوب خطیر فثبت ان شیا من صورۃ المذی واسبابہ وآثارہ لاینفی احتمال المنویۃ اصلا ثم النوم من اسباب الاحتلام                    

کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ تو اس کے مقدمات سے ہے۔

سوم اس لئے کہ اس کا فیصلہ اگر ہوگا تو صرف اس قدر کہ شیئ مرئی کا اکثر حصہ مذی ہے ، یہ نہیں کہ اس میں منی کی آمیزش بھی نہیں ۔ اس لئے کہ اس امتزاج یا فتہ چیز میں لزوجت(چسپیدگی) اور رقت(پتلا پن) ہوتی ہے۔ اور کم ہونا بھی منی کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ اس کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں ۔ دیکھئے شریعت نے وقتِ جماع صرف مقدارِ حشفہ داخل کرنے پر غسل واجب کردیاہے اگرچہ فورًانکال لیا ہو اور اس پر کوئی تری نظربھی نہ آتی ہو سوا اس کے کہ رطوبت فرج کی کچھ نمی ہو۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخل کرناخروجِ منی کا مظنّہ ہے(گمان غالب کا محل ہے)اور منی بعض اوقات اتنی کم ہوتی ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا یہاں تك کہ اس پر بھی نظر نہ فرمائی کہ منی جب شہوت سے نکلے گی تو بیدار شخص کو اس کااحساس ہوگا کیونکہ وہ جست کے ساتھ نکلے گی ، لذت پیدا کرے گی ، عضو کو حرکت دے گی بلکہ نکلتی ہوتی محسوس ہوگی۔ اس پر نظر اسی لئے نہ فرمائی کہ یہ آثار کمال انزال کے ہیں ۔ شہوت کے ساتھ ایك قطرہ نکلنے کے آثار نہیں جس کابسا اوقات اسے پتہ بھی نہ چلے گا کیونکہ اس وقت اس کا دل کسی خاص مطلوب میں مشغول ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مذی کی صورت۱ ، اس کے۲اسباب اور اس کے٣ آثار 

لانہ یوجب الشھوۃ والانتشار وتوجہ الطبع الی دفع الفضلات و وجود بلۃ لاتخرج الابشھوۃ اعنی منیا اومذیا مؤذن بحصول قوۃ فی الانتشار والشہوۃ الی ان ادت الی اندفاع تلك الفضلات فانھا  لا تندفع بکل شھوۃ وانتشارمالم یمتد او یشتد۔

فباجتماع ھذہ الوجوہ لا یکون احتمال المنی ضعیفامضمحلا بل ناشئا عن دلیل لایطرحہ القلب فیعمل بہ فی الاحتیاط فظھر ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لایکون علما بحقیقتہ ولافقھیا ولا عراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فوجب ایجاب الغسل کما فی التذکر۔

ھذا ولنقررالمقام بتوفیق العلام بحیث یبین العلل لجمیع الاحکام فی تلك الصور الست والاقسام۔ فاقول :  النوم سبب ضعیف للامناء لعدم غلبۃ الافضاء بل غلبۃ

میں سے کوئی چیز بھی منی ہونے کے احتمال کی بالکل نفی نہیں کرتی۔ پھر نیند احتلام کے اسباب میں سے ہے اس لئے کہ وہ شہوت ، انتشارِ آلہ اور دفع فضلات کی طرف طبیعت کی توجہ کا باعث ہوتی ہے۔ اور کسی بھی ایسی تری کا وجود جو شہوت سے نکلتی ہے۔ یعنی منی یا مذی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ انتشار اور شہوت میں زورپیدا ہو جس کے نتیجے میں ان فضلات کا دفعیہ ظہور پذیر ہوا کیوں کہ یہ فضلات ہر شہوت اور انتشار سے دفع نہیں ہوتے جب تك کہ کچھ مدت و شدت کا وجود نہ ہو۔

تو ان وجہوں کے اجتماع کے پیشِ نظر احتمال منی ضعیف مضمحل نہیں بلکہ وہ ایسی دلیل سے پیدا ہے جسے قلب نظر انداز نہیں کرتا تو حالت احتیاط میں اس پر عمل ہوگا۔ اس تفصیل سے واضح ہو ا کہ بیدار ہونے والے کو صورت مذی کا یقین نہیں یقین فقہی بھی نہیں اوریہ یقین ، منی ہونے کے احتمال صحیح سے جدا نہیں ہو سکتا تو غسل واجب قرار دیناضروری ہے جیسے احتلام یاد ہونے کی صورت میں ضروری ہے۔ یہ بحث تمام ہوئی۔

اب ہم رب علام کی توفیق سے اس مقام کی تقریر اس انداز سے کریں کہ ان شش گانہ صورتوں اور قسموں میں تمام احکام کی علّتیں عیاں ہوجائیں ۔ فاقول : نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے۔ اس لئے کہ نیند کا خروج منی تك موصل ہونا غالب واکثر

عدم الافضاء بدلیل الحدیث المذکور وتجربۃ الدھور فلربما ینام الرجل شھور الا یحتلم وکثرتہ یعد من الامراض ۔

ومامر عن الفتح عن التجنیس انہ مظنۃ الاحتلام ومثلہ فی الغنیۃ وغیرھا فلیس بمعنی المظنۃ المصطلح والالدار الحکم علیہ و وجب الغسل بعلم الودی بل بمجرد النوم کالوضوء لکونہ مظنۃ خروج الریح ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن