دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

پہلے سن چکے۔ ورنہ ودی کے یقین کی صورت میں بھی غسل واجب ہوتا خصوصًا اس وقت جب خواب یاد ہو اس لئے کہ احتمال ہے کہ اس میں قلیل منی رہی ہو جو رقیق اور مخلوط ہوکر گم ہوگئی ۔ اور یہ احتمال بلادلیل نہیں (اگر چہ دلیل ساقط ہے ۱۲م ) احتلام کا یاد ہونا اس کی دلیل ہو نے کے لئے کافی ہے بلکہ خود نیند میں اس کے گمان کی جگہ ہے جیسا کہ تجنیس ومزید کے حوالہ سے گزرا ۔

وجہ دوم(اگر حقیقت شئی کے یقین کا اعتبار ہو تو) اس سے طرفین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مذہب پر خواب یاد ہونے اور نہ یا د ہونے کی تفریق اٹھ جائے گی اس لئے کہ یہ حضرات منی کے احتمال سے قطعًا مطلقًا غسل واجب کہتے ہیں ۔

فــــ : معروضۃ اخرٰی علیہ ۔

ولایمکن ان یوجبا بما لیس منیا اصلا حتی بالاحتمال وان تذکر لما تلونا علیك اٰنفا فکان علم المذی والتردد بین المذی والودی کل کمثل العلم بالودی للاشتراك فی عدم احتمال ماھو موجب شرعا فبطل الفرق مع اجماعھم علی اثباتہ۔

وثالثھا فــــ یضیع حینئذ لحاظ شیئ من علم المذی واحتمالہ فی بیان الصور اذلا اثر لہ فی الحکم وکان یجب القصر علی ثلث علم المنی واحتمالہ فیوجب اولا ولافلابل اثنین علی الوجہ الثانی ای ان احتمل منیا وجب والا لاوھو ایضا خلاف الروایات قاطبۃ ۔

فبان کالشمس ان الصورلم تؤخذ الا باعتبار تعلق العلم بالصورۃ دون الحقیقۃ لاجرم ان صرح فی الخلاصۃ بان مرادہ ماصورتہ المذی لاحقیقۃ المذی اھ ([1])

اگرچہ خواب یاد نہ ہو ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ایسی چیز سے غسل واجب قرار دے دیں جو منی ہر گز نہیں یہاں تك کہ احتمالًا بھی نہیں ، اگرچہ خواب یاد ہی ہو ، اس کی وجہ ابھی ہم بتاچکے ۔ تو مذی کا یقین ، اور مذی وودی کے مابین تردّد ہر ایك ویسے ہی ہوگا جیسے ودی کا علم ویقین ، اس لئے کہ سب میں یہ قدر مشترك ہے کہ اس چیز کااحتمال نہیں جو شرعًا موجبِ غسل ہے ۔ تو یا د ہونے نہ ہونے کی تفریق بیکار ہوئی ۔ حالانکہ اس کے اثبات پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔

وجہ سوم : برتقدیر مذکور صورتوں کے بیان میں مذی کے یقین واحتمال میں سے کسی کالحاظ بے کار ہوگا اس لئے کہ حکم میں اس کاکوئی اثر نہیں ۔ اور واجب تھاکہ صرف تین صورتوں پر اکتفاہو۔ اگر منی کا یقین یا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ بلکہ بطریق دوم صرف دو ہی پر اکتفاء ضروری تھی ۔ اگر منی کا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ یہ بھی تمام روایات کے برخلاف ہے ۔

تو مہرِ تاباں کی طرح روشن ہوا کہ مذکورہ صورتیں حقیقت نہیں بلکہ صورت ہی سے علم ویقین متعلق ہونے کے اعتبار سے لی گئی ہیں یہی بات ہے کہ خلاصہ میں تصریح کردی ہے یہ کہ حقیقت مذی مراد نہیں مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے اھ

فــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔

وفی الحلیۃ وجد مذیا یعنی ماصورتہ صورۃ المذی اھ([2]) وکذلك عبربا لصورۃ فی البدائع والایضاح والسراجیۃ وغیرھامما تقدم فالتوفیق الذی سلکہ العلامۃ ش لاسبیل الیہ وایاك ان تغتر بما یوھمہ ظاھرکلام المحقق فی الفتح والسید ط فی حواشی المراقی تبعا للنھرکما ذکرہ فی حواشی الدرحیث حکما بتعذر الیقین مع النوم وانما المتعذر بہ التیقن بالحقیقۃ دون الصورۃ کمالایخفی فلیس ذلك لان المراد فی الصور العلم بالحقیقۃ بل السرفیہ۔ ما اقول :  ان العلم بصورۃ الشیئ علم کلامی بحقیقتہ اذا لم تکن لغیرہ کصورۃ المنی وعلم فقھی بھا اذا امکنت لغیرھولم یکن احتمالہ ھنالك ناشنا عن دلیل یرکن الیہ ولیس علمابھااصلا اذانشأ عن دلیل صحیح کصورۃ المذی عند تذکر الاحتلام فانھالاتختص بہ بل ربما یکتسیھا المنی و                              

اور حلیہ میں ہے : مذی پائی یعنی وہ جس کی صورت ، مذی کی صورت ہے الخ ۔ اسی طرح بدائع ، ایضاح ، سراجیہ وغیرہا میں صورت سے تعبیر ہے ان کی عبارتیں گزر چکیں ۔ تو علامہ شامی نے جو راہِ تطبیق اختیار کی ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے فریب خوردہ نہیں ہوناچاہئے جس کا وہم فتح القدیر میں حضرت محقق کے کلام سے پیداہوتا ہے ، اسی طرح مراقی الفلاح کے حواشی میں یہ تبعیت نہر سید طحطاوی کے کلام سے ، جیسا کہ اس کو حواشی در میں ذکر کیاہے وہ یوں کہ دونوں حضرات نے نیند کے ساتھ یقین کے متعذر ہونے کا حکم کیا ہے حالانکہ نیند کے ساتھ متعذر صرف حقیقت کا یقین ہے ، صورت کا یقین متعذر نہیں ، جیسا کہ واضح ہے ، تو وہ حکم اس لئے نہیں کہ مذکورہ صورتوں میں حقیقت کا یقین مراد ہے بلکہ اس کا رمزوہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں کسی شیئ کی صورت کا یقین ، اس کی حقیقت کایقین کلامی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی ہوتی ہی نہ ہو ۔ جیسے منی کی صورت۔ اور (صورت شیئ کا یقین ، حقیقت شیئ کا)یقین فقہی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی بھی ہوسکتی ہو۔ اور وہاں اس کا احتمال کسی ایسی دلیل سے نہ پیدا ہوا ہو جس کی طرف قلب کا جھکاؤ ہوتاہے ۔ اور (صورت شئی کا یقین ، حقیقت شئی کا) یقین کسی معنی میں نہیں ہوتا جب کہ دوسری چیز کی صورت ہونے کا احتمال کسی دلیل صحیح

الاحتلام اقوی دلیل علیہ فالعلم بصورۃ المذی لایکون فیہ علما بحقیقتہ ولا غالب الظن بل مع احتمال صحیح للمنویۃ فیجب الغسل بالاجماع اما اذا لم یتذکرفان کان ھناك مساغ للمنویۃ بدلیل اخرغیرمضمحل کان علمابصورۃ المذی مع احتمال المنی والا علمابھا مع عدمہ فکان علما فقھیا بالمذی فالاول یجب فیہ ایجاب الغسل عند الطرفین لکونہ فی الاحتمال مثل التذکر وھو مراد الموجبین وقد صدقواوالثانی لایجب فیہ الغسل اجماعا لماعلمت ان لا وجوب من دون احتمال المنی وھومرادالنفاۃ وقدصدقوا فھذا غایۃ مایوجہ بہ طریق التطبیق ۔

وبالجملۃ فالکلام انماھوفی علم الصورۃ غیر ان النفاۃ جعلوہ فی صورۃ النفی علما بالحقیقۃ لان صورۃ الشیئ لاتحمل                 

سے پید اہو۔ جیسے احتلام یا د ہونے کے وقت مذی کی صورت کہ یہ صورت مذی ہی سے خاص نہیں بلکہ بار ہا منی بھی وہ صورت اختیار کرلیتی ہے اور احتلام اس کی قوی دلیل ہے۔ تو صورت مذی کے یقین میں اس کی حقیقت کا نہ یقین ہوگا نہ ظنِّ غالب بلکہ اس کے ساتھ منی ہونے کا بھی احتمال صحیح موجود ہوگا تو غسل بالاجماع واجب ہوگا۔ لیکن جب احتلام یاد نہ ہو تو اگر وہاں کسی دوسری غیر مضمحل دلیل سے منی ہونے کی گنجائش موجو د ہو تو یہ احتمال  منی کے ساتھ صورتِ مذی کا یقین ہو گا ورنہ عدم احتمال منی کے ساتھ صور ت مذی کایقین ہوگاتویہ مذی کا یقین فقہی ہوگا۔ اول میں طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے کیونکہ یہ بھی احتمال میں احتلام یاد ہونے کی طرح ہے۔ غسل واجب قرار دینے والوں کی مراد یہی ہے۔ اور وہ راستی پر ہیں ۔ اور دوم میں بالا جماع غسل واجب نہیں کیونکہ واضح ہوچکا کہ بغیر احتمال منی کے وجوب غسل نہیں ۔ وجوب غسل کی نفی کرنے والوں کی مراد یہی ہے اور وہ بھی راستی پر ہیں ۔ یہ انتہائی کوشش ہے جس سے طریقہ تطبیق کی توجیہ ہو سکتی ہے۔

الحاصل کلام صورت ہی کے یقین میں ہے ، مگر یہ ہے کہ وجوب غسل کی نفی کرنے والے حضرات نے عدمِ وجوب کی صورت میں مذی کے یقین کو حقیقتِ مذ ی کا یقین قراردیا۔ اس لئے کہ ایك

علی غیرہ الا بدلیل ولا دلیل فردہ المحقق بقیام احتمال المنویۃ فی صورۃ مذی یراھا المستیقظ مطلقا وظن العلامۃ ط ان مرادہ الاحتمال النافی للیقین فاجاب بان المراد العلم الفقہی ولم یتنبہ فـــ رحمہ الله تعالٰی ان ھذا ھو الذی ینکرہ المحقق ویدعی ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لاعراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فکیف یکون علمافقہیا بحقیقۃ المذی۔

وانت تعلم ان مناط الامر ھھنا انما ھو ثبوت ھذا المدعی فانتم ضاع الجواب ولم یفد التطبیق ووجب التعویل علی قول الموجبین فالان اٰن ان نستعین بربناونسرح عنان النظر فی تحقیق ھذا المبحث لکی یتجلی حقیقۃ الامر۔

فاقول :  وبالله التوفیق یظھر لی

 



[1]   خلاصۃ الفتاوٰی  کتاب الطہارۃ الفصل الثانی فی الغسل مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن