دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

الاحکام اذااطلقواالاحتمال فانما یریدون الاحتمال الصحیح وھو الناشیئ عن دلیل غیر ساقط واذااطلقواالعلم فانمایعنون المعنی الاعم الشامل لاکبرالرأی ای مالایحتمل خلافہ احتمالاصحیحاوبہ علم ان غلبۃ الظن بشیئ واحتمال ضدہ لایمکن اجتماعھمابالمعنی المذکور۔

ثم ان الاشیاء ثلثۃ منی ومذی وودی نعنی بہ کل مالیس منیاولامذیا فصورۃ رؤیۃ البلل بالنظرالی تعلق العلم اوالاحتمال باحدالثلثۃ تتنوع الی سبع صور ثلث للعلم واربع فی الاحتمال وذلك ان یتردد المرئی بین منی و مذی اومنی وودی اومذی وودی اوبین الثلثۃ و مرجع الاربع الی ثنتین احتمال المنی مطلقا وھو فیماعدا الثالث واحتمال المذی خاصۃ ای یحتملہ لاالمنی فعادت السبع خمساوھی مع صورۃ عدم رؤیۃ البلل ست کمافعلنا۔

وضابطہا ان تقول یکون                                   

لفظ احتمال بولتے ہیں تو اس سے احتمال صحیح مراد لیتے ہیں ۔ یہ وہی ہے جو کسی غیر ساقط دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ اور جب لفظ علم ویقین بولتے ہیں تو اس سے وہ معنی اعم مراد لیتے ہیں جو اکبر رائے کو بھی شامل ہے یعنی جس کے خلاف کا کوئی صحیح احتمال نہ ہو۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شئی کا غلبہ ظن اور اس کی ضد کا احتمال بمعنی مذکور دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں ۔

اب دیکھئے کہ تین چیزیں ہیں : منی ، مذی ، ودی۔ ودی سے ہماری مراد ہر وہ تری جونہ منی ہو نہ مذی۔ تینوں میں سے کسی ایك سے علم یااحتمال متعلق ہونے پر نظر کرتے ہوئے تری کے دیکھنے کی صورت سات صورتوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ تین صورتیں علم کی ہیں اور چار احتمال کی۔ وہ اس طرح کہ مرئی میں تردّد منی و مذی کے درمیان ہوگا یا منی و ودی یا مذی و ودی یا تینوں کے درمیان ہوگا۔ ان چاروں کا مآل دو صورتیں ہیں ۔ منی کا احتمال ہو مطلقًا ، یہ تیسری صورت کے ماسوا میں ہے ۔ صرف مذی کااحتمال ہو منی کا احتمال نہ ہو تو اب (احتمال کی دوصورتیں اور یقین کی سابقہ تین صورتیں رہ گئیں ) سات صورتیں صرف پانچ ہو گئیں ان کے ساتھ تری نہ دیکھنے کی صورت کو بھی ملالیا جائے توکل چھ صورتیں ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے یہی کیا ۔

اسے بطورضا بطہ یوں کہیں کہ منی یامذی ۱معلوم

المنی او المذی معلوما اومحتملا اولاولا۔  اقول :  وان اخذت الاحتمال بحیث یشمل العلم ای تسویغ شیئ سواء ساغ معہ ضدہ فکان احتمالا بالمعنی المعروف اولا فکان علما فحینئذ یرجع التخمیس تثلیثا بان یقال یحتمل منی اومذی اولاولا فیندرج علم المنی واحتمالہ مع مذی او ودی اومعھمافی الاول وعلم المذی واحتمالہ مع ودی فی الثانی وعلم الودی ھو الثالث۔

ثم ان لکل من الثلثۃ صورۃ وحقیقۃ۔  

اقول :  و معلوم قطعا ان العلم بحقیقۃ شیئ ینفی احتمال ضدہ الکلامی الکلامی والفقھی الفقھی و کذا احتمالہا لا یکون احتمالہ وان صحب احتمالہ بخلاف العلم بصورتہ اواحتمالہ فانہ لا ینفی احتمال حقیقۃ ضدہ بل ربما یفیدہ اذا امکن ان تکون تلك الصورۃ لہ فحینئذ یجامع

                                                یا ۴محتمل ہوگی یا ۵یہ دونوں نہ معلوم ہوں گی نہ محتمل ۔ ( ت)اقول : اور اگر احتمال کو اس طرح لیجئے کہ علم و یقین کو بھی شامل ہو ۔ یعنی کسی شئی کا جواز ہو خواہ اس کے ساتھ اس کی ضد کابھی جواز ہو۔ جواحتمال بمغی معروف ہے۔ یا اس کی ضد کا کوئی جواز نہ ہو ، جو علم بمعنی معروف ہے ۔ تو اس تقدیر پر پانچ صورتیں صرف تین ہو جائیں گی ۔ وہ اس طرح کہ ہم کہیں ۱منی کا احتمال ہو گا یا ۲مذی کا یا دونوں کا احتمال نہ ہوگا۔ تو منی کا ۱علم اور ۲مذی یا ۳ودی یا ۴دونوں کے ساتھ اس کا احتمال شق اول میں مندرج ہوجائے گا۔ اور ۵مذی کا علم اور ۶ودی کے ساتھ اس کا احتمال شق دوم میں مندرج ہوگا ۔ اور ودی کا علم یہ تیسری شق ہے ۔

پھر تینوں میں سے ہر ایك کی ایك صورت ہے اور ایك حقیقت ہے۔ (ت) اقول : اور یہ قطعًا معلوم ہے کہ کسی شئی کی حقیقت کا یقین اس کی ضد کے احتمال کی نفی کرتا ہے ۔ یقین کلامی احتمال کلامی کی نفی کرتاہے اور یقین فقہی احتمال فقہی کی ۔ اسی طرح حقیقت شئی کااحتمال ضد شئی کااحتمال نہیں ہوتا اگر چہ اس کے احتمال کے ساتھ ہو ۔ اور شئی کی صورت کے علم یااحتمال کا حکم اس کے بر خلاف ہے ۔ اس لئے کہ وہ ضد شئی کی حقیقت کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ بار ہااس کا افادہ کرتا ہے جب کہ یہ ممکن ہو کہ وہ صورت اس کی ضد ہو ۔

العلم الفقھی بل الکلا می بصورۃ شیئ الاحتمال الکلامی بل الفقھی لحقیقتہ اذا کان ناشئاعن دلیل غیر مضمحل ۔

اذا وعیت ھذا۔ فاقول :  لامساغ لان تؤخذ الصور ھھنا باعتبارتعلق العلم بحقیقۃ الشیئ عینا لوجوہ یجمعھا۔  اولھا فــــ وھوانہ یبطل ما اجمعوا علیہ من وجوب الغسل بعلم المذی عند تذکرالحلم کیف واذاعلم انہ مذی حقیقۃ لم یحتمل کونہ منیااصلا واذا لم یحتمل کونہ منیاامتنع ان یوجب غسلا ولوتذکرالف حلم لماعلم من الشرع ضرورۃ ان لاماء موجبا للماء الا المنی فیکون ایجابہ بما علم انہ مذی حقیقۃ تشریعاجدیداوالعیاذ بالله تعالی اما تراھم مفصحین بانالانوجب الغسل بالمذی بل قدیرق المنی فیری کالمذی کما تقدم فقد ابانوا ان لیس المراد العلم بحقیقۃ المذی والا لم تحتمل                             

تو ایسی حالت میں کسی شئی کی صورت کا یقین فقہی بلکہ کلامی بھی اس کی ضد کی حقیقت کے احتمال کلامی بلکہ فقہی کے ساتھ بھی جمع ہوتاہے جب کہ وہ احتمال کسی دلیل غیر مضمحل سے پیدا ہو ۔

جب یہ ذہن نشین ہو گیا تو میں کہتاہوں اس کی گنجائش نہیں کہ یہاں مذ کورہ صورتیں معین طور پر شئی کی حقیقت سے علم متعلق ہونے کے اعتبار سے لی جائیں ۔ اس کی چند وجہیں ہیں جن کی جامع وجہ اول ہے وہ یہ کہ اس سے وہ باطل ہوجائیگا جس پر اجماع ہے کہ خواب یا دہونے کی صورت میں مذی کے علم ویقین سے غسل واجب ہو تاہے۔ یہ کیسے ہو سکے گا جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ حقیقۃ  مذی ہے تو اس کے منی ہونے کا احتمال بالکل نہ رہا ۔ اور جب اس کے منی ہو نے کا احتمال نہ رہا تو ناممکن ہے کہ اس سے غسل واجب ہواگر چہ اسے ہزار خواب یاد ہوں اس لئے کہ شرع سے ضروری طور پر معلوم ہے کہ سوامنی کے کوئی پانی ، غسل واجب نہیں کرتا ۔ توا سے جس پانی کے حقیقۃ مذی ہونے کا یقین ہو گیا اس سے غسل واجب کرنا ایك نئی شریعت نکا لنا ہوگا ، والعیاذ بالله تعالٰی ۔ دیکھتے نہیں کہ علماء صاف لکھتے ہیں کہ ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے بلکہ بات یہ ہے کہ کبھی منی رقیق ہو کر مذی کی طرح دکھائی دیتی ہے ۔ جیسا کہ گزرا۔ ان الفاظ سے ان حضرات نے واضح کردیا کہ حقیقت مذی کا

فــــ : معروضہ علی العلامۃ ش۔

المنویۃ لما علمت۔

فان قلت العلم الفقہی بشیئ لاینفی احتمال ضدہ بل یحققۃ اذماھوالاغلبۃ ظن فلوقطع الاحتمال لکان قطعا۔ قلت بلی ینفی الفقہی اذلو نشأعن دلیل غیرساقط نفی غلبۃ الظن بضدہ والالم یکن احتمالا یبنی علیہ حکم فقہی لان الساقط المضمحل لاعبرۃ بہ کما سمعت والا لوجب الغسل فی علم الودی ایضا لاسیما عند تذکر الحلم اذیحتمل ان یکون فیہ قلیل منی رق وامتزج فصارمستہلکاولیس ھذا احتمالا عن غیردلیل فکفی بتذکر الاحتلام دلیلا علیہ بل النوم نفسہ مظنۃ لہ علی ماتقدم عن التجنیس والمزید۔

وثانیھا فــــ انہ یرفع الفرق بین التذکر وعدمہ علی مذھب الطرفین رضی الله تعالی عنہما لانھما یوجبان الغسل باحتمال المنی قطعا مطلقا وان لم یتذکر                         

یقین وعلم مراد نہیں ، ورنہ منی ہونے کااحتمال ہی نہ رہتا ۔ وجہ ابھی معلوم ہوئی ۔

اگر یہ کہو کہ کسی شئی کا یقین فقہی اس کی ضد کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کا اثبات کرتا ہے اس لئے کہ علم فقہی وہی غلبہ ظن ہے اگر احتمال ختم کردیا جائے تو وہ قطعی ہو جائے۔ میں کہوں گا کیوں نہیں ؟وہ احتمال فقہی کی نفی کرتا ہے ۔ اس لئے کہ احتمال اگر دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہے تو اپنی ضد کے غلبہ ظن کی نفی کردے گا ورنہ وہ ایسا احتمال ہی نہ ہوگا جس پر کسی فقہی حکم کی بنیاد رکھی جائے اس لئے کہ ساقط مضمحل کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن