30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا : اسی میں احتیاط بیشتر اور امر عبادات میں احتیاط کا لحاظ اوفر۔
رابعًا : اس کے اختیار فرمانے والوں کی جلالتِ شان جن میں امام اجل فقیہ ابو اللیث سمرقندی صاحب حصرو امام ملك العلما ابو بکر مسعود کا شانی وامام اجل نجم الدین عمر نسفی وامام علی بن محمد اسبیجابی ہردو استاذ امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ وخودامام اجل صاحبِ تجنیس وہدایہ وامام ظہیر الدین محمد بخاری وامام فقیہ النفس قاضیخان وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم ائمہ ترجیح وفتوے بکثرت ہیں اور قول اول کی طرف زیادہ متاخرین قریب العصر۔
اور اگر تطبیق کی طرف چلئے تو نظر ظاہر میں وہ توفیق حاضر جسے علامہ شامی عــــہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے
عــــہ : قال رحمہ الله تعالٰی تحت قول
عــــہ : علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے متن کی عبارت (باقی برصفحہ آئندہ)
اختیار کیااور من وجہ اُس کاپتااور بعض کتب سے بھی چلتاہے کہ قولِ اوّل میں حقیقت مذی مراد ہے یعنی جب یقین یا غلبہ ظن سے کہ وہ بھی فقہیات میں مثل یقین ہے معلوم ہو کہ یہ تری حقیقۃً مذی ہے ، اُس کا منی ہونا محتمل نہیں تو بالاجماع غسل نہ ہوگااور قول دوم میں صورت مذی مقصود ہے یعنی صورۃً مذی ہونے کا علم ویقین ہواور دربارہ حقیقت تردد کہ شاید منی ہو جو گرمی پاکر اس شکل پر ہوگئی۔ عبارت درِمختار ابھی گزری ، عبارت نقایہ رؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی ([1])کی جامع الرموز میں یوں تفسیر کی :
(المنی) ای شیا یتیقن انہ منی
(منی) یعنی ایسی چیز جس کے متعلق اس کا یقین یہ ہے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الماتن رؤیۃ مستیقظ منیااومذیا([2])قولہ اومذیا یقتضی انہ اذا علم مذی ولم یتذکر احتلاما یجب الغسل وقدعلمت خلافہ وعبارۃ النقایۃ کعبارۃ المصنف واشارالقہستانی الی الجواب حیث فسرقولہ اومذیابقولہ ای شیا شك فیہ انہ منی اومذی فالمراد ماصورتہ المذی لاحقیقتہ اھ فلیس فیہ مخالفۃ لما تقدم فافھم[3] اھ فافادان المراد فی قول النفاۃ العلم بحقیقۃ المذی وفی قول الموجبین العلم بصورتہ فلا خلاف اھ منہ ۔ “ رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا “
(بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا موجب غسل ہے)کے تحت فرمایا عبارتِ متن “ او مذیا “ کا تقاضا یہ ہے کہ جب اسے مذی ہونے کا یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہوتو غسل واجب ہوا ، اور تمہیں اس کے خلاف حکم معلوم ہوچکا ، اور نقایہ کی عبارت بھی عبارتِ مصنف ہی کی طرح ہے اس کے تحت قہستانی نے جواب کی طر ف اشارہ کیا ۔ اس طرح کہ عبارتِ نقایہ “ اومذیا “ کی تفسیر یہ کی یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں شك ہو کہ وہ منی ہے یامذی ، تو مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے وہ نہیں جو حقیقتًا مذی ہے اھ تو اس میں حکم سابق کی مخالفت نہیں فافہم اھ۔ اس سے علامہ شامی نے یہ افادہ کیا کہ وجوبِ غسل کی نفی کرنے والے حضرات کے قول میں حقیقت مذی کا یقین مراد ہے اور وجوبِ غسل قراردینے والوں کے قول میں صورت مذی کا یقین مراد ہے تو کوئی اختلاف نہیں ۱۲ منہ(ت)
(اوالمذی)ای شیا یشك فیہ انہ منی اومذی تذکر الاحتلام اولا وھذا عندھماالخ ([4])
کہ وہ منی ہے(یا مذی)یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں اسے شك ہے کہ وہ منی ہے یا مذی۔ احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ اور یہ طرفین کے نزدیك ہے الخ۔ (ت)
عبارت مذکورہ وقایہ پر ذخیرۃ العقبی میں لکھا :
لایقال قد صرح فی جمیع المعتبرات بانہ لا یوجب الغسل کالودی فما بال المصنف رحمہ الله تعالٰی عدرؤیتہ من الموجبات لانا نقول الذی یحکم علیہ بعدم کونہ موجبا ھوالمذی یقینا والذی عدموجباھومایکون فی صورتہ مع احتمال کونہ منیارقیقاکمااشارالیہ الشارح رحمہ الله تعالٰی بقولہ اماالمذی فلاحتمال کونہ الخ ([5])
یہاں اعتراض ہوسکتاہے کہ تمام معتبر کتابوں میں تصریح ہے کہ ودی کی طرح مذی سے بھی غسل واجب نہیں ہوتا پھر کیا وجہ ہے کہ مصنف نے مذی دیکھنے کو موجباتِ غسل میں شمار کیا مگر اس کا جواب یہ ہے کہ جس مذی کے غیر موجب ہونے کا حکم ہے وہ مذی یقینی ہے اور جسے موجب غسل شمار کیاہے وہ ایسی تری ہے جو مذی کی صورت میں ہے اور اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ رقیق منی ہو جیسا کہ اس طرف شارح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے ا س قول سے اشارہ فرمایاکہ “ لیکن مذی تو اس لئے کہ احتمال ہے کہ “ الخ ۔ (ت)
اور تحقیق چاہئے توحقیقت امر وہ ہے جس کی طرف محقق علی الاطلاق نے اشارہ فرمایا یعنی قول اول ضرور فی نفسہٖ ایك ٹھیك بات ہے۔ واقعی جب ثابت ہوجائے کہ یہ تری فی الحقیقۃ مذی ہے تو بالضرورۃ منی ہونا محتمل نہ رہے گا اور جب منی کا احتمال تك نہیں تو با لاجماع عدم وجوب غسل میں کوئی شك نہیں مگر مانحن فیہ یعنی سوتے سے اٹھ کر تری دیکھنے میں یہ صورت کبھی موجود نہ ہوگی جب مذی دیکھی جائے گی منی ضرور محتمل رہے گی کہ بارہا بدن یا ہوا کی گرمی سے منی رقیق ہو کر شکل مذی ہوجاتی ہے تو بیدار ہوکر دیکھنے والے کو علم مذی ہمیشہ احتمال منی ہے اورشك نہیں کہ مذہب طرفین میں اُسے احتمال منی ہمیشہ موجب غسل ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو تو اس صورت میں بھی امام اعظم وامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیك وجوبِ غسل لازم بالجملہ ترجیح لویا تطبیق چلو۔ بہرحال صحیح وثابت وہی قول دوم ہے وبالله التوفیق۔
اقول : وبیان ذلك علی ماظھر للعبد الضعیف بحسن التوقیف من المولی اللطیف ان فـــــ الحکم بشیئ اما ان یحتمل خلافہ احتمالا صحیحا ناشئا عن دلیل غیر ساقط حتی یکون للقلب الیہ رکون اولا الاول ھو الظن باصطلاح الفقہ والثانی العلم ویشمل مااذالم یکن ثمہ تصورماللخلاف اصلا وھو الیقین بالمعنی الاخص او کان تصورہ بمجردامکانہ فی حدنفسہ من دون ان یکون ھھنا مثارلہ من دلیل مااصلا وھو الیقین با لمعنی الاعم اوکان عن دلیل ساقط مضمحل لا یرکن الیہ القلب و ھو غالب الظن واکبرالرأی و الیقین الفقہی لالتحاقۃ فیہ بالیقین۔
وبہ علم ان فی الاحکام الفقھیۃ لاعبرۃ بالاحتمال المضمحل الساقط اصلاکما لاحاجۃ الی الیقین الجازم بشیئ من المعنیین کذلك ففی بناء
اقول : اس کا بیان جیسا کہ رب لطیف کے حسن توقیف سے بندہ ضعیف پر منکشف ہوایہ ہے کہ کسی شئی کا حکم کرنے میں یا تو اس کے خلاف کا احتمال ہوگا۔ ایسااحتمال صحیح جو دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہویہاں تك کہ اس کی جانب دل کاجھکاؤ ہو۔ یا اس کے خلاف کا ایسا احتمال نہ ہوگا۔ اول اصطلاح فقہ میں ظن کہلاتاہے ۔ اور ثانی کو علم و یقین کہا جاتاہے۔ اس علم کے تحت تین صورتیں ہوتی ہیں (۱)خلاف کا وہاں بالکل کوئی تصور ہی نہ ہو۔ یہ یقین بمعنی اخص ہے (۲)خلاف کا تصور محض اس کے فی نفسہٖ ممکن ہونے کی حد تك ہو ، اس پر کسی طرح کی کوئی دلیل بالکل نہ ہویہ یقین بمعنی اعم ہے(۳)خلاف کا تصور ایسی کمزور ساقط دلیل سے پیدا ہو جس کی طرف دل کا جھکاؤ نہ ہو۔ یہ غالب ظن ، اکبر رائے اور یقین فقہی کہلاتا ہے اس لئے کہ فقہ میں اسے یقین کا حکم حاصل ہے ۔
اسی سے معلوم ہواکہ فقہی احکام میں کمزور ساقط احتمال کا بالکل کوئی اعتبار نہیں ۔ جیسے اس میں ان دونوں معنوں میں یقین جازم کی بھی احتیاج نہیں ۔ تو فقہابنائے احکام میں جب
فــــ : فائدہ : معانی العلم والظن والاحتمال فی اصطلاح الفقہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع