30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے استفتاء ہو اکہ آدمی تری پائے اور احتلام یاد نہیں ۔ فرمایا : نہائے عرض کی : احتلام یاد ہے اور تری نہ پائی ۔ فرمایا : اس پر غسل نہیں ۔
مولٰنا علی قاری شرح مشکوٰۃ میں یجد البلل کے نیچے لکھتے ہیں : منیا کان او مذیا ([1])۔ (منی ہو یا مذی۔ ت)
لمعات التنقیح میں ہے :
مذھب ابی حنیفۃ ومحمد انہ اذا رأی المستیقظ بللا منیا کان اومذیا وجب الغسل یتذکر الاحتلام اولم یتذکر قال الشُّمُنِّی قال ابو یوسف لاغسل اذارأی مذیا ولم یتذکر الاحتلام لان خروج المذی یوجب الوضوء لاالغسل ومتمسکہما ھذا الحدیث )[2](۔
امام ابو حنیفہ وامام محمد کا مذہب یہ ہے کہ جب بیدار ہونے والا تری دیکھے ۔ منی ہو یا مذی ۔ تو اس پر غسل واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ شمُنّی نے فرمایا : امام ابو یوسف کا قول ہے کہ اس صورت میں غسل نہیں جب مذی دیکھے اوراحتلام یاد نہ ہو اس لئے کہ مذی نکلنے سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں ، اور طرفین کا استدلال اسی حدیث سے ہے۔ (ت)
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالٰی لہ فقہ وغیرہ ہر فن میں اختلاف اقوال بکثرت ہوتا ہے مگر اس رنگ کا اختلاف نادر ہے کہ ہر فریق یوں کلام فرماتا ہے گویا مسئلہ میں ایك یہی قول ہے قول دیگر واختلاف باہم کا اشعار تك نہیں کرتا گویا خلاف پر اطلاع ہی نہیں یہاں تك کہ جہاں ایك فریق کے شراح نے اپنے مشروح کا خلاف بھی کیا وہاں بھی ایرادیااصلاح کارنگ برتانہ یہ کہ مسئلہ خلافیہ ہے اور ہمارے نزدیك ارجح یہ ہے مثلًا عبارت مذکور تنویر الابصار میں کہ فریق دوم کے موافق تھی مدقق علائی نے یہ استثنا بڑھایا :
الا اذا علم انہ مذی اوشك انہ مذی اوودی اوکان ذکرہ منتشرا قبل النوم فلا غسل علیہ اتفاقا )[3](۔
مگر جب یقین ہو کہ وہ مذی ہے ، یا شك ہوکہ مذی ہے یا ودی ، یا سونے سے پہلے ذَکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
علامہ طحطاوی نے فرمایا :
یرد علی المصنف انہ فی صورۃ المذی مع عدم التذکر لایلزمہ الغسل وقدافادہ الشارح بقولہ
مصنف پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ احتلام یادنہ ہونے کے ساتھ مذی کی صورت میں غسل لازم نہیں ہوتا ، شارح نے اپنے قول “ مگر جب یقین ہو الخ “ سے
الا اذا علم ([4])۔
اس کا افادہ کیا۔ (ت)
علامہ شامی نے فرمایا :
اعلم ان الشارح قد اصلح عبارۃ المصنف فان قولہ اومذیایحتمل انہ رأی مذیا حقیقۃ بان علم انہ مذی اوصورۃ بان شك انہ مذی اوودی اوشك انہ مذی اومنی فاستثنی ماعدا الاخیر وصار قولہ اومذیا مفروضا فیما اذا شك انہ مذی اومنی فقط فھذہ الصورۃ یجب فیھا الغسل وان لم یتذکر الاحتلام لکن بقیت ھذہ صادقۃ بما اذاکان ذکرہ منتشرا قبل النوم اولا مع انہ اذاکان منتشرا لایجب الغسل فاستثناہ ایضا فصارجملۃ المستثنیات ثلث صور لایجب فیھا الغسل اتفاقا مع عدم تذکر الاحتلام الخ([5])۔
واضح ہو کہ شارح نے عبارتِ مصنف کی اصلاح فرمائی ہے اس لئے کہ ان کے قول “ اومذیا “ میں احتمال تھا کہ اس نے حقیقۃً مذی دیکھی ہو اس طرح کہ اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے۔ یا صورۃً مذی دیکھی اس طرح کہ اسے شك ہو کہ وہ مذی ہے یا ودی ، یا شك ہو کہ وہ مذی ہے یا منی ۔ تو ماسوائے اخیر کا استثناء کردیا اور ان کا قول “ او مذیا “ کی صورت مفروضہ ہوگئی جس میں صرف یہ شك ہے کہ مذی ہے یامنی۔ تواس صورت میں غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ لیکن یہ اس صورت پر بھی صادق ٹھہری جب سونے سے قبل ذَکر منتشر رہاہویانہ رہاہوحالاں کہ منتشر ہونے کی صورت میں غسل واجب نہیں ہوتا تو اس صورت کا بھی استثناء کردیا اب کل تین صورتیں مستثنٰی ہوگئیں جن میں احتلام یاد نہ ہونے کے ساتھ بالاتفاق غسل واجب نہیں ہوتا(ت) اور اسی کے مثل جامع الرموز علامہ قہستانی سے آتا ہے ان شاء الله تعالٰی ۔ اُدھر صاحب منیۃ المصلی نے جو عبارت مذکورہ میں فریق اول کا قول اختیار کیا۔
علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں اس پر یوں فرمایا :
المصنف مشی علی قول ابی یوسف ولم ینبہ علیہ فیوھم انہ مجمع علیہ علی ان الفتوی علی
مصنف کی مشی امام ابو یوسف کے قول پر ہے مگر اس پر تنبیہ نہ کی جس سے یہ وہم ہوتاہے کہ اس حکم پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔ علاوہ ازیں فتوٰی طرفین
قولھما([6])۔
کے قول پر ہے۔ (ت)
حالانکہ فریق اول کے طور پر ضروریہ قول مجمع علیہ ہی تھایوہیں حلیہ میں عبارت مذکورہ مصفی سے مبسوط ومحیط ومغنی کے نصوص نقل کرکے فرمایا :
یفید عدم الوجوب بالاجماع فی المذی کمافی الودی ولیس کذلك بل ھو علی الخلاف کما صرح بہ نفس صاحب المصفی فی الکافی وقاضی خان فی فتاوٰیہ وغیرھمامن المشائخ([7]) اھ
اس کا مفاد یہ ہے کہ ودی کی طرح مذی میں بھی بالاجماع غسل واجب نہیں ، حالاں کہ ایسا نہیں بلکہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ خود صاحبِ مصفی نے کافی میں ، امام قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں اور دیگر مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
بالجملہ یہ خلاف نوادر دہر سے ہے اور راہ تطبیق ہے یا ترجیح۔ اگر ترجیح لیجئے فاقول وہ تو سردست بوجوہ قول دوم کیلئے حاضر۔
اولًا : اسی پر متون ہیں ۔
ثانیا : اسی طرف اکثر ہیں وانما العمل بما علیہ الاکثر([8])۔ (عمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ ت)
[1] مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۴۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۴
[2] لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، تاب الطہارۃ ، باب فی الغسل ، حدیث ۴۴۱ ، المکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۱۳،۱۱۴
[3] الدرمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
[4] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۹۲
[5] ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰۹
[6] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
[7] حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
[8] ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ المریض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع