30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی پائی تواس پر غسل ہو گا اگراحتلام یاد ہو تو بالاجماع-اور یاد نہ ہو تو امام ابو حنیفہ اورامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے نزدیك -اس لئے کہ نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اسے اسی کے حوالے کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا یا غذا سے رقیق ہوگئی ، توہم نے احتیاطًا اسے منی ہی مانا اھ من فتح القدیر ملتقطًا۔ ( ت)
حلیہ میں مصفی سے ہے :
ذکر فی الحصر والمختلف والفتاوی الظھیریۃ انہ اذا استیقظ فرأی مذیا وقد تذکر الاحتلام اولم یذکرہ فلاغسل علیہ عند ابی یوسف وقالا علیہ الغسل ([1])۔
حصر ، مختلف اور فتاوی ظہیریہ میں ذکر کیا ہے کہ جب بیدار ہوکرمذی دیکھے اور احتلام یاد ہے یا نہیں توامام ابو یوسف کے نزدیك اس پر غسل نہیں ، اور طرفین نے فرمایا اس پر غسل ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے :
وجوب الغسل اذالم یتذکر حلما وتیقن انہ مذی اوشك فی انہ منی اومذی قول ابی حنیفۃ ومحمد خلافا لابی یوسف([2])۔
جب خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ یہ مذی ہے یا شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو اس صورت میں وجوبِ غسل کا حکم امام ابو حنیفہ وامام محمد کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف کے ، رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ۔ (ت)
اُسی میں ہے :
اطلق الجم الغفیر انہ اذا استیقظ ووجد مذیا یعنی ما صورتہ صورۃ المذی ولم یتذکر الاحتلام یجب علیہ الغسل عند ابی حنیفۃ و محمد خلافا لابی یوسف([3])۔
جم غفیر نے بتایا کہ جب بیدار ہو اور مذی پائے یعنی وہ جو مذی کی صورت میں ہے اور احتلام یاد نہیں تو امام ابو حنیفہ وامام محمدکے نزدیك اس پر غسل واجب ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ (ت)
خزانہ امام سمعانی میں برمزطح لشرح الطحاوی ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ بللا فانکان مذیا فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالٰی یجب الغسل احتیاطاتذکرالاحتلام اولم یتذکر وقال ابو یوسف رحمہ الله تعالٰی لاغسل علیہ حتی یتیقن بالاحتلام([4])۔
بیدار ہوکر اپنے بستر پر تری پائی اگر وہ مذی ہوتوامام ابو حنیفہ وامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے نزدیك احتیاطًا اس پر غسل واجب ہے ۔ احتلام یاد ہویانہ ہو۔ اورامام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : اس پر غسل نہیں یہاں تك کہ اسے احتلام کا یقین ہو ۔ (ت)
ارکان بحرالعلوم میں ہے :
من موجبات الغسل وجدان المستیقظ البلل سواء کان منیااومذیاوسواء تذکرالاحتلام ام لا عند الامام ابی حنیفۃ والامام محمد وقال ابویوسف لا
غسل کے موجبات میں سے یہ ہے کہ بیدار ہونے والا تری پائے خواہ وہ منی ہو یا مذی اور خواہ اسے احتلام یاد ہویانہ ہوامام ابو حنیفہ وامام محمد کے نزدیك ۔ اورامام ابو یوسف نے نفی کی اس لئے
لان الغسل لایجب بالاحتمال ولھماماروی الترمذی وابوداؤد عن ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنہا(فذکرالحدیث المذکور ثم قال) المعنی فی وجوب الغسل علی المستیقظ الواجد البلل ان النوم حالۃ غفلۃ ویتوجہ الی دفع الفضلات ویکون الذکرصلباشاھیاللجماع ولذا یکثر فی النوم الاحتلام وخروج المنی یکون بشھوۃ غالبابخلاف حالۃ الیقظۃ فانہ یندرفیہ خروج المنی بلاتحریك فاذا وجد المستیقظ البلل فالغالب انہ منی دفعہ الطبیعۃ بشھوۃ وان کان البلل رقیقا مثل الذی فالغالب فیہ انہ رق بحرارۃ البدن فاوجب الشارع فی البلل الغسل مطلقا لانہ مظنۃ الخروج بالشھوۃ فافھم([5])۔
کہ محض احتمال سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ اور طرفین کی دلیل وہ حدیث ہے جو ترمذی و ابوداؤد نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کی(اس کے بعد حدیثِ مذکور بیان کی ، پھر بیان فرمایا : ) بیدار ہوکر تری پانے والے پر غسل واجب ہونے کا سبب یہ ہے کہ نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اوراس وقت ذَکر میں سختی و شہوتِ جماع ہوتی ہے۔ اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ ہوتا ہے۔ بیداری کی حالت میں ایسا نہیں ، اس میں بغیر تحریك کے منی نکلنا نادر ہے ۔ تو بیدار ہونے والا جب تری پائے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جسے طبیعت نے شہوت کے ساتھ دفع کیا ہے ۔ اورتری اگر مذی کی طرح رقیق ہوتو اس کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ وہ بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی ہے تو شارع نے تری میں مطلقًا غسل واجب کیا اس لئے کہ اس میں شہوت سے نکلنے کے گمان کا موقع ہے ۔ فافہم (ت)
کبیری علی المنیہ میں قول مذکور متن کو عند ابی یوسف سے مقید کرکے وعندھما یجب([6])فرمایا ۔ پھر محل دلیل میں افادہ کیا :
قولھماوجوب الغسل اذاتیقن انہ
طرفین کا قول کہ غسل واجب ہے جب یقین ہوکہ
مذی ولم یتذکرالاحتلام لان النوم حال ذھول وغفلۃ شدیدۃ یقع فیہ اشیاء فلا یشعربھافتیقن کون البلل مذیالایکاد یمکن الا باعتبارصورتہ و رقتہ وتلك الصورۃ کثیراما تکون للمنی بسبب بعض الاغذیۃ ونحوھا مما یوجب غلبۃ الرطوبۃ ورقۃ الاخلاط والفضلات وبسبب فعل الحرارۃ والھواء فوجوب الغسل ھوالوجہ ([7])۔
وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند ذہول اور شدید غفلت کی حالت ہے اس میں بہت سی ایسی چیزیں واقع ہوجاتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے ہوپائے گا اور یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے جس کا سبب بعض غذائیں اور ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے رطوبت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ خِلطیں اور فضلات رقیق ہوجاتے ہیں اور حرارت وہوا کے عمل سے بھی ایسا ہوتا ہے تو غسل کا وجوب ہی صحیح صورت ہے۔ (ت)
سنن دارمی وابو داؤد وترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہے :
قالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجد البلل ولا یتذکر احتلاما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل وعن الرجل الذی یری انہ قداحتلم ولا یجد بللا قال لاغسل علیہ ([8])۔
[1] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[2] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[3] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[4] خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل (قلمی فوٹو) ۱ / ۵
[5] رسائل الارکان الرسالۃالاولٰی فی الصّلوٰۃ فصل فی الغسل مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۳
[6] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
[7] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
[8] سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل یجد البلۃ فی منامہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۱ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب من احتلم ولم یر بللا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۵ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ حدیث ۱۱۳ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۶۴۔ سنن الدارمی باب من یری بللا حدیث ۷۷۱ دارالمحاسن الطباعۃ القاھرہ ۱ / ۱۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع