دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فــــ : مسئلہ : بیماری وغیرہ سے غش آگیا یا معاذالله نشہ سے بیہوش ہوا اس کے بعد جو ہوش آیا تو اپنے کپڑے یا بدن پر مذی پائی تو اس پر سوا وضو کے غسل نہ ہوگا اس کا حکم سوتے سے جاگ کر مذی دیکھنے کے مثل نہیں کہ وہاں غسل واجب ہوتا ہے۔

بمرور الزمان فیصیر فی صورۃ المذی کذافی البدائع ایضا ([1])۔

کہ منی کبھی وقت گزرنے کی وجہ سے رقیق ہوکر مذی کی صورت میں ہوجاتی ہے ۔ ایسا بدائع میں بھی ہے۔ (ت)

جواہر الفتاوٰی کے باب رابع میں کہ فتاوائے امام اجل نجم الدین نسفی کے لئے معقود ہوتا ہے فرمایا :

استیقظ وتذکر انہ رأی فی منامہ مباشرۃ ولم یربللا علی ثوبہ ولا فرشہ ومکث ساعۃ فخرج مذی لایجب الغسل لظاھر الحدیث من احتلم ولم یربللا فلاشیئ علیہ ولیس ھذا کما استیقظ ورأی بلۃ یلزمہ الغسل عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لانھما یحملان انہ کان منیا فرق بمرور الزمان وھھنا عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل قال ولا یلزم ھذا من احتلم لیلا فاستیقظ ولم یربللا فتوضأ وصلی الفجر ثم نزل المنی یجب الغسل وجازت صلاۃ الفجر عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالٰی لانہ انما یجب الغسل بنزول المنی بعد ما استیقظ ولہذا لایعید الفجر بخلاف مسألتنا لانہ زال                                              

نیند سے بیدار ہوا اور اسے یاد آیا کہ اس نے خواب میں مباشرت دیکھی ہے اور اپنے کپڑے اور بستر پر کوئی تری نہ پائی اور کچھ دیر کے بعد مذی نکلی تواس پر غسل واجب نہیں ، اس کی دلیل اس حدیث کا ظاہر ہے کہ “ جس نے خواب دیکھا اور تری نہ پائی تواس پر کچھ نہیں “ ۔ اور یہ اس صورت کی طرح نہیں جب بیدار ہوا اور تری دیکھے ۔ اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے نزدیك غسل لازم ہے اس لئے کہ ان کے نزدیك وہ اس پر محمول ہے کہ منی تھی وقت گزرنے کے کی وجہ سے رقیق ہوگئی۔ اور یہاں تو اس نے مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا ہے اس لئے اس پر وضو واجب ہے غسل نہیں ۔ فرماتے ہیں : اس پر اس مسئلے سے اعتراض نہ ہوگا کہ کسی نے رات کو خواب دیکھا اور بیدار ہوا تو تری نہ پائی ،  وضو کرکے نمازِ فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اور نمازِ فجر ہوگئی ۔ امام ابو حنیفہ وامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے نزدیك - اس لئے کہ یہاں بیداری کے بعد منی نکلنے کی وجہ سے غسل واجب ہوا اسی لئے اسے نمازِ فجر کا اعادہ نہیں کرنا ہے اور مسئلہ سابقہ میں ایسا نہیں اس لئے کہ بیدار

المذی بعدما استیقظ وھو یراہ فلم یلزم الغسل لانہ مذی ([2]) اھ بنحو اختصار ۔

ہونے کے بعد اس کے سامنے مذی نکلی تو مذی ہونے کی وجہ سے اس پر غسل لازم نہ ہوا ، اھ کچھ اختصار کے ساتھ عبارت ختم ہوئی ۔ (ت)

فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :

انتبہ ورأی علی فراشہ اوفخذہ المذی یلزمہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی تذکر الاحتلام اولم یتذکر ([3])۔

بیدار ہوا اپنے بستر یا ران پر مذی دیکھی توامام ابو حنیفہ اورامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے قول پر غسل اس پر لازم ہے احتلام یاد ہو نہ ہو۔

اسی میں ہے :

مغمی علیہ افاق فوجد مذیا لاغسل علیہ وکذا السکران ولیس ھذا کالنوم لان مایراہ النائم سببہ مایجدہ من اللذۃ والراحۃ التی تھیج منھا الشہوۃ والاغماء والسکر لیسا من اسباب الراحۃ ([4])۔                                                                                                                                                                                                                                 

بے ہوش تھا افاقہ ہوا تو مذی پائی اس پر غسل نہیں ۔ یہی حکم نشہ والے کا ہے اور یہ نیند کی طرح نہیں ، اس لئے کہ سونے والا جو دیکھتا ہے اس کا سبب اسے محسوس ہونے والی وہ لذت و راحت ہے جس سے شہوت برانگیختہ ہوتی ہے اور بیہوشی و نشہ ، راحت کے اسباب سے نہیں ۔

سراجیہ میں ہے :

اذا استیقظ النائم فوجد علی فراشہ بللا علی صورۃ المذی اوالمنی علیہ الغسل وان لم یتذکر الاحتلام ([5])۔

سونے والا بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی یا منی کی صورت میں تری پائے تو اس پر غسل ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)

وجیر امام کردری میں ہے :

احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ

خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع

اجماعا ولو منیا اومذیا لزم لان الغالب انہ منی رق لمضی الزمان ([6])۔

غسل نہیں ۔ اور اگر منی یا مذی دیکھی تو غسل لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ (ت)

اُسی میں ہے :

افاق بعد الغشی اوالسکر و وجد علی فراشہ مذیا لاغسل علیہ بخلاف النائم ([7])۔

بے ہوشی یا نشہ کے بعد ہوش آیا اور اپنے بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل نہیں ، بخلاف سونے والے کے۔ (ت)

التجنیس والمزید میں ہے :

استیقظ فوجد علی فراشہ مذیا کان علیہ الغسل ان تذکر الاحتلام بالاجماع وان لم یتذکر فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لان النوم مظنۃ الاحتلام فیحال علیہ ثم یحتمل انہ منی رق بالھواء اوالغذاء فاعتبرناہ منیااحتیاطا ([8]) اھ من الفتح ملتقطا۔  

 



[1]   مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃ  رام کانشی پرنٹنگ ورکس لاہور  ص۱ / ۵۰ ، ۵۱

[2]   جواہر الفتاوٰی  الباب الرابع قلمی فوٹو ص ۵ ، ۶

[3]   فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱

[4]   فتاوٰی قاضی خاں ، کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۲۲

[5]   الفتاوی السراجیۃ کتاب الطہارۃ  باب الغسل نولکشورلکھنؤ ص۳

[6]   الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ  الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰

[7]   الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰

[8]   التجنیس والمزید کتاب الطہارات مسئلہ۱۰۳ ادارۃالقرآن کراچی ۲ / ۱۷۸ ، ۱۷۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن