دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

(اوربیدار ہونے والے کا منی یا مذی کو دیکھنا ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو) اس لئے کہ جو تری مذی کی صورت میں نظر آرہی ہے ہو سکتاہے کہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے یا ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی ہو تو جب کسی صورت سے غسل کا وجوب ہوتاہے تو احتیاط واجب رکھنے ہی میں ہے اور اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے۔ (ت)

مختصر الوقایہ میں ہے :

ورؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی ([1])۔

بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا۔

غرر ودرر میں ہے :

(وعند رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا وان لم یتذکر حلما) لان الظاھر انہ منی رق بھواء اصابہ([2])۔

(اور بیدار ہونے والے  کے منی یا مذی دیکھنے کی صورت میں اگرچہ اسے کوئی خواب یاد نہ ہو) اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی۔ (ت)

متن وشرح علامہ شرنبلالی میں ہے :

ومنھا (وجود ماء رقیق بعد) الانتباہ من (النوم) ولم یتذکر احتلاما عندھما خلافا لابی یوسف وبقولہ اخذ خلف بن ایوب وابو اللیث لانہ مذی وھو الاقیس ولھما ماروی انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سئل عن الرجل یجد البلل ولم یذکر احتلاما قال یغتسل ولان النوم راحۃ تھیج الشھوۃ وقد یرق المنی لعارض والاحتیاط لازم فی العبادات([3])۔                                                                                                                                                                               

اور انہی اسباب میں سے (یہ ہے کہ نیند) سے بیدارہونے (کے بعد رقیق پانی پائے) اور اسے احتلام یاد نہ ہو۔ یہ طرفین کے نزدیك ہے امام ابویوسف اس کے خلا ف ہیں اور امام ابو یوسف ہی کا قول خلف بن ایوب اور امام ابواللیث نے اختیار کیا ہے اس لئے کہ وہ مذی ہے۔ اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اور طرفین کی دلیل وہ روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اس مرد کے بارے میں سوال ہوا جو تری پائے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا غسل کرے ۔ اور اس لئے بھی کہ نیند میں ایك راحت ہوتی ہے جو شہوت کو برانگیختہ کرتی ہے اور منی کبھی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اور عبادات کے معاملے میں احتیاط لازم ہے ۔ (ت)

تنویر الابصار میں ہے :

ورؤیۃ المستیقظ منیا اومذیا وان لم یتذکر الاحتلام([4])۔

اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنااگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)

ملتقی ومجمع میں ہے :

(و) فرض (لرؤیۃ مستیقظ لم یتذکر الاحتلام بللا ولو مذیا) عند الطرفین (خلافالہ) ای لابی یوسف لہ ان الاصل براء ۃ الذمۃ فلایجب الا بیقین وھو القیاس ولھما ان النائم غافل والمنی قد یرق بالھواء فیصیر مثل المذی فیجب علیہ احتیاطا ([5])۔                        

(اوربیدارہونے والا جسے احتلام یاد نہ ہو اس کے تری دیکھنے کے سبب اگرچہ وہ مذی ہی ہو )غسل فرض ہے طرفین کے نزدیك ۔ (بخلاف ان کے ) یعنی امام ابو یوسف کے۔ انکی دلیل یہ ہے کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ذمہ غسل نہیں ہے پھر اس کے بخلاف اس پر غسل کا وجوب ، بغیر یقین کے نہ ہوگا اور قیاس یہی ہے۔ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ سونے والا غافل ہوتا ہے۔ اور منی کبھی ہوا سے رقیق ہوکر مذی ہوجاتی ہے تو احتیاطًا اس پر غسل واجب ہوگا۔ (ت)

جوہر نیرہ میں ہے :

فی الخجندی ان کان منیا وجب الغسل بالاتفاق وان کان مذیا وجب عندھما تذکر الاحتلام او لا وقال ابو یوسف لایجب الا اذا تیقن الاحتلام([6])۔

خجندی میں ہے : اگر منی ہو تو بالاتفاق غسل واجب ہے۔ اور اگرمذی ہو تو طرفین کے نزدیك واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ اور امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں مگر جب احتلام کا یقین ہو۔ (ت)

شرح امام زیلعی میں ہے :

غشی فـــ علیہ اوکان سکران فوجد علی فخذہ او فراشہ مذیا لم یلزمہ الغسل لانہ یحال بہ علی ھذا السبب الظاھر بخلاف النائم ([7])۔

بے ہوش ہوا یا نشے میں تھا پھر اپنی ران یا بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل لازم نہ ہوگا اس لئے کہ اس مذی کو اسی ظاہری سبب کے حوالے کیا جائے گا بخلاف سونے والے کے۔ (ت)

مستخلص الحقائق میں ہے :

(لامذی و ودی واحتلام بلابلل) روی الشیخ ابو منصور الماتریدی باسنادہ الی عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال اذا رأی الرجل بعد ماینتبہ من نومہ بللا ولم یتذکر الاحتلام اغتسل وان تذکر الاحتلام ولم یر بللا فلا غسل علیہ وھذا النص فی الباب کذا فی البدائع ثم قولہ بلابلل مطلقا یتناول المنی والمذی وقال ابو یوسف لاغسل علیہ فی المذی وھذا نص فی المنی اعتبارا بحالۃ الیقظۃ ولہما اطلاق الحدیث ولان المنی قد یرق                                  

(مذی اور ودی اور بغیرتری کے صرف خواب دیکھنا موجب غسل نہیں ) شیخ ابو منصور ماتریدی نے اپنی سند سے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کی وہ فرماتی ہیں کہ نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مرد جب نیند سے بیدارہونے کے بعد تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرے اور اگر خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر غسل نہیں ۔ اور یہ اس باب میں نص ہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔ پھر متن میں “ بغیر تری کے “ مطلق ہے منی و مذی دونوں کو شامل ہے ۔ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مذی کی صورت میں اس پر غسل نہیں ۔ اور ان کے نزدیك یہ نص منی سے متعلق ہوگا جیسے بیداری کی حالت میں اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ حدیث مطلق ہے۔ اور اس لئے بھی

 



[1]   مختصر الوقایۃ کتاب الطہارۃ نورمحمد کتب کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴

[2]   دررالحکام شرح غرر الاحکام ، کتاب الطہارۃ فرض الغسل ، میر محمدکتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۹

[3]   مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل مایوجب الاغتسال دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹

[4]   الدرالمختارشرح تنویر الابصار ، کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۱

[5]   مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۳

[6]   الجوہرۃ النیرۃ  کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۲

[7]   تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق  کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۶۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن