30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محیط برہانی ہے محیط رضوی نہیں ۔ اور اس سے نقل ہندیہ کے حوالے سے اور برجندی کے حوالے سے بلکہ اس میں اس کے بخلاف واقع ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله آئے گا ۔ رہا خلاصہ تو میرے نسخہ میں اس کی عبارت اس طرح ہے : اگر خواب دیکھا اور کوئی تری نہ پائی تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں اور اگر خواب دیکھنا یاد ہے اور تری بھی پائی اگر وہ ودی ہو تو بلااختلاف غسل واجب نہیں اور اگر مذی یا منی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے لیکن بات یہ ہے کہ دیر ہوجانے سے منی رقیق ہوجاتی ہے ۔ تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے ، حقیقتِ مذی مراد نہیں ۔ سوم جب اپنے بستر پر تری دیکھے اور احتلام یاد نہیں تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے اور امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك اس پر غسل نہیں اھ میرا خیال ہے کہ زیر بحث مسئلہ کا اس عبارت میں سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں ۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ اس میں مصفی کے برخلاف
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ
فــــ۲ : تطفل علی مصفی الامام النسفی ۔
فـــ ۳ : تطفل آخر علیہ ۔
حیث ارسل البلل ارسالا فشمل المذی وقد اوجب فیہ الغسل مع عدم التذکر ومثلہ مافی الخانیۃ عن مبسوط الامام محرر المذھب محمد بن الحسن رضی الله تعالٰی عنہ حیث قال وفی صلاۃ الاصل اذا استیقظ وعندہ انہ لم یحتلم و وجد بللا علیہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما الله تعالٰی([1]) ۔
قلت : لا تعجل و اورد الکلام موردہ فانہ اما ان یکون المراد بلل معلوم الحقیقۃ اوغیر معلومھا او اعم لاسبیل الی الاول لانہ ارسل البلل ارسالا فیشمل ما اذا علم انہ منی ولیس مرادا قطعا لان فیہ الغسل بلاخلاف وما اذا علم انہ ودی ولیس مرادا قطعا اذ لا غسل فیہ بالاتفاق ولا الی الثالث لشمولہ الاول فیعود المحذوران فتعین الثانی وکانہ لھذا ابھم وارشد بالابہام اللفظی الی الابہام المعنوی
تذکرہ موجود ہے کیونکہ اس میں تری کو بغیر کسی قید کے مطلق ذکرکیا ہے تو یہ مذی کو بھی شامل ہے اور اس میں یاد نہ ہونے کے باوجود غسل واجب کیا ہے ۔ اسی کے مثل وہ بھی ہے جو خانیہ میں محرر مذہب امام محمد بن الحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مبسوط سے نقل ہے۔ امام قاضی خاں فرماتے ہیں : مبسوط کتاب الصلوٰۃ میں ہے : جب بیدار ہو اور اس کے خیال میں یہ ہے کہ اس نے خواب نہ دیکھا اور اس نے تری پائی تو اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے قول پر غسل واجب ہے۔
تومیں کہوں گا جلدی نہ کرو اور کلام کو اس کے مورد ہی پر وارد کرو۔ اس لئے کہ یا تو ایسی تری مراد ہے جس کی حقیقت معلوم ہے یا نہ معلوم ہے یا وہ جو دونوں سے عام ہے اول ماننے کی کوئی سبیل نہیں اس لئے کہ اس میں تری کو مطلق ذکر کیا ہے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہو کہ وہ منی ہے اور یہ قطعًا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بلا اختلاف غسل ہے اور اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہوکہ وہ ودی ہے ۔ اور یہ بھی قطعًا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بالاتفاق غسل نہیں ہے۔ اور سوم ماننے کی بھی گنجائش نہیں اس لئے کہ وہ اول کو بھی شامل ہے تو اس کے تحت جو دونوں خرابیاں ہیں وہ پھر لوٹ آئیں گی اب دوسری صورت متعین ہوگئی شاید اسی لئے امام محمد نے ابہام رکھا اور لفظی ابہام سے معنوی ابہام
فالمعنی رأی بللا لایدری ماھو فھذہ صورۃ الشك فی انہ منی اوغیرہ ولا مساس لھا بصورۃ علم المذی ونظیرہ قول مسکین اذا استیقظ فوجد فی احلیلہ بللا ([2]) اھ فقال ابو السعود وشك فی کونہ منیا اومذیا خانیۃ([3])اھ وقول المنیۃ ان استیقظ فوجد فی احلیلہ بللا ([4]) الخ فقال فی الغنیۃ لایدری ا منی ھو ام مذی ([5])اھ
اقول : وبہ فــــ ظھر الجواب عن ایراد الحلیۃ بقولہ انت علیم بما فی ھذا الاطلاق فانہ یشتمل المنی والمذی ولاشك ان المنی غیر مراد منہ بالاتفاق فلاجرم ان ذکر المصنف انہ لوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل ([6]) اھ ونظائر ھذا کثیر فی کلامھم غیر یسیر۔
کی جانب رہنمائی فرمائی۔ تو معنی یہ ہے کہ ایسی تری دیکھی جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ وہ کیا ہے تو یہ اس تری کے منی یا غیر منی ہونے میں شك کی صورت ہوئی۔ اور اسے مذی کے یقین کی صورت سے کوئی مس نہیں ۔ اسی کی نظیر مسکین کی یہ عبارت ہے : اگر بیدارہونے کے بعد ذَکر کی نالی میں تری پائی الخ اس پر ابو السعود نے لکھا : اور اس کے منی یا مذی ہونے میں اسے شك ہوا-خانیہ - اھ۔ اور اسی طرح منیہ کی یہ عبارت ہے : اگر بیدار ہونے کے بعد ذَکر کی نالی میں تری پائی الخ ۔ اس پر غنیہ میں لکھا : اور اسے پتہ نہیں کہ وہ منی ہے یا مذی اھ
اقول : اسی سے حلیہ کے اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہوگیا جو ان الفاظ میں ہے : اس اطلاق میں جو خامی ہے وہ تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ وہ منی و مذی دونوں کو شامل ہے۔ اور بلا شبہ اس سے منی بالاتفاق مراد نہیں تو لا محالہ مصنف نے یہ ذکر فرمایا کہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تو اس پر غسل ہے اھ۔ اور اس کی نظیریں کلامِ علماء میں ایك دو نہیں بہت ہیں ۔ (ت)
فــــ : تطفل علی الحلیۃ
اور عامہ متون مذہب وجما ہیرا جلّہ عمائد کی تصریح ہے کہ صورت پنجم بھی مثل صورت چہارم ہمارے ائمہ میں مختلف فیہ ہے طرفین غسل واجب فرماتے ہیں اور امام ابو یوسف کا خلاف ہے رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۱وقایہ و۲نقایہ و۳اصلاح و۴غرر و۵نور الایضاح و ۶تنویر الابصار و۷ ملتقی الابحر و ۸بدائع و۹ اسبیجابی و ۱۰صدرالشریعۃ و۱۱حلیہ و۱۲غنیہ و۱۳ایضاح و ۱۴درر و ۱۵مراقی الفلاح و۱۶ جوہرہ نیرہ و ۱۷تبیین الحقائق و۱۸ مستخلص و ۱۹شمنی و ۲۰مجمع الانہر و ۲۱فتوائے امام اجل نجم الدین نسفی و۲۲جواہرالفتاوی للامام الکرمانی و۲۳خانیہ و ۲۴سراجیہ و۲۵خجندی و۲۶بزازیہ و۲۷ تجنیس و۲۸حصر و ۲۹مختلف و۳۰ظہیریہ و ۳۱خزانۃ المفتین ۳۲و ارکان اربعہ اور شروح حدیث سے۳۳ لمعات و۳۴مرقاۃ جزمًا اسی طرف ہیں اور۳۵ امام محقق علی الاطلاق نے بحثًا اُس کا افادہ فرمایا کما مر ویاتی بیانہ ان شاء الله تعالٰی(جیساکہ گزرا اور اس کا بیان ان شاء الله تعالی آگے آئیگا۔ ت)وقایہ وشرح میں ہے :
(رؤیۃ المستیقظ المنی والمذی وان لم یحتلم) امافی المنی فظاھر واما فی المذی فلاحتمال کونہ منیا رق بحرارۃ البدن وفیہ خلاف لابی یوسف([7])۔
(اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ احتلام یاد نہ ہو )منی میں تو وجہ ظاہر ہے ۔ مذی میں اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی اور اس کے بارے میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے ۔
اصلاح وایضاح میں ہے :
(و رؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی وان لم یتذکر الاحتلام) فان ماظھر فی صورۃ المذی یحتمل ان یکون منیا رق بحرارۃ البدن او باصابۃ الھواء فمتی وجب من وجہ ما فالاحتیاط فی الایجاب وفیہ خلاف لابی یوسف ([8])۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع