دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ[1] نصف آیت سوم میں وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّاسے نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۲۲) [2] تك کچھ کم دو آیتیں ، پھر كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ [3]نصف آیت ہفتم میں َ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا [4] ایك آیت ہشتم میں وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ [5] تہائی آیت نہم میں كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَؕ-اور نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ- [6]چہارم آیت وبس جس کی مقدار چورانوے۹۴ آیت طویل ہوئی یہ کس قدر مستبعد اور قرآن عظیم کے ادب سے جدا وابعد ہے تو سوا اُ ن صور استثناء کے مطلقًا ممانعت چاہئے اور فــــ۱حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ بہ نیت قرآن ایك حرف بھی روا نہیں اور جو الفاظ اپنے کلام میں زبان پر آجائیں اور بے قصد موافقت اتفاقا کلمات قرآنیہ سے متفق ہوجائیں زیر حکم نہیں اور قرآن عظیم کا خیال کرکے بے نیت قرآن ادا کرنا چاہئے تو صرف دو صورتوں میں اجازت ایك یہ کہ آیات دعا وثنا بہ نیت ودعا وثنا پڑھے دوسرے یہ کہ بحاجتِ تعلیم ایك ایك کلمہ مثلًا اس نیت سے کہ یہ زبان عرب کے الفاظ مفردہ ہیں کہتا جائے اور ہر دو لفظ میں فصل کرے متواتر نہ کہے کہ عبارت منتظم ہوجائے کما نصوا علیہ ان کے سوا کسی صورت میں اجازت نہیں ( جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ ت)

ھذا ماظھرلی وارجوا ن یکون صوابا وبالله التوفیق ولله الحمدا بدا۔

یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور امید رکھتاہوں کہ درست ہو ،  اورخداہی سے توفیق ہے اورالله ہی کے لئے ہمیشہ حمد ہے۔ (ت)

تنبیہ ۲ : اقول : تمام کتب فــــ ۲ میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایك قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علماء  نے ذکر نہ فرمائی وہ آیاتِ ثنا جن میں رب عزّوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ اُن کو بہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کیلئے متعین ہیں بندہ اُنہیں میں انشائے ثنا کی نیت کرسکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔

تنبیہ ۳ : اقول : یہاں فــــ۳ ایك اور نکتہ ہے بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا وثنا ہیں کہ بندہ ان کی

فـــ۱ :  مسئلہ : ان مسائل کا خلاصہ حکم جامع و منقح ۔

فـــ۲ : مسئلہ : جنت کو وہ آیات ثنابہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے جن میں رب عزوجل نے اپنے لئے متکلم کی ضمیریں ذکر فرمائیں

فـــ۳ : مسئلہ : جن آیات دعا وثنا کے اول میں قل ہے ان میں جنب یہ لفظ چھوڑ کر بہ نیت دعا پڑھے ورنہ جائز نہیں ۔

انشا کرسکتا ہے بلکہ بندہ کو اسی لئے تعلیم فرمائی گئی ہیں مگر اُن کے آغاز میں لفظ قل ہے جیسے تینوں  قل اور کریمہ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ [7] ان میں سے یہ لفظ چھوڑ کر پڑھے کہ اگر اس سے امر الٰہی مراد لیتا ہے تو وہ عین قرأت ہے اور اگر یہ تاویل کرے کہ خود اپنے نفس کی طرف خطاب کرکے کہتا ہے قل اس طرح کہہ یوں ثنا ودعا کر۔ تو یہ امر بدعا وثنا ہوا نہ دعا وثنا اور شرع سے اجازت اس کی ثابت ہوئی ہے نہ اُس کی۔

تنبیہ ٤ : اقول : یوں ہی فــــ۱ وہ ادعیہ واذکار جن میں حروف مقطعات ہیں مثلًا صبح فــــ۲ وشام کی دُعاؤں میں آیۃ الکرسی کے ساتھ سورہ غافر کا آغاز حٰمٓۚ(۱) تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ(۲) غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِۙ-ذِی الطَّوْلِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ(۳) [8] تك پڑھنے کو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو صبح پڑھے شام تك ہر بلا سے محفوظ رہے اور شام پڑھے تو صبح تك رواہ الترمذی [9]والبزار وابنا نصر ومردویہ والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بحال جنابت اسے نہیں پڑھ سکتا ہے کہ حروف مقطعات کے معنے الله ورسول ہی جانتے ہیں جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیا معلوم کہ وہ ایسا کلام ہو جس کے ساتھ غیر خدا بے حکایت کلام الٰہی تکلم نہ کرسکتا ہو۔ معہذا اجازت صرف دعا وثنا کی ہے کیا معلوم کہ ان کے معنے میں کچھ اور بھی ہو والله تعالٰی اعلم۔

تنبیہ ۵ : اقول : ہماری اُس تقریر سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ جن آیات فــــ۳ میں بندہ دعا وثنا کی نیت نہیں کرسکتا بحال جنابت وحیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا مثلًا تفریق اعدا کے لئے سورہ تبت نہ کہ سورہ کوثر کہ بوجہ ضمائر متکلم انا اعطینا قرآنیت کے لئے متعین ہے۔

فــــ۱ : مسئلہ : اسے حروف مقطعات والی دعا کی بھی اجازت نہیں ۔
فــــ۲ : بلاؤں سے محفوظی کی دعا۔
فــــ۳ : مسئلہ : جن آیات میں خالص دعا و ثنا نہیں انہیں جنب یا حائض بہ نیت عمل بھی نہیں پڑھ سکتے ۔

عمل میں تین نیتیں ہوتی ہیں یا ۱تو دعا جیسے حزب البحر ، حرزیمانی یا ۲الله عزوجل کے نام وکلام سے کسی مطلب خاص میں استعانت جیسے عمل سورہ یٰس وسورہ مزمل صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیا ۳اعداد معینہ خواہ ایام مقررہ تك اس غرض سے اس کی تکرار کہ عمل میں آجائے حاکم ہوجائے اُس کے موکلات تابع ہوجائیں اس تیسری نیت والے تو بحال جنابت کیا معنے بے وضو پڑھنا بھی روا نہیں رکھتے اور اگر بالفرض کوئی جرأت کرے بھی تو اس نیت فـــ۱سے وہ آیت وسورت بھی جائز نہیں ہوسکتی ۔ جس میں صرف معنی دعا وثنا ہی ہے کہ اولا یہ نیت نیت دعا وثنا نہیں ، ثانیًا  اس میں خود آیت وسورت ہی کہ تکرار مقصود ہوتی ہے کہ اس کے خدام مطیع ہوں تو نیت قرآنیت اُس میں لازم ہے۔ رہیں پہلی دو نیتیں جب وہ آیات معنی دعا سے خالی ہیں تو نیت اولٰی ناممکن اور نیت ثانیہ عین نیت قرآن ہے اور بقصد قرآن اُسے ایك حرف روا نہیں ۔

تنبیہ۶ : یہی حکم دم کرنے کیلئے پڑھنے فــــــ۲ کا ہے کہ طلب شفا کی نیت تغییر قرآن نہیں کرسکتی آخر قرآن ہی سے تو شفا چاہ رہا ہے کون کہے گا کہ اَنَّمَا اَفَحَسِبْتُمْ فــــ۳ خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا [10]تا آخری سورت عــــــہ مصروع ومجنون کے کان میں جنب پڑھ سکتا ہے ہاں جس آیت یا سورت میں خالص معنی دعا وثنا بصیغہ غیبت وخطاب

عـــــہ : حدیث میں ہے کہ کوئی آسیب زدہ یا مجنون تھا حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے کان میں یہی آیتیں پڑھیں وہ فورًا اچھا ہوگیا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا؟ انہوں نے عرض کیا فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سچے یقین والا اگر ان آیتوں کو پہاڑ پر پڑھے تو اُسے جگہ سے ہٹادے گا اخرجہ الامام الحکیم الترمذی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن