دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

خبر بد کے جواب میں انا لله وانا الیہ راجعون پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ت)

اُسی میں ہے :

اراد ا علامہ بانہ فی الصلاۃ لاتفسد اتفاقا ابن ملك وملتقی [1]۔

اگر یہ بتانے کا ارادہ ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس سے نماز بالا تفاق فاسدنہ ہوگی ، ابن ملك وملتقی۔ (ت)

ہدایہ میں ہے :

لواجاب رجلا فی الصلاۃ بلا الٰہ الا الله فھذ اکلام مفسدوان اراد اعلامہ انہ فی الصلاۃ لم تفسد بالاجماع لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا نابت احدکم نائبۃ فی الصلٰوۃ فلیسبح اھ[2]۔

اقـول :  فبھذا ظھر الجواب عن بحث الحلیۃ ولله الحمد ومحصلہ ان ذلك مستثنی بالاذن الشرعی کما استثنی بہ قصد الاعلام بانہ فی الصلاۃ مع تحقق المعنی                                               

اگر اندرونِ نماز لا الٰہ الّا الله کہہ کر کسی کو جواب دیا تویہ کلام مفسدِ نماز ہے اور اگر اپنے اندرونِ نماز ہونے سے اس کو آگاہ کرنا مقصود ہے تو بالاجماع نماز فاسد نہ ہوگی اس لئے کہ حضور کا ارشاد ہے : جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہے اھ۔ (ت)

اقول : تواسی سے بحث حلیہ کاجواب ظاہر ہوگیا۔ ولله الحمد۔ اوراس کا حاصل یہ ہے کہ یہ باذنِ شریعت مستثنیٰ ہے جیسے باذن شرعی اپنے مشغولِ نماز ہونے کو بتانے کا قصد مستثنٰی ہے باوجودیکہ معنی مفسد قطعًا متحقق ہے ، وہ ہے

المفسد قطعا وھو افادۃ معنی لیس من اعمال الصلاۃ فافھم وتثبت۔

ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے نہیں ۔ تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)

اور جب حاجت اکملیت ذکر ودعا کا لحاظ فرمایا تو حاجت تعلیم قرآن تو اُس سے اہم ہے خصوصًا حائض کیلئے کہ اس کا زمانہ ممتد ہے :

حتی ان مالکا اباح لھا التلاوۃ لھذا وبہ فرق بینھا وبین الجنب ۔

(یہاں تك کہ اسی وجہ سے امام مالك نے اس کے لئے تلاوت جائز کہی ، اوراسی سے اس میں اور جنب میں فرق کیا۔ (ت)

مگر یہ حاجت ایك ایك کلمہ سکھانے سے پوری ہوجاتی ہے اور شك نہیں کہ وہ بہ نسبت مرکبات صورت نظم قرآنی سے دور تر ہے لہٰذا اسی قدر کی اجازت ہوئی۔

وقد اشار الامام الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر الی ان اباحۃ التعلیم لاجل العذر کما فی الحلیۃ وعبر فی محیط السرخسی بالعذر والضرورۃ کما فیھا ایضا۔

اقول :  وبما فـــــ قررت وذکرت من حدیث اعلام الصّلاۃ مع عدم الضرورۃ بالمعنی الحقیقی ومن اعتبار الشرع حاجۃ الجنب فی الدعاء مع تمکنہ من الاغتسال بل ومن الدعاء بالفاظ اُخر بخلاف التعلیم ینفتح الجواب عن ایرادی الحلیۃ علی مسألۃ التعلیم بقولہ لایخفی                                             

امام فقیہ ابو اللیث نے شرح جامع صغیر میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تعلیم کا جوازعذر کی وجہ سے ہے۔ جیساکہ حلیہ میں نقل کیا۔ اورمحیط سرخسی کی تعبیریہ ہے کہ “ عذر و ضرورت کی وجہ سے ہے “ ۔ اسے بھی حلیہ میں نقل کیا۔
اقول : میری تقریر سابق سے اور اس بیان سے کہ اپنے مشغول نماز ہونے کو مذکورہ کلمات سے بتاسکتا ہے جب کہ یہاں ضرورت بمعنی حقیقی موجود نہیں ۔ اور یہ کہ شریعت نے دُعاکے معاملہ میں جنب کی حاجت کا لحاظ کیا ہے حالاں کہ وہ غسل کرسکتا ہے بلکہ دوسرے الفاظ سے دعابھی کرسکتاہے۔ بخلاف تعلیم کے۔ (اس تقریر وبیان سے) صاحبِ حلیہ کے دو اعتراضوں کا جواب منکشف ہوجاتا ہے

 

فـــــ :  تطفل رابع و خامس علیہا۔

مافیہ بالنسبۃ الی الجُنب ثم مافی کون ھذا الاحتیاج مبیحا لذلك [3] اھ فافھم واعلم والله اعلم۔

جو انہوں نے مسئلہ تعلیم سے متعلق ان الفاظ میں پیش کئے ہیں کہ : اس مسئلہ میں جنب کی بہ نسبت جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں ۔ پھر اس کے لئے تعلیمًاکلمہ قرآن پڑھنے کے حکم میں اس ضرورت کے باعث اباحت ہونے میں جوکلام ہے وہ بھی مخفی نہیں اھ۔ تواسے سمجھو اورجانو ۔ والله اعلم۔ (ت)

ظاہر ہے کہ ان کے ماورا مثل قصص وغیرہا میں نہ تو حاجت ہے نہ وہ دُعا وثنا کے معنے ہیں کہ ان سے ملحق ہوسکیں تو بعد قصد قرآن پھر تبدیل نیت وہی شہد کو دانستہ نمك ٹھہرا کر کھانا ہوگا تو حکم ممانعت ہی چاہئے جب تك شرع سے اجازت ثابت نہ ہو اور وہ کہیں ثابت نہیں ۔ معہذا اگر مطلق تبدیل نیت کی اجازت ہو تو جو کلام طویل قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں مقبولوں یا دشمنوں سے نقل فرمائے اور دُور تك ان کا سلسلہ چلا گیا ہے جیسے سورہ نوح علیہ الصّلوۃ والسّلام میں قال چھوڑ کر

 رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ(۵) سے لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠(۲۰) [4] تك سولہ۱۶  آیتیں متواتر ، اور سورہ جن میں اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ(۱) سے وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ(۱۵) [5] تك پندرہ آیتیں ، اور سورہ لقمان میں یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ سے اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠(۱۹)[6] تك چار۴ طویل آیتیں کہ ہر ایك تین۳ آیت کی مقدار سے زائد ہے اور سورہ اسرا میں وقالوا چھوڑ کر لَنْ نُّؤْمِنَ سے كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗؕ-[7] تك اس نیت سے کہ یہ نوح ولقمان وجن وکفار کے کلام ہیں پڑھ سکے بلکہ تمام سورہ یوسف علیہ الصّلٰوۃ والسلام شروع سورت کے اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ سے گیارھویں رکوع کے اواخر وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱)[8]  تك جس کی مقدار نصف پارہ قرآن عظیم سے بھی زائد ہے بحالِ جنابت بہ نیت حکایت قصّہ پڑھ جائے اور جائز ہو صرف بیچ بیچ میں سے چند جملے جو قرآنیت کیلئے متعین ہیں ترك کردے یعنی رکوع دوم میں وَ



[1]   الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹

[2]   الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۱۶

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیتہ المصلی

[4]   القرآن الکریم ۷۱ / ۵ تا ۲۰

[5]   القرآن الکریم ۷۲ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن