30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــ۱ : تطفل آخرعلیھما۔ فــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
اتی المحقق علی ھذا ایضا کما سمعت اما نحن فقد فـــــ۱ وضحنا باحسن وجہ ان لااثر للقصد فی تغییرا الحقائق
وکذا ماتقدم من تمسك الغنیۃ ان ماعلی وجہ الدعاء لیس بقراٰن لان الاعمال بالنیات [1]الخ
اقول : نعم لایثاب فـــــ۲ ثواب التلاوت من نواہ دعاء لکن القراٰن کیف ینسلح عن القراٰنیۃ مع بقاء النظم المتحدی بہ واذا لقصد الی الاخذ منہ فمجرد صرف النیۃ کیف یزیل التعظیم الواجب علیہ فان صرفہا عن شیئ مع العلم بہ انکان لہ اثر ففی حرمان الصارف عما ھو لہ دون اسقاط ماھو علیہ وبالجملۃ لیس فی شیئ من ھذہ مایغنی من جوع۔
ثم اقول : عساك فـــــ۳ ایقنت مما
محقق نے اپنے کلام میں اس کا بھی اشارہ دے دیا تھا جیسا کہ پیش ہوا۔ اور ہم نے توبہت اچھی طرح واضح کردیا کہ قصد میں یہ تاثیر قطعًا نہیں ہوتی کہ وہ حقائق واقعیہ کو تبدیل کردے۔
اسی طرح اس کی کمزوری بھی عیاں ہوگئی جس نے غنیہ سے استناد کیاکہ “ جو بطورِدعا ہووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پر ہے الخ “ جیسا کہ گزرا۔
اقول : ہاں جس نے دعا کا قصد کیا اسے تلاوت کا ثواب نہیں ملے گا لیکن جس نظم کے ذریعہ تحدّی ہوئی ہے اس کے برقرار رہتے ہوئے قرآن سے قرآنیت کیونکر نکل جائے جب کہ قرآن ہی سے اخذ کا قصد بھی موجود ہے ، تو محض نیت کے پھیردینے سے وہ اس تعظیم کو کیسے ختم کردے گا جو اس کے ذمہ واجب تھی۔ اس لئے کہ کسی چیز کو جانتے ہوئے اس سے نیت پھیرلینے کا اگرکوئی اثر ہوسکتاہے تویہی کہ اس میں اس کاجو فائدہ تھا اس سے وہ محروم ہوجائے نہ یہ کہ اس پر جو لازم تھا وہ بھی اس سے ساقط ہوجائے۔ الحاصل ان میں سے کسی میں کوئی کار آمد بات نہیں ۔
ثم اقول : امید ہے کہ ناظر کو ہمارے
فـــــ ۱ : تطفل علی النھر ورابع علی ش۔ فـــــ ۲ : تطفل علی الغنیۃ ۔
فـــــ ۳ : تطفل علی الحلیۃ۔
القیت علیك ان المناط ھو ان یعمد الی القراٰن فیاخذ من نظمہ ویقرأہ علی نیۃ غیرہ سواء کان قدر ما وقع بہ التحدی اولا فان القلیل والکثیر من الکلام العزیز سواء فی وجوب الادب والتعظیم اما سمعت الی قول حبر الامۃ سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہمالیس شیئ من القرآن بقلیل فتخصیص المحقق الکلام بما تحدی بہ لیس فی محلہ ، ولا یتوقف فــــ علیہ کونہ قرآنا حقیقۃ وحکما ولفظًا ومعنیً کما یوھمہ کلامہ نعم لزوم الخصوصیۃ القراٰنیۃ یختص بذلك لاستحالۃ جریانہ علی اللسان اتفاقا دون مادونہ کما علم من موافقات الفرقان والفاروق رضی الله تعالٰی عنہ وقولہ عند سماع ایۃ اطوار الخلق فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴) [2] فنزل کذلك لکن اسمعناك ان لاحاجۃ الیہ بعد تعمد الاخذ من القراٰن العظیم فھو
بیا ن سابق سے اس بات کا بھی یقین حاصل ہوچکا ہوگاکہ مدار اس پر ہے کہ قرآن کی طرف توجہ کرکے اس کے نظم سے کچھ اخذ کرے اور اسے غیر قرآن کی نیت سے پڑھے ، خواہ وہ اس مقدار میں ہو جس سے تحدی ہوئی ہے یا نہ ہواس لئے کہ وجوب ادب وتعظیم کے معاملہ میں کلام عزیز کے قلیل وکثیر کا حکم ایك ہے۔ آپ سن چکے کہ حبراُمت سیّدناعبدالله بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ تو محقق حلبی نے اپنی گفتگو جو مقدار تحدی سے خاص فرمائی وہ بے محل ہے۔ اور اس کا حقیقۃً ، حکمًا ، لفظًا ، معنیً قرآن ہونا اس پر موقوف بھی نہیں جیساکہ ان کے کلام سے وہم ہوتاہے ۔ ہاں خصوصیت قرآنیہ مقدار تحدی ہی کو لازم ہے اس لئے کہ اسی مقدار کا زبان پر اتفاقًاجاری ہوجانا محال ہے اس سے کم کا نہیں ۔ جیساکہ فرقان اورجناب فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے موافقات سے معلوم ہے اور اس سے بھی کہ جب تخلیق کے مراحل کے ذکر پر مشتمل آیت مبارکہ سُنی توکہہ دیا “ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴) “ پھر ایسا ہی نازل بھی ہوا۔ لیکن ہم بتا چکے کہ جب خود اس کے دل میں قرآن عظیم سے اخذ کا قصد موجود ہے تو تحدی والی گفتگو
فــــ ۳ : تطفل اخر علیھا۔
بما فی نفسہ علیم فافھم وتثبت۔
کی یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ اسے اپنے دل کی بات کا خود ہی علم حاصل ہے ، تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)
تو واجب تھا کہ سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی بالائے سرفقط الحمدلله یا سبحٰن الله یا لاالہٰ الا الله بھی جُنب کو جائز نہ ہو جبکہ ان میں اخذ عن القرآن کا قصد کرے اگرچہ نیت قرآن سے پھیر کر غیر قرآن کی کرلے ، مگر شرع مطہر نے لحاظ فرمایا کہ مسلمان ہر وقت ہر حال میں اپنے رب جل وعلا کے ذکر وثنا اور اُس سے سوال ودعا کا محتاج ہے اور ثنائے الٰہی وہی اتم واکمل ہے جو خود اُس نے اپنے نفس کریم پر کی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمعرض کرتے ہیں :
لااحصی ثناء علیك انت کما اثنیت علی نفسك [3]۔
الٰہی! میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسی تُو نے خود اپنی ثنا کی۔
یوں ہی جو دعائیں قرآن عظیم نے تعلیم فرمائیں بندہ اُن کی مثال کہاں سے لاسکتا ہے رحمت شریعت نے نہ چاہا کہ بندہ ان خزائن بے مثال سے روکا جائے علی الخصوص حیض ونفاس والیاں جن کی تہائی عمر انہیں عوارض میں گزرتی ہے لہٰذا یہاں بہ تبدیل نیت اجازت فرمائی جسے بسم الله الرحمن الرحیم بہ نیت افتتاح کہنے کے جواز پر علماء نے ظاہر کردیا اس کی نظیر یہ ہے کہ نماز فــــ میں کسی کلام سے اگرچہ آیت یا ذکر الٰہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا الحمدلله رب العٰلمین یا خبر غم کے جواب میں انا الله وانا الیہ راجعون یا کسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اُس کی خوبی بتانے کو کہا سبحان الله نماز جاتی رہے گی مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں لا الٰہ الا الله یا سبحٰن الله یا اس کے مثل
فــــ : مسئلہ : نماز میں اگر کسی آیت یا ذکر الہی سے کسی شخص کو خطاب یا بات کا جواب چاہے گا مثلا بقصد جواب خوشی کی خبر پر الحمدلله رنج کی خبر پر انا لله وا نا الیہ راجعون کہا نماز جاتی رہے گی ہاں اگر کسی نے پکارا اسے یہ جتانے کے لئے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں سبحان الله یا لاالہ الا الله وغیرہ کہا نمازنہ جائے گی ۔
ذکر یا قرآن عظیم سے کچھ کہا نماز نہ جائے گی کہ شرع مطہر نے اس حاجت کے دفع کو اتنے کی اجازت عطا فرمادی ، درمختار میں ہے :
یفسدھا جواب خبر سوء بالاسترجاع [4]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع