دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

وذلك انہ تصویرلنیۃ غیر القران وھی فی ایات الدعاء بنیۃ الدعاء فیفید ان الجواز بنیۃ الدعا مقصور علی آیات الدعاء لاقصر الجواز مطلقا علی نیۃ الدعاء کأن تقول لو قرأ التسمیۃ بنیۃ الافتتاح ولم یرد القراء ۃ فلا بأس بہ لایدل علی قصر الحکم فی جمیع القران علی نیۃ الافتتاح۔                         

وہ اس لئے کہ عبارتِ عیون میں نیت غیر قرآن کی صورت پیش کی گئی ہے وہ یہ کہ آیاتِ دعا بہ نیتِ دعا پڑھی جائیں اس کا مفاد یہ ہے کہ آیاتِ دعا پڑھنے کا جواز صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ بہ نیتِ دعا پڑھی جائیں ، نہ یہ کہ مطلقًا ہر آیت پڑھنے کا جواز صرف نیتِ دعا ہی کی صورت میں محدود ہے۔ مثلًا کہاجائے کہ اگر کام شروع کرنے کے ارادہ سے بسم الله پڑھی اورتلاوت کی نیت نہ کی تواس میں کوئی حرج نہیں ، تواسکا یہ معنی نہ ہوگا کہ پورے قرآن میں حکمِ جواز بس اسی ایك صورت میں محدود ہے کہ اسے کوئی کام شروع کرنے کے ارادہ سے پڑھا جائے۔ (ت)

 

فــــــ : تطفل آخرعلیھما۔

لکنی اقول :  وبالله التوفیقْ(لیکن خداکی توفیق سے میں کہتاہوں ۔ ت)تحقیق مقام فـــ۱ یہ ہے کہ یہاں دوصورتیں ہیں : عدم نیت واعدام نیت ۔ عدم نیت یہ کہ بعض الفاظ اتفاقا موافق نظم قرآن زبان سے اپنے کلام سے ادا ہوجائیں جیسے صورمذکورہ میں ثم نظراور ولم یولد کہ ان کے تکلم کے وقت خیال بھی نہیں جاتاکہ یہ الفاظ آیات قرآنیہ ہیں یہاں قرآن عظیم کی طرف قصد سرے سے پایاہی نہ گیا۔ اور اعدام نیت یہ کہ آیات قرآنیہ کی طرف التفات کرے اوربالقصدانہیں نیت قرآن سے پھیرکر غیرقرآن کاارادہ کرے ۔ آیۃ الکرسی یاسورۃ فاتحہ یاسورہ تبت وغیرھاہرکلام طویل میں یہی صورت متحقق ہوسکتی ہے ، ناممکن ہے کہ بلاقصد زبان سے تین آیت کے برابر کلام نکل جائے جوبالکل نظم قرآنی کے موافق ہوکہ اس قدرسے تحدی فرمائی گئی ہے توکوئی اتنے پرکیوں کر قادر ہوسکتاہے ۔ نہیں بلکہ یقیناالفاظ قرآنیہ ہی کا قصد کرے گا پھر ان کو بالارادہ نیت قرآن سے نیت غیر قرآن کی طرف پھیر ے گااورموجودات حقیقیہ اعتبارمعتبرکے تابع نہیں ہوتے ، نہ باوجود علم قصدا تبدیل نیت سے علم منتفی ہوااگرکوئی شخص شہد کوجان بوجھ کراس نیت سے کھائے کہ یہ شہد نہیں نمك ہے ، تونہ وہ واقعی نمك ہوجائے گا نہ اس کاعلم کہ یہ واقع میں شہد ہے زوال پائے گا۔ یونہی جب اس نے نظم قرآنی کی طرف قصدکیااوراسے اداکرناچاہاتوباوصف علم حقیقت اس کا یہ خیال کرلیناکہ میں یہ قرآن نہیں پڑھتا کچھ اورپڑھتاہوں ، نہ قرآن عظیم کو اس کی حقیقت سے مغیرہوسکتاہے نہ یہ دیدہ ودانستہ اس تبدیل خیال سے کچھ نفع پاسکتاہے توکیونکرممکن کہ تعظیم قرآن عظیم کے لئے جوحکم شرع مطہرنے اسے دیایہ دانستہ نیت پھیرکراسے ساقط کردے۔

اقول :  وبہ فـــــ۲ استبان ضعف مااجاب بہ العلامۃ اسمٰعیل فی حواشی الدرر عن بحث الحلیۃ فی قراء ۃ الفاتحۃ بنیۃ الدعاء اذ قال المحقق ان ھذا قراٰن حقیقۃ وحکما و لفظا ومعنی کیف لا وھو معجز یقع بہ التحدی وتغییر المشروع فی مثلہ بالقصد                                     

اقول : اسی سے اس کی کمزوری واضح ہو گئی جو حواشی درر میں علامہ اسمٰعیل نے بہ نیتِ دعا قرأت ِ فاتحہ کے بارے میں بحثِ حلیہ کے جواب میں لکھا ہے۔ محقق حلبی نے لکھا تھا : یہ حقیقۃً ، حکمًا ، لفظًا ، معنیً ہر طرح قرآن ہے ۔ کیوں نہ ہو جب کہ یہ قدرِ معجز ہے جس سے تحدّی واقع ہوئی ہے اورایسے کلام میں جو امر شرعًا ثابت ہے

 

فـــــ۱ : مسئلہ : قراء ت جنب کی صورتوں میں مصنف کی تحقیق جلیل مفرد۔

فـــــ۲ : تطفل علی سیدی اسمعیل محشی الدرروالعلامۃ ش۔

المجرد مردودعلی فاعلہ فان الخصوصیۃ القراٰنیۃ فیہ لازمۃ قطعا ولیس فی قدرۃ المتکلم اسقاطھا عنہ مع ما ھو علیہ من النظم الخاص [1] اھ۔  

فاجاب العلامۃ النابلسی وتبعہ فی المنحۃ بانہ اذا لم یرد بھا القراٰن فات مافیہ من المزایا التی یعجز عن الاتیان بھا جمیع المخلوقات اذ المعتبر فیھا القصد اما تفصیلا وھو من البلیغ اواجمالا وذلك بحکایۃ کلامہ وکلاھما منتف حینئذ کما لایخفی [2] اھ۔

ولعمری ان فی حکایتہ  غنی من نکایتہ ولیت شعری کیف تفوت المزایا الثابتۃ اللازمۃ الواقعیۃ بمجرد صرف القارئ النیۃ عن نسبۃ الی متکلمہ مع بقاء الکلام علی نظمہ وقد کان نبہ علیہ المحقق   

اسے اگرکوئی محض نیت سے بدلنا چاہے تو وہ نیت خود رد ہوجائے گی اس لئے کہ اسے قرآنی خصوصیت قطعًا لازم ہے۔ اور اس نظم خاص پر اس کے برقرار ہوتے ہوئے اس خصوصیتِ قرآنیہ کو کوئی متکلم اس سے ساقط نہیں کرسکتا اھ۔

علامہ نابلسی نے اس کے جواب میں لکھا ۔ اور منحۃ الخالق میں علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا۔ کہ : جب وہ اس کے پڑھنے میں قرآن کا قصد نہیں کرے گا تو اس کی وہ خصوصیات نہ رہ جائیں گی جنہیں بروئے کارلانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں اس لئے کہ ان خصوصیات میں قصد کا اعتبار ہے یا تو تفصیلًا ہو جوبلیغ کاکام ہے۔ یا اجمالًا ہواس طرح کہ اس کاکلام بھی ویسا ہوجائے جیسا وہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں دونوں باتیں نہیں ہیں اھ۔

بخدا اس جواب کوذکر کردینا ہی اس کا منصف ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ جب تك وہ کلام اپنے نظم پر برقرار ہے اس کی لازمی ، واقعی ، ثابت شدہ خصوصیات محض اتنے سے کیوں کر ختم ہوجائیں گی کہ قاری نے اس کلام کے متکلم کی جانب انتساب سے اپنی نیت پھیرلی؟ اس پر تومحقق حلبی نے اپنی بحث ہی

فی بحثہ فلم یلتفت الیہ العلامۃ واعاد الکلام من دون جواب ولاالمام۔

واقول :  فی فــــــ۱ الحل وجود المزایا بثبوتھا الواقعی وظھورھا بالعلم تفصیلا اواجمالا کما وصفتم وبھمایتم امرالتحدی وکلاھما حاصل حینئذ اذما قصد الاخذ الا مماھو قراٰن وما احدث الا صرف النیۃ ولا صرف الابعد العلم ولا علم ینتقی بالصرف۔

وایضا لوفات فـــــ۲ المزایا المعجزۃ للخلق بصرف القصد لوجب فوت عجزھم وھو باطل بداھۃ ۔

وکذا مااجاب النھر وتبعہ فی ردالمحتار بان کونہ قراٰنا فی الاصل لایمنع من اخراجہ عن القراٰنیۃ بالقصد [3] اھ وقد کان                                       

میں تنبیہ کردی تھی مگر علامہ نے اس کی طرف توجہ نہ کی اور وہی بات دہرادی نہ اس کا جواب دیا نہ جواب کے قریب گئے۔

واقول : حل مسئلہ سے متعلق میں عرض گزار ہوں ۔ خصوصیات کا وجود توان کے ثبوت واقعی سے ہوتا ہے اوران کا ظہور ان کے تفصیلی یا اجمالی علم سے ہوتا ہے جیساکہ آپ نے بیان کیا۔ اورکارتحدی ان دونوں ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ اور دونوں اس صورت میں حاصل ہیں ، اس لئے کہ اس نے اسی سے اخذ کاقصد کیا جو قرآن ہے۔ اور اپنی جانب سے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ نیت پھیردی۔ اور پھیرنا علم کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اور پھیرنے سے علم ختم نہیں ہوجاتا۔

یہ بھی ہے کہ قصد پھیرنے کی وجہ سے اگرمخلوق کو عاجز کردینے والی خصوصیات ختم ہوجاتیں توضروری تھاکہ اس سے ان کی عاجزی بھی ختم ہوجاتی ، اور یہ بداہۃً باطل ہے۔

اسی طرح اس جواب کا بھی ضعف واضح ہوگیا جو صاحبِ نہر نے پیش کیا۔ اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ان کا اتباع کیا۔ کہ اصل میں اس کا قرآن ہونا اس سے مانع نہیں کہ قصد کے باعث وہ قرآنیت سے خارج ہوجائے اھ۔

 

 



[1]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹

[2]   منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ با ب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹

[3]   النہرالفائق کتاب الطہارۃ باب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن