30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــــ۱ : تطفل آخر علیھا۔ فـــــــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
فــــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سورۃفاتحہ یاسورت پڑھی اورقراء ت کی نیت نہ کی دعاوثناکی نیت کی جب بھی نمازہوجائے گی ۔
انھا ذکرت فیہ خلافا ورقمت لشرح شمس الائمۃ انھا لاتنوب عن القراء ۃ [1] وانت تعلم ان القنیۃ لاتعارض المعتمدات والزاھدی غیر موثوق بہ فی نقلہ ایضا کما نصوا علیہ والله تعالٰی اعلم۔
نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیاہے اورشرح شمس الائمہ کا نشان(رمز) دےکر لکھا ہے کہ وہ قرأت کی جگہ کافی نہ ہو سکے گی اھ۔ اورمعلوم ہے کہ قنیہ کتب معتمدہ کے مقابلہ میں نہیں آسکتی اور زاہدی نقل میں بھی ثقہ نہیں جیساکہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔
تنبیہ۱ : عیون امام فقیہ ابو اللیث کی عبارت کہ صدر کلام میں گزری جس میں فرمایا تھاکہ فاتحہ وغیرہاآیات دعا بہ نیت دعا پڑھنے میں حرج نہیں نہرالفائق میں اُس سے یہ استنباط فرمایا کہ یہ حکم صرف اُنہی آیات سے خاص ہے جن میں معنی دُعا وثنا ہوں ورنہ مثلًا سورہ لہب وغیرہااگربنیت غیر قرآن پڑھے تو ظاہر ًا روا نہ ہونا چاہئے۔
حیث قال ظاھر التقیید بالایات التی فیھا معنی الدعاء یفھم ان مالیس کذلك کسورۃ ابی لھب لایؤثر فیھا قصد غیرالقرانیۃ لم ار التصریح بہ فی کلامھم [2]۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : آیات میں معنی دُعا ہونے کی قید سے بظاہر یہی مفہوم ہوتاہے کہ جوآیات ایسی نہ ہوں ۔ جیسے سورہ ابی لہب۔ اس میں غیر قرآن کی نیت اثر انداز نہ ہوگی مگر اس کی تصریح کلامِ علماء میں میری نظر سے نہ گزری۔ (ت)
علّامہ شامی نے منحۃ الخالق وردالمحتار میں اس کی تائید فرمائی کہ :
قد صرحوا ان مفاھیم الکتب حجۃ [3]اھ ولفظ المنحۃ المفہوم معتبر مالم یصرح بخلافہ [4] اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ کتابوں میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اھ۔ منحۃ الخالق کے الفاظ یہ ہیں : مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جب تك اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔ (ت)
اقول اولا : خلاصہ فــــــ وبزازیہ وبحر میں ہے :
وھذا لفظ الوجیز ا ما اذا قصد الثناء اوافتتاح امر فلا فی الصحیح [5]۔
اور یہ وجیز کے الفاظ ہیں : لیکن جب ثناء یاکوئی کام شروع کرنے کی نیت سے پڑھے تو صحیح قول پر ممانعت نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فلو قصد الدعاء اوالثناء اوافتتاح امرحل [6]۔
اگر دُعا یاثناء یا کسی کام کے شروع کرنے کی نیت ہوتو جائز ہے۔ (ت)
یہاں تو کہہ سکتے ہیں کہ بعد تنقیح افتتاح کا حاصل دعا وثنا سے جُدا نہ ہوگا مگر خلاصہ وحلیہ وبحر میں ہے :
وحرمۃ قراء ۃ القراٰن (ای من احکام الحیض) الا اذا کانت ایۃ قصیرۃ تجری علی اللسان عندا لکلام کقولہ ثم نظر اولم یولد [7] اھ
(احکامِ حیض میں سے)قرأت قرآن کی حرمت بھی ہے مگر جب ایسی چھوٹی آیت ہوجو بول چال میں زبان پر آتی رہتی ہے جیسے ارشاد باری تعالٰی : ثم نظر۔ یا۔ ولم یولد۔ (ت)
یعنی جبکہ قرأت قرآن کی نیت نہ ہو اور اپنے کلام میں پوری آیت سے موافقت واقع ہوجائے مثلًا زید کی حکایت حال میں کہا : ثم نظر زید (پھر زید نے نظر کی۔ ت) یا کسی ہندہ کے حمل کو پوچھا کہ پیدا ہوا؟کہا ماوضع ولم یولد بعد (نہیں پیدا کیا اور لم یولد بعد میں کہا۔ ت) تو اس میں حرج نہیں اگرچہ ثم نظر بالاتفاق اور ولم یولد علی الخلاف پوری آیتیں ہیں اس لئے کہ بہ نیت قرآن نہ کہی گئیں یہاں سے صراحۃً ظاہر کہ جواز کیلئے عدم نیت قرآن کافی ہے خاص نیت دُعا یا ثنا ضرور نہیں کہ ان صورتوں میں دعا وثنا کہاں ! یوں ہی اگر نقل حدیث میں کہا محمد رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
فــــــ : تطفل علی النھر و ش۔
فرماتے ہیں اس کے جواز میں بھی شبہ نہیں اگرچہ محمد رسول الله ضرور قرآن عظیم ہے اور یہاں نام اقدس مقصود نہ کہ دعا وثناء لاجرم بحر سے گزرا
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن [8]
(یہ سب اس وقت ہے جب بہ نیتِ قرآن پڑھا ہو۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں ہے ، تنویر میں ہے :
یحرم قراء ۃ قراٰن بقصدہ[9]
(قرآن کا کوئی حصہ بہ نیتِ قرآن پڑھنا(اس کے لئے) حرام ہے۔ (ت)
ثانیا عیون فــــ کا اتنا مفاد مسلم کہ آیاتِ دعا میں نیت دُعا درکار ہے نہ یہ کہ نیت دعا ہی پر مدار ہے ،
[1] البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰
[2] النہرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃباب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
[4] منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
[5] الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۱
[6] الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع