دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

شمار نہیں کیا جاتا۔ توعرف کی جہت سے اس کے بری الذمّہ ہونے میں شُبہہ راہ پاگیا۔ اسی طرح اس کی خود محقق حلبی نے تقریر کی ہے اورفرمایا ہے کہ باری تعالٰی کے ارشاد ماتیسّر کا تقاضا یہ ہے کہ مادون الآیہ سے بھی نماز ہوجائے اوریہی حضرت ابن عباس کا قول ہے انہوں نے فرمایا تمہیں قرآن سے جو بھی میسر آئے پڑھو اور قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ مگر یہ ہے کہ مادون الآیہ نص سے خارج ہے اس لئے کہ مطلق اسی کی طرف پھرتا ہے جو ماہیت میں کامل ہو اور مادون الآیہ سے اس کوعرفًا قرأت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتا تواس پر جو لازم ہوا اس سے وہ یقینی طور پر عہدہ بر آنہ ہوا ، اس لئے کہ اس پر جزم نہ ہوا کہ یہ مقدار ، قدر لازم کے افراد سے ہے تواتنے سے وہ بری الذمہ نہ ہوا ، خصوصًا جب کہ یہ مقام احتیاط ہے بخلاف کامل آیت کے ، کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے اس پر قرأت کرنے والے کا اطلاق ہوتاہے۔ (توحضرت امام اور صاحبین کے درمیان) اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ چھوٹی آیت پڑھنے سے عرفًا اسے قرأت کرنے والاشمار کیا جاتا ہے یا نہیں ؟ صاحبین نے فرمایا : نہیں ، اورامام نے فرمایا : ہاں ۔ اوراسرار میں ہے کہ قولِ صاحبین میں احتیاط ہے اس لئے کہ ارشادِ باری لم یلد۔ اور۔ ثم نظر۔ بطور قرآن متعارف نہیں اور درحقیقت یہ قرآن ہے ۔ تو حقیقت کا اعتبار

ومن حیث العرف لم تجز الصلاۃ بہ احتیاطا فیھما [1] اھ مختصرا

فعدم تناول الاطلاق مادون الایۃ فی قولہ تعالی فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ- [2] لایستلزم عدم تناولہ لہ فی قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئا من القران[3] بل قضیۃ الدلیل ھو التناول ھھنا والخروج ثمہ۔

ثم اقول :  لایخفی فـــــ علیك ان لوبنی الامر ھھنا علی مایعد بہ قارئا عرفا لزم ان یحل عند الصاحبین للجنب واختیہ قراء ۃ مادون ثلٰث ایات بنیۃ القراٰن ولا قائل بہ فتحقق                                               

کرکے حائض و جنب پراس کی قرأت حرام رکھی گئی اورعرف کا لحاظ کرکے ہم نے اس سے نماز جائز نہ کہی ، تاکہ دونوں مسئلوں میں ہمارا عمل احتیاط پررہے اھ مختصرًا۔

تو باری تعالٰی کے ارشاد : میں مادون الآیہ کو اطلاق کاشامل نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ارشادلایقرأ الجنب و لا الحائض شیئا من القراٰن (جنب اورحائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں ) میں بھی اطلاق اسے شامل نہ ہو بلکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں شامل ہو اور وہاں شامل نہ ہو۔

ثم اقول : مخفی نہیں کہ اگر “ یہاں “ (مسئلہ جنب میں ) بنائے کاراس پر ہوتی جس کی وجہ سے اس کو عرفًا قرأت کرنے والا شمار کیاجائے تولازم تھاکہ صاحبین کے نزدیك جنب اورحیض ونفاس والی کے لئے تین آیت سے کم بہ نیتِ قرآن پڑھنا جائز ہو۔ حالانکہ

 

فــــــ : تطفل علی الفتح ۔

ان قول الکرخی ھو الارجح روایۃ ودرایۃ والحمد لله ولی الھدایۃ۔

ولکن العجب من المحقق الحلبی کتبت ھذا ثم رأیت فی غنیتہ مال الی ماقلت ان لاقائل بہ حیث قال وینبغی ان تقید الایۃ بالقصیرۃ التی لیس مادونھا مقدار ثلٰث ایات قصار فانہ اذا قرأ مقدار سورۃ الکوثر یعد قارئاوان کان دون ایۃ حتی جازت بہ الصلاۃ واماما علی وجہ الدعاء والثناء فلانہ لیس بقران لانہ الاعمال بالنیات والالفاظ محتملۃ فتعتبر النیۃ ولذا لوقرأ ذلك فی الصّلاۃ بنیۃ الدعاء والثناء لاتصح بہ الصلاۃ [4] اھ۔

اقول اولا فــــــ :  وقع بحثہ علی خلاف المنصوص فی شرح الجامع الصغیر للامام فخرالاسلام فانہ                                         

کوئی اس کا قائل نہیں ۔ تو ثابت ہواکہ امام کرخی ہی کا قول روایت ودرایت دونوں لحاظ سے ارجح ہے ، اورساری حمدخدا کے لئے ہے جو ہدایت کا مالك ہے۔

لیکن محقق حلبی (صاحبِ غنیہ) پر تعجب ہے کہ وہ اس طرف مائل ہیں جس کے بارے میں میں نے کہاکہ اس کا کوئی قائل نہیں ۔ مذکورہ بالا سطور لکھنے کے بعد میں نے غنیہ میں دیکھا کہ وہ لکھتے ہیں : آیت کے ساتھ یہ قیدہونی چاہئے کہ ایسی چھوٹی آیت جس سے ذرا کم ہو تووہ آیت تین چھوٹی آیتوں کے بقدر نہ ہواس لئے کہ جب وہ سورہ کوثر کے بقدر پڑھے اگرچہ وہ ایك آیت سے کم ہی ہوتو اس کی وجہ سے وہ قرأت کرنے والا شمار ہوگایہاں تك کہ اس سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ لیکن جو دُعا اورثنا کے طور پرہو تووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پرہے اورالفاظ میں احتمال ہوتاہے تو نیت کا اعتبار ہوا۔ اسی لئے اگراسے نماز میں بہ نیتِ دُعا وثنا پڑھا تو نماز درست نہ ہوگی اھ۔

اقول اولا : ان کی بحث اس کے خلاف واقع ہے جو امام فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر میں منصوص ہے اس لئے کہ انہوں نے لمبی

 

فــــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔

اعتبرکون بعضھا کایۃ لاکثلٰث کما تقدم ۔

وثانیا :  عدل فـــــ۱ عن قول الامام الی قولھما فی افتراض ثلث فان راعی الاحتیاط لمامرعن الاسراران ماقالہ احتیاط لمامر عن الاسرار نفسہا ان ذلك فی الصّلاۃ اما فی مسألۃ الجنب فالاحتیاط فی المنع وقد نقلہ ھکذا فی الغنیۃ۔

وثالثا : ماذکر فـــــ۲ من عدم الاجزاء فــــ۳ اذا قرأ فی الصلاۃ بنیۃ الثناء خلاف المنصوص ایضا ففی البحر عن التوشیح عن الامام الخاصی اذا قرأ الفاتحۃ فی الاولیین بنیۃ الدعاء نصوا علی انھا مجزئۃ [5] اھ وعن التجنیس اذا قرأفی الصلاۃ فاتحۃ الکتاب علی قصد الثناء جازت صلاتہ لانہ وجدت القراء ۃ فی محلھا فلا یتغیر حکمھا بقصد [6] اھ ومثلہ فی الدر نعم نقل فی البحر عن القنیۃ                                                

آیت کے بعض کو ایك آیت کے مثل شمار کیاہے تین آیت کے مثل نہیں جیساکہ گزرا۔

ثانیا : قول امام سے عدول کرکے تین آیت کی فرضیت میں قول صاحبین کی طرف آگئے۔ اگراس میں انہوں نے احتیاط کی رعایت کی ہے کیوں کہ اسرار کے حوالہ سے گزرا کہ قولِ صاحبین میں احتیاط ہے توخود اسرار ہی کے حوالہ سے یہ بھی گزرا کہ یہ نماز کے بارے میں ہے  اور مسئلہ جنب میں احتیاط ممانعت میں ہے۔ اسے اسی طرح غنیہ میں نقل بھی کیا ہے۔

ثالثا : نماز میں قرأت بہ نیتِ ثنا ہوتونماز نہ ہوگی ، یہ مسئلہ انہوں نے منصوص کے برخلا ف ذکرکیا کیوں کہ بحر میں امام خاصی کی تو شیح سے منقول ہے کہ جب پہلی دونوں رکعتوں میں سورہئ فاتحہ کی قرأت بہ نیتِ دُعا کرے تو علماء نے نص فرمایاہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی اھ۔ اور تجنیس سے نقل ہے کہ جب نماز میں بہ نیتِ ثنا فاتحۃ الکتاب کی قرأت کرے تونماز جائز ہے اس لئے کہ قرأت اپنے محل میں پائی گئی تونیت سے اس کا حکم نہ بدلے گا اھ۔ اسی کے مثل درمختار میں بھی ہے۔ ہاں بحر میں قنیہ سے نقل کیاہے کہ اس

 



[1]   فتح القدیرکتاب الصلٰوۃفصل فی القرأۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۹۰

[2]   القرآن الکریم ۷۳ / ۲۰

[3]   سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الجنب والحائض الخ حدیث ۱۳۱ دارالفکربیروت ۱ / ۱۸۲ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن علی غیرالطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴

[4]   غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث قرأۃ القرآن للجنب سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷

[5]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰

[6]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن