دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

ھو معجزیقع بہ التحدی فلا یجری فی کل ایۃ کما لایخفی فلا ادری ما الحامل لہ علی التقیید بھا مع انہ ھو الناقل فـــــ۱ عن الخلاصۃ معتمدا علیہ جواز مثل ثم نظر ولم یولد ثم بحثہ فی مثل الفاتحۃ وان کان لہ تماسك فما کان لبحث ان یقضی علی النص۔

ثم ماذکرہ فـــــ۲ ھھنا سؤالا وتر جیا ان مراد الکرخی فی التعلیم مااذا نوی غیر القران قد جزم بہ من قبل قائلا ینبغی ان یشترط فیہ (ای فی التعلیم) ایضا عدم نیۃ القران لما سنذکرہ عن قریب معنی واثرا [1]اھ وقال عند قول الماتن لایکرہ التھجی بالقران والتعلیم للصبیان حرفا حرفا ھذا فیما یظھر اذا لم ینوبہ القران اما اذا نواہ بہ فانہ یکرہ[2] اھ۔                

یہ وہ قدر مُعجز ہے جس سے تحدی واقع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بحث ہر آیت میں جاری نہیں ہوتی تو پتہ نہیں کہ آیت کی قید لگانے پر ان کے لئے باعث کیا ہے(یعنی ان کے اس قول میں : اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو) باجودیکہ خلاصہ سے انہوں نے اعتماد کے ساتھ خود ہی نقل کیا ہے کہ ثم نظر اورلم یولد کے مثل میں جواز ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کے مثل میں ان کی بحث کواگر کچھ سہارا بھی مل جائے تو بھی کوئی بحث ، نص کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔

پھر یہاں سوال اورشاید کے طورپر جوبات ذکر کی ہے کہ “ تعلیم میں امام کرخی کی مراد غیر قرآن کا قصد ہونے کی صورت میں ہے “ اس کو اس سے پہلے بطورجزم بیان کیا ہے اورکہا ہے کہ تعلیم میں بھی نیتِ قرآن نہ ہوناچاہئے اس کی وجہ ہم معنٰی واثر کے لحاظ سے آگے بیان کریں گے اھ۔ ماتن کی عبارت تھی : “ قرآن کی تہجی اور بچوں کوایك ایك حرف سکھانا مکروہ نہیں “ اس پر حلیہ میں لکھا : بظاہر یہ حکم اسی صورت میں ہے جب نیتِ قرآن نہ ہو اور اگر اس سے قرآن کی نیت ہو تومکروہ ہے اھ۔

 

فــــ۱ : تطفل آخرعلیہا۔   

فــــ۲ : مسئلہ : تعلیم کی نیت سے قرآن مجیدقرآن ہی رہے گاصرف اتنی نیت جنب وحائض کوکافی نہیں ۔

اقول :  وھذا ھو الحق الناصع فمجرد نیۃ التعلیم غیر مغیر فما تعلیم شیئ الاالقاؤہ علی غیرہ لیحصل لہ العلم بہ فاذا قرأ ونوی تعلیم القراٰن فقد اراد قراء ۃ القران لیلقیہ ویلقنہ فنیۃ التعلیم لایغیرہ بل یقررہ فما وقع فـــــ۱ فی الدرالمختار من عدہ نیۃ التعلیم فی نیات غیر القراٰن لیس فی محلہ فلیتنبہ۔

فانقلت نیۃ التعلیم ان لم تکن مغیرۃ فما بال فتح المصلی علی غیر امامہ یفسد صلاتہ وما ھو الا التعلیم وقراء ۃ القراٰن لاتفسد الصلاۃ قلت لیس الفساد لان القراٰن تغیر بنیۃ الفتح بل لان الفتح فـــــ۲علی غیر الامام لیس من اعمال الصلاۃ وھو عمل کثیر فیفسد الا تری فـــــ۳ ان المصلی ان قیل لہ                                                

اقول : یہی بے داغ ، خالص حق ہے۔ توصرف نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتاکیوں کہ کسی شے کی تعلیم یہی ہے کہ اس شے کو دوسرے کے سامنے اس لئے پیش کرے کہ اسے اس کا علم حاصل ہوجائے۔ تو جب اس نے پڑھا اور تعلیم قرآن کی نیت کی تو یہ متحقق ہوگیا کہ دوسرے کو بتانے سکھانے کے لئے اس نے قرآن پڑھنے کا قصد کیا۔ تو نیتِ تعلیم سے نیتِ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اور تائید و تاکید ہوتی ہے۔ تو درمختار میں نیتِ تعلیم کو غیر قرآن کی نیتوں میں شمار کرانا بے جاہے ، اس پر متنبّہ رہنا چاہئے۔

اگر سوال ہو کہ جب نیتِ تعلیم سے کوئی تغیّر نہیں ہوتا توکیا وجہ ہے کہ نمازی اگر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دے دے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے حالانکہ وہ بھی تعلیم ہی ہے اور قرأتِ قرآن مفسدِ نماز نہیں ، میں کہوں گا فسادِ نماز کا سبب یہ نہیں ہے کہ لقمہ دینے کی نیت سے قرآن میں تغیر ہوگیا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر امام کو لقمہ دینا اعمالِ نماز میں نہیں اوریہ عمل کثیرہے اس لےے نماز کو فاسد کردے گا۔ دیکھو اگر مصلّی سے کہا جائے فلاں

 

فـــــ۱ : تطفل عل الدرالمختار۔

فـــــ۲ : مسئلہ : نمازی اگراپنے امام کے سواکسی کوقرآن مجید میں لقمہ دے گانمازجاتی رہے گی

فـــــ۳ : مسئلہ : نمازی نمازمیں ہے اس وقت کسی نے کہافلاں آیت یاسورت پڑھ۔ اس نے اس کاکہاماننے کی نیت سے پڑھی نمازجاتی رہے گی۔

اقرا ایۃ کذا فقرأ امتثالا لامرہ فسدت صلاتہ مع انہ لم یقرأ الا القراٰن۔ وبالله التوفیق

بقی الکلام علی توجیہ الامام ابن الھمام وما ذکرنا لہ من تقریر المرام فلنعم الجواب عنہ ما نقلہ فی الحلیۃ بعد الجواب الاول المذکور اذقال مع انہ قداجیب ایضا بالاخذ بالاحتیاط فیھما وھو عدم الجواز فی الصلاۃ والمنع للجنب [3]اھ۔

اقول :  تقریرہ ان الامام وصاحبیہ رضی الله تعالی عنھم اختلفوا فی فرض القراء ۃ فقالا ثلٰث قصاراوایۃ طویلۃ ای مایعدل ثلٰثا لانہ لایسمی فی العرف قارئا بدونہ وقال بل ایۃ ای اذا لم تکن مما یجری فی تحاور الناس ویشبہ تکلمھم فیما بینھم کثم نظر فانھا اذا کانت کذلك عدقارئا عرفا بخلاف مادون الایۃ بالمعنی الذی اعطینا من قبل فھو وان کان بہ قارئا حقیقۃ لایعد قارئا عرفا فتطرقت الشبھۃ            

آیت پڑھو ، اس نے اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے پڑھاتو اس کی نماز فاسد ہوگئی باوجودیکہ اس نے قرآن ہی پڑھا۔ وبالله التوفیق۔

اب اس پر کلام رہ گیا جو امام ابن الہمام نے توجیہ کی اورہم نے جو ان کے مقصد کی تقریر کی تواس کا بہت عمدہ جواب وہ ہے جو حلیہ میں مذکورہ جواب اول کے بعدنقل کیا وہ لکھتے ہیں : باجودیکہ یہ جواب بھی دیاگیا ہے کہ دونوں میں احتیاط  پر عمل ہے وہ یہ کہ نماز میں عدم جواز ہے اورجنب کے لئے پڑھنے کی ممانعت ہے اھ۔

اقول : اس کی تقریر یہ ہے کہ حضرت امام اور صاحبین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے درمیان فرض قرأت کی مقدار میں اختلاف ہے صاحبین نے فرمایا تین چھوٹی آیتوں یا تین آیتوں کے برابر ، ایك لمبی آیت کی قرأت فرض ہے اس لئے کہ عرف میں اس کے بغیر اسے قرأت کرنے والانہیں کہاجاتا اورامام نے فرمایا بلکہ ایك آیت پڑھنا فرض ہے جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو جو لوگوں کی بول چال میں جاری ہے اورجو اُن کی باہمی گفتگوکے مشابہ ہے جیسے “ ثم نظر “ ۔ کیوں کہ جب اس شرط کے ساتھ کوئی آیت پڑھے گاتو عرفًا اسے قرأت کرنے والا شمار کیا جائے گا بخلاف اس کے جو ایك آیت سے کم ہو اسی معنی میں جوہم نے پہلے بیان کیا۔ تو وہ اس کی وجہ سے اگرچہ حقیقۃً قرأت کرنے والا ہے مگر عرفًا اسے قرأت کرنے والا

فی براء ۃ الذمۃ من قبل العرف ھکذا قررہ ھذا المحقق نفسہ وقال قولہ تعالی ماتیسر مقتضاہ الجواز بدون الایۃ وھو قول ابن عباس فانہ قال اقرأ ماتیسر معك من القران ولیس شیئ من القران بقلیل الا ان مادون الایۃ خارج من النص اذا المطلق ینصرف الی الکامل فی الماھیۃ ولا یجزم بکونہ قارئا عرفا بہ فلم یخرج عن عہدۃ مالزمہ بیقین اذلم یجزم بکونہ من افرادہ فلم تبرء بہ الذمۃ خصوصا والموضع موضع الاحتیاط بخلاف الایۃ اذیطلق علیہ قارئا بھا فالخلاف (ای بین الامام وصاحبیہ) مبنی علی الخلاف فی قیام العرف فی عدہ قارئا بالقصیرۃ قالا لاوھو یمنع وفی الاسراف ماقالاہ احتیاط فان قولہ لم یلد ثم نظر لایتعارف قرانا وھو قران حقیقۃ فمن حیث الحقیقۃ حرم علی الحائض والجنب                                                                

 



[1]   حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی

[2]   حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن