دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اقول : اس میں نزاع کیوں ہو؟ جب کہ یہ حقیقۃً وعرفًا قرآن ہے توسرکار اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشاد قطعًا اسے شامل ہے : “ جنب اور حائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں “ اسے ترمذی وابن ماجہ نے روایت کیا ، اور منذری نے اسے حسن اورامام نووی نے صحیح کہا ، جیسا کہ حلیہ میں ہے۔

قطعًاکون کہہ سکتا ہے کہ آیہ مدانیت کے اول سے یا ایھا الذین اٰمنوا یا آخر سے لفظ علیم چھوڑ کر ایك صفحہ بھر سے زائد کلام الله بہ نیت کلام الله پڑھنے کی جُنب کو اجازت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :

لوکانت طویلۃ کان بعضہا کاٰیۃ

آیت اگر طویل ہو تواس کا بعض حصہ ایك آیت

 

فـــ : مسئلہ : کسی آیت کا اتنا ٹکڑا کہ ایك چھوٹی آیت کے برابر ہو بہ نیت قرآن جنب و حائض کوبالاتفاع( بالاتفاق) ممنوع ہے۔

لانھا تعدل ثلث ایات ذکرہ فی الحلیۃ عن شرح الجامع لفخر الاسلام [1] اھ

اقول :  ذھب قدس سرہ الی مصطلح الفقہاء ان الطویلۃ ھی التی یتأدی بھا واجب ضم السورۃ وھی التی تعدل ثلث ایات ولکن فـــــ۱ ارادۃ ھذا المعنی غیرلازم ھھنا اذا لمناط کون المقروء قدرما یتأدی بہ فرض القراء ۃ عند الامام وھو الذی یعدل ایۃ فلو کانت اٰیۃ تعدل اٰیتین عدل نصفھا ایۃ فینبغی ان یدخل تحت النھی قطعا وقس علیہ۔  

وکیف یستقیم فـــــ۲ ان لایجوز تلاوۃ ثُلث ایۃ تعدل ثلٰث ایات لکونہ یعدل ایۃ ویجوز تلاوۃ                           

کے حکم میں ہوگا اس لئے کہ پوری آیت تین آیتوں کے برابر ہے ، اسے حلیہ میں فخرالاسلام کی شرح جامع صغیر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ۔ (ت)

اقول : حضرت موصوف قدس سرہ  اصطلاحِ فقہاء کی طرف چلے گئے کہ لمبی آیت وہ ہے جس سے واجبِ نماز ، ضمِّ سورہ کی ادائیگی ہوجائے اوریہ وہ ہے جو تین آیتوں کے برابر ہو۔ لیکن یہاں پر یہ معنی مراد لینا ضروری نہیں اس لئے کہ مدارِ حرمت اس پر ہے کہ جتنے حصے کی تلاوت ہو وہ اس قدر ہوجس سے حضرت امام کے نزدیك فرضِ قراء ت ادا ہوجاتا ہے اور یہ وہ ہے جو ایك آیت کے برابر ہو ۔ توپوری آیت اگر دوآیتوں کے برابر ہے تو اس کا نصف ایك آیت کے برابر ہوگا تو اسے نہی کے تحت قطعًا داخل ہونا چاہئے۔ اورمزید اسی پر قیاس کرلو۔

اور یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ تین آیت کے مساوی ایك آیت کے

 

فـــــ۱ : تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل فخر الاسلام ثم الحلیۃ و ش

فـــــ۲ : تطفل اٰخرعلیہم۔  

ایۃ تعدل ایتین بترك حرف منھا مع انہ یقرب قدر اٰیتین فتبصر۔

تہائی حصّہ کی تلاوت جائز نہیں اس لئے کہ وہ ایك آیت کے برابر ہے۔ اور دو آیتوں کے مساوی ایك آیت کی تلاوت اس کا کوئی حرف چھوڑ کر جائز ہے؟ حالانکہ وہ تقریبًا دوآیت کے برابر ہے۔ توبصیرت سے کام لو۔ (ت)

ہاں جو فــــ  پارہ آیت ایسا قلیل ہو کہ عرفًا اُس کے پڑھنے کو قرأت قرآن نہ سمجھیں اُس سے فرض قراء ت یك آیت ادا نہ ہو اتنے کو بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے امام کرخی منع فرماتے ہیں امام ملك العلماء نے بدائع اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید اور امام عبدالرشید ولو لوالجی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصحیح فرمائی ہدایہ وکافی وغیرہما میں اسی کو قوت دی درمختار میں اسی کو مختار کہا حلیہ وبحر میں اسی کو ترجیح دی تحفہ وبدائع میں اسی کو قول عامہ مشایخ بتایا اور امام طحاوی اجازت دیتے ہیں خلاصہ کی فصل حادی عشر فی القراء ۃ میں اسی کی تصحیح کی امام فخر الاسلام نے شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین۔ سرخسی نے محیط پھر محقق علی الاطلاق نے فتح میں اسی کی توجیہ کی اور زاہدی نے اس کو اکثر کی طرف نسبت کیا۔ غرض یہ دو قول مرجح ہیں :

اقول : اور اول یعنی ممانعت ہی بوجوہ اقوی ہے۔

اوّلا : اکثر تصحیحات اُسی طرف ہیں ۔

ثانیا : اُس کے مصححین کی جلالت قدر جن میں امام فقیہ النفس جیسے اکابر ہیں جن کی نسبت تصریح ہے کہ اُن کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔

ثالثا : اُسی میں احتیاط زیادہ اور وہی قرآن عظیم کی تعظیم تام سے اقرب۔

رابعا : اکثر ائمہ اُسی طرف ہیں اور قاعدہ ہے کہ العمل بما علیہ الاکثر[2] ( عمل اسی پرہوگا جس پر اکثر ہوں ۔ ت) اور زاہدی کی نقل امام اجل علاء الدین صاحبِ تحفۃ الفقہاء وامام اجل ملك العلماء صاحبِ بدائع کی نقل کے معارض نہیں ہوسکتی۔

فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ بہ نیت قرآن ایك حرف کی بھی جنب و حائض کو اجازت نہیں ۔

خامسا : اطلاق احادیث بھی اُسی طرف ہے کہ فرمایا جنب وحائض قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں ۔

سادسا : خاص جزئیہ کی تصریح میں امیر المؤمنین مولی علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا ارشاد موجود کہ فرماتے ہیں :

اقرؤا القراٰن مالم یصب احدکم جنابۃ فان اصابہ فلا ولا حرفا واحدا۔ رواہ الدار قطنی [3]وقال ھو صحیح عن علی رضی الله تعالی عنہ۔

قرآن پڑھو جب تك تمہیں نہانے کی حاجت نہ ہواور جب حاجتِ غسل ہوتو قرآن کا ایك حرف بھی نہ پڑھو۔ (اسے دارقطنی نے روایت کیااور کہا یہی صحیح ہے حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے۔ ت)

سابعا : وہی ظاہر الروایۃ کا مفاد ہے امام قاضی خان شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :

لم یفصل فی الکتاب بین الایۃ وما دونھا وھو الصحیح [4] اھ

امام محمد نے کتاب میں آیت اورآیت سے کم حصہ میں کوئی تفریق نہ رکھی اوریہی صحیح ہے اھ۔ (ت)

بخلاف قولِ دوم کہ روایت نوادر ہے۔

 



[1]   رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶ ، البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹

[2]   رد المحتار کتاب الطہارۃ ، فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۵۱

[3]   سنن الدار قطنی کتاب الطہارۃ ، باب فی النہی للجنب والحائض ، حدیث۴۱۸ / ۶ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۳ ، ۲۹۴

[4]   شرح الجامع الصغیرللامام قاضی خان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن