30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۲۲ : ۲۲محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنب کو کلام الله شریف کی پوری آیت پڑھنی ناجائز ہے یا آیت سے کم بھی ، مثلًا کسی کام کیلئے حسبنا الله ونعم الوکیل یا کسی تکلیف پر انّا لله وانّا الیہ راجعون کہہ سکتا ہے کہ یہ پوری آیتیں نہیں آیتوں کے ٹکڑے ہیں یا اس قدر کی بھی اجازت نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم
حمد المن انزل کتابہ وقدس جنابہ فحرم قراءتہ حال
حمد ہے اسے جس نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی بارگاہ مقدس رکھی ، کہ اس کی قرأت
الجنابۃ والصلاۃ والسّلٰم علٰی من اٰتاہ خطابہ وطھر رحابہ وعلی الاٰل والصحابۃ وامۃ الاجابۃ۔
بحالتِ جنابت حرام فرمائی۔ اور درودوسلام ہو ان پر جنہیں اپنا کلام عطا کیا ، اورجن کا صحن پاکیزہ رکھا ، اور ان کے آل واصحاب اور امتِ اجابت پر بھی ۔ (ت)
اوّلًا : یہ معلوم فـــــ رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ [1]سے آخر سورۃ تك ، بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں بسم الله الرحمٰن الرحیم کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایك آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرك واستفتاح ہوتا ہے ، نہ تلاوت ، تو حسبنا الله ونعم الوکیل اور انّا الله وانّا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا ، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں ، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گُمنے پر عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ(۳۲) [2] کہنا ۔ بحر میں ذکر مسائل ممانعت ہے :
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ اھ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار[3]۔
یہ سب اس وقت ہے جب بقصدِ قرآن پڑھے۔ لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں ۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں ۔ ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے : اگر سورہ فاتحہ بطور دُعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دُعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوتِ قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : جو آیت پوری سورت خالص دعا وثنا ہو جنب و حائض بے نیت قرآن صرف دعا و ثنا کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں جیسے الحمد و آیۃ الکرسی۔
ہاں آیۃ الکرسی یا سورہ فاتحہ اور ان کے مثل ایسی قراء ت کہ سننے والا جسے قرآن سمجھے اُن عوام کے سامنے جن کو اس کا جنب ہونا معلوم ہو بآواز بہ نیت ثنا ودعا بھی پڑھنا مناسب نہیں کہ کہیں وہ بحال جنابت تلاوت جائز نہ سمجھ لیں یا اس کا عدمِ جواز جانتے ہوں تو اس پر گناہ کی تہمت نہ رکھیں ۔
وھذا معنی ما قال الامام الفقیہ ابو جعفر الھندوانی لاافتی بھذا وان روی عن ابی حنیفۃ [4]اھ قالہ فی الفاتحۃ قال الشیخ اسمٰعیل بن عبدالغنی النابلسی والدالسید العارف عبد الغنی النابلسی فی حاشیۃ علی الدرر لم یرد الھند وانی رد ھذہ الروایۃ بل قال ذلك لما یتبادر الی ذھن من یسمعہ من الجنب من غیر اطلاع علی نیۃ قائلہ من جوازہ منہ وکم من قول صحیح لایفتی بہ خوفا من محذورا خر ولم یقل لااعمل بہ کیف وھو مروی عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالٰی [5] اھ
اقول : وقید بالجھر وکونہ عند من یعلم من العوام انہ جنب لان المحذور انما یتوقع فیہ وھذا محمل حسن جدا وما بحث
یہی اس کا معنی ہے جو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا کہ میں اس پر فتوٰی نہیں دیتا اگرچہ یہ امام ابو حنیفہ سے مروی ہے اھ۔ یہ بات انہوں نے سورہ فاتحہ سے متعلق فرمائی۔ شیخ اسمٰعیل بن عبدالغنی نابلسی ، سیدی العارف عبدالغنی نابلسی کے والد گرامی اپنے حاشیہ دررمیں فرماتے ہیں : امام ہندوانی کا مقصد اس روایت کی تردید نہیں ، بلکہ یہ انہوں نے اس خیال سے فرمایاہے کہ جو اس جنابت والے کی نیت جانے بغیر اس سے سنے گاتو اس کاذہن اس طرف جائے گا کہ بحالتِ جنابت تلاوت جائز ہے۔ اوربہت ایسی صحیح باتیں ہوتی ہیں جن پر کسی اورخرابی کی وجہ سے فتوٰی نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے یہ نہ فرمایاکہ میں اس پر عمل نہیں کرتااوریہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ وہ امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مروی ہے اھ۔
اقول : میں نے بآواز بلندپڑھنے کی قید لگائی اوریہ کہ ان عوام کے سامنے جن کو اُس کاجنب ہونا معلوم ہواس لئے کہ خرابی کا اندیشہ اسی صورت میں ہے۔ اوریہ کلامِ ابو جعفر
البحر تبعا للحلیۃ فسیأتی جوابہ وما احلی قول الشیخ اسمٰعیل انہ مروی عن الامام وکیف یرد ماقالت خدام۔
کا بہت نفیس مطلب ہے۔ اور بحر نے بہ تبعیتِ حلیہ جو بحث کی ہے آگے اس کاجواب آرہا ہے ۔ اورشیخ اسمٰعیل کا یہ جملہ کتنا شیریں ہے کہ یہ امام سے مروی ہے اورخدّام کا کلام اس کی تردید میں کیسے ہوسکتاہے؟
ثانیا آیت فـــــ طویلہ کا پارہ کہ ایك آیت کے برابر ہو جس سے نماز میں فرض قراء ت مذہب سیدنا امام اعظم کی روایت مصححہ امام قدوری وامام زیلعی پر ادا ہوجائے جس کے پڑھنے والے کو عرفًا تالی قرآن کہیں جنب کو بہ نیت قرآن اُس سے ممانعت محل منازعت نہ ہونی چاہئے۔
اقول : کیف وھو قرآن حقیقۃ وعرفا فیشملہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئامن القرآن رواہ الترمذی [6]و ابن ماجۃ وحسنہ المنذری و صححہ النووی کما فی الحلیۃ۔
[1] القرآن الکریم۵۹ / ۲۲
[2] القرآن الکریم۶۸ / ۳۲
[3] البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض1ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
[4] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
[5] منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
[6] سنن الترمذی ابواب الطہارۃ ، باب ماجاء فی الجنب والحائض ، حدیث۱۳۱ دارلفکر بیروت ۱ / ۱۸۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع