30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے پانی روك کرہتھیلی کے ذریعہ عضو کے آخر تك پھیلادیا تو سبوغ نہ ہوا ، اھ یہ خلاصہ کے الفاظ ہیں ۔ اور کے الفاظ یہ ہیں : ایك بارسابغ (احاطہ کے) طور پر دھونا فرض ہے (آگے عبارت خلاصہ کے مثل ہے اورکچھ زیادہ ہے)۔
دوم اعضاء پر پانی کی تقسیم سے متعلق حسن بن زیاد کی روایت اورامر چہارم سے کچھ پہلے اس کی توجیہ میں ، میں نے جو استظہارکیا اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ ایسا بُعد ہے کہ سنت استنجا کوتوشمار کریں اور ان سنتوں کوجوگویاوضوکے جز کی حیثیت رکھتی ہیں ، چھوڑجائیں ۔ فصلِ غسل کے آخرمیں خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں : حاصل یہ کہ ایك رطل استنجا کے لئے ، ایك رطل دونوں قدم کے لئے ، ایك رطل باقی اعضا کے لئے اھ۔ اورفصل وضو کے شروع میں وجیز کَردَرِی کے الفاظ یہ ہیں : ایك رطل استنجا کے لئے ، ایك پیر دھونے کے لئے ، ایك اور بقیہ اعضاء کے لئے اھ۔ تو یہ منہ اورناك کو شامل ہونے میں ظاہر ہے ایسے ہی گٹوں تك دونوں ہاتھ بھی ہیں ۔ علاوہ اس کے یہ معلوم ہوچکا ہے
بُعد التسویۃ بین مجموع نفس الوجہ والیدین وبین القدمین فلیتأمل لعل الله یحدث بعد ذلك امرا وصلی الله تعالٰی علی اعظم الانبیاء قدر اوفخرا وعلی اٰلہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اولی واخری وبارك وسلم والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل شانہ اتم واحکم۔
کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کے مجموعے ، اور دونوں پیروں کے درمیان پانی کی مقدار برابر ہونا بعید ہے۔ توان باتوں پر تامل کی ضرورت ہے شاید خدا اس کے بعدکچھ اور ظاہر فرمائے۔ اور خدا کا درودوسلام اوربرکت ہوا ن پر جو قدرو فخر میں تمام انبیا سے عظیم ہیں اور حضور کی آل واصحاب ، ان کے اولیا وجماعت پربھی دنیا وآخرت میں ۔ اور خدائے پاك وبرترہی کو خوب علم ہے اور اس ذات بزرگ کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸ : ازکلکتہ دھرم تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ ھ وبار دوم از ملك بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالتِ جنابت میں ہاتھ دھو کر کُلّی کر کے کھانا کھانا کراہت رکھتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
نہ ، اور بغیر اس کے مکروہ۔ اور افضل تو یہ ہے کہ غسل ہی کرلے ورنہ وضو کہ جہاں جنب ہوتا ہے ملائکہ رحمت اُس مکان میں نہیں آتے۔ کما نطقت بہ الاحادیث (جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
لاباس باکل وشرب بعد مضمضۃ وغسل ید واما قبلہا فیکرہ للجنب [1] اھ ملخصا
کُلّی کرنے اورہاتھ دھولینے کے بعدکھانے پینے میں حرج نہیں ، اوراس سے پہلے جنب کے لئے مکروہ ہے اھ ملخصًا ۔ (ت)
ردالمحتار میں حاشیہ علامہ حلبی سے ہے :
وضوء الجنب لھذہ الاشیاء مستحب کوضوء المحدث[2]۔
ان کاموں کے لئے جنب کو وضو ئے محدث کی طرح وضو کرلینا مستحب ہے۔ (ت)
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں مالك بن عبادہ غافقی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی کہ انہوں نے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ حاجتِ غسل میں کھانا تناول فرمایا ، انہوں نے فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سامنے اس کا ذکر کیا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اعتبار نہ آیا انہیں کھینچے ہوئے بارگاہِ انور میں حاضر لائے اور عرض کی : یا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! یہ کہتے ہیں کہ حضور نے بحال جنابت کھانا تناول کیا۔ فرمایا :
نعم اذا توضأت اکلت وشربت ولکنی لااصلی ولا اقرء حتی اغتسل[3]
ہاں جب میں وضو فرمالوں توکھاتاپیتا ہوں مگر نماز وقرآن بے نہائے نہیں پڑھتا۔ (ت)
مسئلہ ١٩ : غرہ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : حرام ہے مگر بضرورتِ شدیدہ کہ نہانے کی ضرورت ہے اور ڈول رسّی اندر رکھا ہے اور یہ اُس کے سوا کوئی سامان کر نہیں سکتا نہ کوئی اندر سے لا دینے والا ہے یا کسی دشمن سے خائف ہے اور مسجد کے سوا جائے پناہ نہیں اور نہانے کی مہلت نہیں ایسی حالتوں میں تیمم کرکے جاسکتا ہے ، صورتِ اولٰی میں صرف اتنی دیر کے لئے ڈول رسّی لے آئے اور صورتِ ثانیہ میں جب تك وہ خوف باقی رہے۔
اقول : : بلکہ صورت ثانیہ میں اگر دشمن سر پر آگیا تیمم کی بھی مہلت نہیں تو بے تیمم چلا جائے اور کواڑ بند کرنے کے بعد تیمم کرلے فان الحقین اذا اجتمعا قدم حق العبد لفقرہ وغنی المولی (کیونکہ جب حق الله اور حق العبد دونوں جمع ہوں توحق العبد کو مقدم کرے اس لئے کہ بندہ محتاج ہے او ر مولا بے نیازہے ۔ ت) صرف اس ضرورت کیلئے کہ گرم پانی سقائے میں ہے اور سقایہ مسجد کے اندر ہے باہر تازہ پانی موجود ہے گرم پانی لینے کو بے غسل مسجد میں جانا جائز نہیں مگر وہی ضرورت کی حالت میں اگر تازہ پانی سے نہائے گا تو صحیح تجربے یا طبیب حاذق مسلم غیر فاسق کے بتانے سے معلوم ہے کہ بیمار ہوجائے گا یا مرض بڑھ جائے گا اور باہر کہیں گرم پانی کا سامان نہیں کرسکتا نہ اندر سے کوئی لادینے والا ہے تو تیمم کرکے اندر جاکر لاسکتا ہے والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٠ : ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اُس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاك ہاتھ سے چھُونا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھُوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملك ہو کہ بلا ضرورت فـــــ پاك شے کو ناپاك کرنا ناجائز وگناہ ہے بحرالرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیس الطاھر حرام [4](پاك کو ناپاك کرنا حرام ہے۔ ت) اور اگر کوئی نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہو۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢١ : ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۰۹ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع