30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المعنی لاتذھب عنك تلك الخطرات الشیطانیۃ حتی تفرغ من الصّلٰوۃ
معنی یہ ہے کہ وہ شیطانی خیالات تم سے دور نہ ہوں گے جب تك ایسا نہ ہو کہ تم نماز سے فارغ
وانت تقول للشیطان صدقت مااتممت صلاتی لکن ما اقبل قولك ولا اتمہا ارغا مالك ونقضا لما اردتہ منی وھذا اصل عظیم لدفع الوساوس وقمع ھو اجس الشیطٰن فی سائر الطاعات والحاصل ان الخلاص من الشیطان انما ھو بعون الرحمن والاعتصام بظواھر الشریعۃ و عدم الالتفات الی الخطرات والوساوس الذمیمۃ ولاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم [1]۔
ہوجاؤ اور شیطان سے کہو تو ٹھیك کہتا ہے میں نے اپنی نماز پوری نہ کی لیکن میں تیری بات نہیں مانتا اور تیری تحقیر کے لئے اور تیرے ارادہ کو شکست دینے کے لئے میں اسے پوری نہ کروں گا۔ یہ وسوسوں کے دفعیہ اور شیطانی خیالات کی بیخ کنی کے لئے تمام طاعات میں بہت عظیم بنیاد ہے۔ حاصل یہ کہ شیطان سے چھٹکارا اسی طرح ملے گا کہ خدا کی مدد ہو اور ظاہر شریعت کہ مضبوطی سے تھامے رہے ، بُر ے خیالات اور وسوسوں کی طرف التفات نہ کرے۔ اور طاقت وقوت نہیں مگر برتری وعظمت والے خدا ہی سے۔ (ت)
الحمدلله یہ فتوٰی لاحول شریف پر تمام ہوا اس سوال کے متعلق کسی کتاب میں چند سطروں سے زائد نہ تھا خیال تھا کہ دو تین ورق لکھ دئے جائیں گے ولہٰذا ابتدا میں خطبہ بھی نہ لکھا مگر جب فیض بارگاہ عالم پناہ سید العالمین محمّد رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجوش پر آیا فتوی ایك مبسوط رسالہ ہوگیا عظیم وجلیل فوائد جزیل پر مشتمل جو اس کے غیر میں نہ ملیں گے والحمدلله رب العالمین بلکہ متعدد جگہ قلم روك لیا کہ طول زائد ہوتا اور اسی کے مضامین سے ایك مستقل رسالہ بسط الیدین جس کا ذکر اوپر گزرا جُدا کر لیا لہٰذا مناسب کہ اس کا تاریخی نام بارق النور فی مقادیر ماء الطھور۱۳۲۷ نور کی تابش آب طہارت کی مقدار میں ۔ ت) ہو ، اور خطبہ کہ سابقًا نہ ہوا لاحقا مسطور ہو ۱۳۲۷ھ ہو کہ النھایۃ ھی الرجوع الی البدایۃ (انتہا ابتدا کی طرف لوٹتی ہے۔ ت) اول بآخر نسبتے دارد (اول آخر سے نسبت رکھتا ہے۔ ت)
فالحمدلله الذی انزل من السماء ماء طھورا لیذھب عنا الرجس ویطھرنا بہ تطھیرا ووضع
توساری تعریف خدا کے لئے جس نے آسمان سے پاك اور پاك کرنے والا پانی اتارا تاکہ اس سے ہماری پلیدی دور کرکے ہمیں خوب خوب پاك کردے۔ اور
المیزان وقدر کل شیئ تقدیرا کی نختار العدل ویجتنب طرفیہ اسرافا وتقتیرا واطھر الصلاۃ واطیب السلام علی من ارسل بشیرا ونذیرا وداعیا الی الله باذنہ سراجا منیرا فطھرنا بمیاہ فیضہ الھامر لاماطر کثیرا غزیرا واذھب عنا ارجاس الکفر وانجاس الضلال بسحاب فضلہ المنھل ابدا کل حین واٰن ھلّا کبیرا فصلی الله تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا امین ۔
ھذا ولاجل العجل اذکان تنمیقہ وطبع الفتاوی جارٍ والطبع مشغول بشیون اھّم عظیمۃ الاخطار مع ھجوم الھموم وجمود الذھن وخمود الافکار بقی خبایا المرام فی زوایا الکلام لاسیما اثنان
الاول فــــ حدیث الغرفۃ وقد علمت مافیہ من الاشکال فلو ارسلت جس نے ترازو رکھی اور ہر چیز کی ایك مقدار متعین فرمائی تاکہ ہم عدل اختیار کریں اوراس کے دونوں کنارے ، زیادتی اورکمی سے بچیں ۔ اورپاك تر درود ، پاکیزہ ترسلام اُن پر جو مژدہ دینے والے ، ڈرسنانے والے بناکر بھیجے گئے ، اور خدا کی طرف سے اس کے اذن سے دعوت دینے والے اور روشن چراغ بناکر مبعوث ہوئے۔ توانہوں نے ہمیں اپنے فیض کی فراواں ، بھرپور ، موسلادھار بارش سے پاك فرمایا اورہم اپنے فضل کے ہر لمحہ وہر آن خوب خوب برستے بادل کے ذریعہ ہم سے کفر کی پلیدی ، ضلالت کی ناپاکی دُور کردی۔ تو ان پر ، ان کی آل پر اوران کے اصحاب پر خدا کی رحمت وبرکت اوراس کا زیادہ سے زیادہ سلام نازل ہو۔ الہٰی قبول فرما۔
یہ رسالہ توپورا ہوا۔ اورچوں کہ عجلت درپیش تھی اس لئے کہ ایك طرف رسالہ لکھا جارہاتھا دوسری طرف ْطباعت ہوتی جارہی تھی اور طبیعت کچھ عظیم اہم معاملات میں مشغول تھی ، ساتھ ہی پریشانیوں کا ہجوم ، ذہن کی بستگی ، فکر کی فروماندگی بھی دامنگیر رہی اس طرح کلام کے گوشوں میں کچھ باتیں چھپی رہ گئیں ۔ خصوصًا دو باتیں :
اول چُلّو سے متعلق حدیث۔ اس میں جو اشکال ہے معلوم ہوچکا۔ سنت یہ ہے
فــــ : مسئلہ : منہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناك پر نہ زور سے پیشانی پر ۔ یہ سب افعال جہال کے ہیں بلکہ بآہستگی بالائے پیشانی سے ڈالے کہ ٹھوڑی سے نیچے تك بہتا آئے ۔
الغرفۃ علی الجبہۃ کما ھو السنۃ فی فتاوی الامام قاضی خان وخزانۃ المفتین ان اراد غسل وجہہ یضع الماء علی جبینہ حتی ینحدر الماء الی اسفل الذقن ولا یضع علی خدہ ولا علی انفہ ولا یضرب علی جبینہ ضربا عنیفا[2] اھ
فمعلوم قطعا ان الماء لایستوعب جمیع اجزاء الوجہ وان استقبل الماء فی مسیلہ فاخذہ بالید وامرھا علی اطراف الوجہ لم یکن غسلا کما قدمت من قبل نفسی لوضوحہ بشھادۃ العقل والتجربۃ ثم رأیتہ منصوصا علیہ فی فـــ الخلاصۃ والخزانۃ اذ یقولان الغسل مرۃ فریضۃ عندنا وان توضأ مرۃ سابغۃ جاز و تفسیر السبوغ ان یصل الماء الی العضو ویسیل ویتقاطر منہ قطرات اما اذا افاض الماء علی راس العضو فقبل ان یصل الی المرفق اوالکعب یمسك
کہ چلّو پیشانی پر ڈالا جائے۔ فتاوٰی امام قاضیخاں اور خزانۃ المفتین میں ہے : جب چہرہ دھونا چاہے توپانی جبین پرڈالے تاکہ وہ اُترکر ٹھوڑی کے نیچے تك آئے اوررخسار پر یاناك پر نہ ڈالے اورنہ پیشانی پرزور سے دے مارے اھ
اب اگر اس طرح پیشانی پرچُلّو ڈالے توقطعًا معلوم ہے کہ پانی چہرے کے تمام حصوں کا احاطہ نہ کرسکے گا۔ اور بہتے ہوئے پانی پر بیچ میں ہاتھ لگاکر چہرے کے اور حصوں تك ہاتھ پھیردیا تو یہ دھونا نہ ہوا جیسا کہ پہلے اسے میں نے اپنی طرف سے لکھا تھا کیوں کہ یہ عقل وتجربہ کی شہادت کے مطابق بالکل واضح بات تھی پھر میں نے دیکھا کہ خلاصہ اورخزانہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ان کی عبارتیں یہ ہیں : ایك بار دھونا ہمارے نزدیك فرض ہے اور اگرایك بارکامل وسابغ طور پر دھولیاتووضو ہوگیا۔ اور سابع کا معنٰی یہ ہے کہ پانی عضو تك پہنچے اوراس سے اس طرح بہہ جائے کہ کچھ قطرے ٹپکتے جائیں ، لیکن اگر عضو کے سرے پرپانی بہایا اورکہنی یاٹخنے تك پہنچنے سے
فـــ : مسئلہ ضروریہ : خود پانی کا تمام عضو پر بہنا ضرور ہے اگر ہاتھ یا پاؤں کے پنجے پر پانی ڈالا کہنیوں گٹوں تك نہ پہنچاتھا کہ بیچ میں ہاتھ لگا کر آخر عضو تك پھیر دیا تو وضو نہ ہوگا کہ یہ بہانا نہ ہوا بلکہ چپڑنا ہوا۔
الماء ویمد بکفہ الی اخرالعضو لایکون سبوغا [3] اھ ھذا لفظ الخلاصۃ ولفظ خزانۃ المفتین الغسل مرۃ سابغۃ فریضۃ [4] ثم ذکر مثلہ وزیادۃ ۔
والثانی روایۃ الحسن فی توزیغ الماء علی الاعضاء وما استظھرت فی توجیھہ قبیل الامر الرابع فیعکرہ بُعدان یحاسبوا سنۃ الاستنجاء ویترکوا ھذہ السنن التی کانھا للوضوء من الاجزاء لاسیما ولفظ الخلاصۃ فی اٰخر فصل الغسل والحاصل ان الرطل للاستنجاء والرطل للقدمین والرطل لسائر الاعضاء[5]اھ ولفظ وجیز الکردری فی صدر فصل الوضوءرطل للاستنجاء واخر لغسل الرجل واخر لبقیۃ الاعضاء [6]اھ فھذا ظاھر فی شمول الفم والانف فکذا الیدان الی الرسغین علی انك علمت
[1] مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الوسوسۃ حدیث ۷۸ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۵۶
[2] فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ ، باب الوضوء والغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶ ، خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ ، فصل فی الوضوء قلمی ۱ / ۲
[3] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات ، الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲
[4] خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ ، فصل فی الوضوء قلمی ۱ / ۳
[5] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات ، الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴
[6] الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع