30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵) وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۱۱۶) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖۚ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۱۷) [1]
اور انصاف میں کامل ہے کوئی اُس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشك تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔
یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو اُن شیطان آدمیوں کی باتیں سُننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اُس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی اُس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی کتاب دینی کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شك پیدا ہو کہ اُن کی سُننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تك جو اُس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اُس میں فرق آیا کہ اُس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے ، یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھُپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے ، دیکھ اگر تُونے اُن کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان کا علم دیکھوں کہاں تك ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے اُن کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب الله واحد قہار کی گواہی ہے کہ اُن کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو اُن کو سُننے کے کیا معنے سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے تعلیم فرمایا کہ کذبت شیطان تو جھوٹا ہے ، اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے تو پورا راہ پرہوتا ہے بے راہوں کی سُننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ذرھم فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ(۱۳۷)[2] چھوڑ دے اُنہیں اور اُن کے بہتانوں کو۔ تیرے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرما چکے ایاکم وایاھم[3] اُن سے دُور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں ۔
بھائیو! ایك سہل بات ہے اسے غور فرمالو۔ تم اپنے رب عـــــہ۱جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر سچّا ایمان رکھتے ہو یا معاذ الله کچھ شك ہے! جسے شك ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے۔ اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عـــــہ۲ وقرآن ونبی وایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا عـــــہ۳ونبی وقرآن ودین کی توہین وتکذیب کریں ۔
اب ذرا غور کرلیجئے ایك شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ ولد الحرام اور تیری ماں زانیہ تھی ، لله انصاف ، کیا کوئی غیرت والا حمیت والا انسانیت والا جبکہ اُسے اس بیان سے روك دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اُسے سُننے جائے گا حاشا لله کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ دیکھو کہ الله ورسول عـــــہ۴ وقرآن عظیم کی توہین تکذیب مذمّت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اُسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے اُن جگر شگاف ناپاك ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں ڈھکوسلوں کو سُننے جاتے ہو بلکہ حقیقۃًفـــ انصافًا وہ جو کچھ بکتے اور الله ورسول عـــــہ۵ وقرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کے باعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب عـــــہ۶وقرآن ورسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فورًا وہی مبارك ارشاد کا کلمہ کہہ کر تو جھوٹا ہے چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھّروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سُن سُن کر کہلواتے ہو نہ تُم سنو نہ وہ کہیں ، پھر انصاف
عـــــہ۱ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ عـــــہ۲ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔
عـــــہ۳ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ عـــــہ۴ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔
عـــــہ۵ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔ عـــــہ۶ : جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔
فـــــ : الله ورسول و قرآن عظیم کی جتنی توہین آریہ و پادری اپنے لیکچروں میں کرتے ہیں ان سب کا وبال شرعا ان پر ہے جو سننے جاتے ایسے جلسوں میں شریك ہوتے ہیں ۔
کیجئے کہ اُس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔ علماء فرماتے ہیں ہٹّے کٹّے جوان تندرست جو بھیك مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ کرلیتے ہیں اُنہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شَہ دینی ہے لوگ نہ دیں تو جھَك ماریں اور محنت مزدوری کریں ۔ بھائیو! جب اس میں گناہ کی امداد ہے تو اس میں تو کفر کی مدد ہے والعیاذ بالله تعالٰی قرآن عظیم فـــــ کی نص قطعی نے ایسی جگہ سے فورًا ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سُنو تو کیا ارشاد کیا۔ رب عزوجل فرماتا ہے :
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙﰳ (۱۴۰) [4]
یعنی بے شك الله تم پر قرآن میں حکم اتار چُکا کہ جب تم سُنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور اُن کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ آیات الله پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشك الله تعالٰی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو الله واحد قہاریہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔
مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا الله عزوجل کی اس سخت وعید کو سچّا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو اُن جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں اُن جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا عـــــہ ورسول وقرآن پر اعتراضوں کیلئے جاتے ہیں ۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ- [5] تم بھی ان ہی جیسے ہو۔ ت)اُن لکچروں پر جمگھٹ والے اُن جلسوں میں شرکت والے سب اُنہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بك کر
عـــــہ : جل و علا و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۱۲ منہ
فــــــ : دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمان فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع