30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــــ : یہ ضروری ضروری سخت ضروری : آریوں ، پادریوں ، وغیرہم کے لکچر ندائیں سننے کو جانے سے قرآن عظیم سخت مما نعت فرماتا ہے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیھم اجمعین امین
الہٰی بطفیل سید المرسلین قبول فرما۔ حضور پر اورتمام رسولوں پر خدائے برتر کا درود سلام ہو۔ آمین۔ (ت)
ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے :
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ-[1]۔
یوں ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو کہ آپس میں ایك دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔
حدیث میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : الله کی پناہ مانگ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے۔ عرض کی : کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں ؟ فرمایا : ہاں ۔ رواہ احمد [2] وابن حاتم الطبرانی عن ابی امامۃ واحمد وابن مردویہ والبیھقی فی الشعب عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہما۔ (اس کی روایت احمد نے ابن حاتم اور طبرانی نے ابی امامہ سے اور احمد نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کی۔ ت)
ائمہ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔ رواہ ابن جریر عن عبدالرحمٰن بن زید۔ (اس کی روایت ابنِ جریر نے عبدالرحمن بن زید سے کی۔ ت)
اقول : آیہ کریمہ میں شیاطین الانس کی تقدیم بھی اس طرف مشیر ، اس حدیث کریم نے کہ “ جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تُو جھوٹا ہے “ ۔ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا شیطان آدمی ہو خواہ جن اُس کا قابو اُسی وقت چلتا ہے جب اُس کے سُنئے اور تنکا توڑ کر ہاتھ پر دھر دیجئے کہ تُو جھوٹا ہے تو خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔
آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رَد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سُننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں ۔ کسی پادری نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی ، یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں ۔ بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عزّوجل تمہارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماُن کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے اُن کے پاس جاؤ اور اپنے رب جل وعلا ، اپنے قرآن اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شان میں کلمات ملعونہ سُنو۔
اقول : یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ دیکھو قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتا تا اور اُن ناپاك لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے ، آیہ کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ(۱۱۲)[3]
اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور اُن کے بہتانوں کو یك لخت چھوڑ دے۔
دیکھو اُنہیں اور اُن کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا اُن کے پاس سُننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سُنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے :
وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ(۱۱۳)[4]
اور اس لئے کہ اُن کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اُسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں ۔
دیکھو اُن کی باتوں کی طرف کان لگانا اُن کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی اُن جیسے ہوجائیں والعیاذ بالله تعالٰی۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر اُن کا کیا اثر ہوگا حالانکہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من سمع بالدجال فلینأمنہ فوالله ان الرجل لیأتیہ وھو یحسب انہ مؤمن فیتبعہ مما یبعث بہ من الشبھات [5]۔ رواہ ابوداؤد عن عمران بن حصین رضی الله تعالی عنہ و عن الصحابۃ جمیعا۔
جو دجال کی خبر سُنے اُس پر واجب ہے کہ اُس سے دُور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیانقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیروہو جائے گا(اسے ابوداؤد نے عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاورتمام صحابہ سے روایت کیا۔ ت)
کیا دجال ایك اُسی دجال اخبث کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے حاشا تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دُور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اُس میں یہی اندیشہ بتایا ہےرسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
یکون فی اٰخر الزمان دجّالون کذّابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اٰباؤکم فایاکم وایاھم لایضلّونکم ولا یفتنونکم [6]۔ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔
آخر زمانے میں دجّال کذّاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے ، توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھوکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں (اسے مسلم نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ ت)
اور سُنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے :
اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًاؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۱۱۴) وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا
تو کیا الله کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اُس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اُتاری اور اہلِ کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اُتری تو خبردار تو شك نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ
[1] القرآن ۶ / ۱۱۲
[2] مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۱۷۸ ، ۲۶۵ ، الدرالمنثور بحوالہ احمد و ابن ابی حاتم وغیرھا تحت الایہ ۶ / ۱۱۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۷ ، ۳۰۸
[3] القرآن ۶ / ۱۱۲
[4] القرآن ۶ / ۱۱۳
[5] سنن ابی داؤد کتاب الملاہم باب خروج الدجال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۳۷
[6] صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفا ء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع