دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

یعنی سیدنا امام اعظم حما د بن سلیمان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ عبدالله بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کا اثر ہے۔ امام حماد نے فرمایا کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی کو شبہ زیادہ ہوا کرے تو یہی طریقہ برتے اور یہی قول امام اعظم کا ہے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین۔

اقول : مگر یہاں فـــــ۱ اولا یہ ملحوظ رہے کہ مقصودِ نفی وسوسہ ہے نہ ابطال حقیقت تو جسے قطرہ اترنے کا یقین ہوجائے وہ پانی پر حوالہ نہیں کرسکتا یونہی جسے معاذ الله سلس البول کا عارضہ ہو اسے یہ چھینٹا مفید نہیں بلکہ بسا اوقات مضر ہے کہ پانی کی تری سے نجاست بڑھ جائے گی۔

ثانیا : سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن سے چمٹ کر بے حجابی لاتا ہے اس کا خیال فرض ہے۔

ثالثا : یہ حیلہ اُسی وقت تك نافع ہے کہ چھڑکا ہوا پانی خشك نہ ہوگیا ہو ورنہ اُس پر حوالہ نہ کرسکیں گے۔ وجیز امام کردری میں ہے :

رأی البلۃ بعد الوضوءسائلا من ذکرہ یعید الوضوء وان کان یعرض کثیرا ولا یعلم انہ بول اوماء لایلتفت الیہ وینضح فرجہ او ازارہ بالماء قطعا للوسوسۃ واذا بعد عھدہ عن الوضوءاوعلم انہ بول لاتنفعہ الحیلۃ[1]۔

وضو کے بعد ذکر سے تری بہتی دیکھی تو وضو کا اعادہ کرے اور اگر ایسا بہت پیش آتا ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا پانی ، تو اس کی طرف التفات نہ کرے اور اپنی شرمگاہ یا تہمد پر قطع وسوسہ کے لئے پانی چھڑك دیاکرے۔ اور جب وضو کئے دیر گزرچکی ہواوراسے معلوم ہوکہ پیشاب ہے تویہ حیلہ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا۔ (ت)

اسی طرح خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے :

ولفظھما وینبغی ان ینضح فرجہ و ازارہ عــہ الخ [2]

ان کے الفاظ یہ ہیں : اپنی شرمگاہ اور تہبند پر پانی چھڑك لینا چاہئے۔ (ت)

فائدہ : ہم نے فــــ۲ زیر امر سوم آٹھ پانی گنائے تھے جو آب وضو کے شمار سے جدا ہیں یہ ان کانواں ہوا۔ اُن دیار میں رواج ایسے لوٹوں کا ہے جن میں جانب پشت بغرض گرفت دستے لگے ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے لوٹے دیکھے مگر کم۔ علما فرماتے فــــ٣ ہیں ادب یہ ہے کہ پانی ڈالتے میں لوٹے کے منہ پر

فـــــ۱ : مسئلہ : اس چھینٹے میں چند عمل ملحوظ ہیں ۔

فـــــ۲ : علاوہ ان آٹھ پانیوں کے دو پانی اور جو حساب آب وضو سے جدا ہے۔

فـــــ۳ : مسئلہ دستہ دار لوٹا ہو تو مستحب یہ ہے کہ پانی ڈالتے وقت اس کا دستہ تھامے اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے
عـــــہ : ای بالواؤ دون او اھ منہ ( یعنی دونوں پر ، یہ واوکے ساتھ ہے اَو (یا) کے ساتھ نہیں ۱۲منہ ۔ ت)

ہاتھ نہ رکھے بلکہ دستہ پر۔ اور جب بھیگے ہاتھ سے دستہ چھُوا جائے گا تو مستحب فــــ۱ہوا کہ وضو سے پہلے اُسے تین بار دھولے یہ دسواں پانی ہوا تلك عشرۃ کاملۃ۔ فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتار آدابِ وضو میں ہے :

کون فـــــ۲ اٰنیتہ من خزف وان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاراسہ [3]۔

مستحب یہ ہے کہ وضو کا برتن مٹی کا ہو ، اورلوٹے کا دستہ تین بار دھولے ، اور دھوتے وقت ہاتھ دستے پر رکھے لوٹے کے منہ پرنہیں ۔ (ت)

 (۳) اگر شیطان فــــ۳ حیلہ سے بھی نہ مانے اور وسوسہ ڈالے ہی جائے کہ تیرے وضو میں غلطی رہی یا تری نماز ٹھیك نہ ہوئی تو سیدھا جواب یہ ہے کہ خبیث تُو جھوٹا ہے۔ ابن حبان وحاکم حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذا جاء احدکم الشیطان فقال انك احدثت فلیقل انك کذبت ولابن حبان فلیقل فی نفسہ [4]۔

جب تم میں کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتارہا توفورًا اسے جواب دے کہ توجھوٹا ہے(اوراگر مثلًا نماز میں ہے تو) دل میں یہی کہہ لے ، مطلب وہی ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے۔

اقول : حالتیں تین ہوتی ہیں :

فــــ۱ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو سے پہلے لوٹے کا دستہ تین بار دھولے ۔

فــــ۲ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو مٹی کے برتن سے کرے ۔

فــــ۳ : ردّ وسوسہ کا تیسرا علاج

ایك تو یہ کہ عدو کا وسوسہ مان لیا اُس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مراد ہے ، اور جب یہ ماننے لگا تو وہ کیا ایك ہی بار وسوسہ ڈال کر تھك رہے گا حاشا وہ ملعون آٹھ پہر اس کی تاك میں ہے جتنا جتنا یہ مانتا جائے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا رہے گا یہاں تك کہ نتیجہ وہی ہوگا دو دوپہر کامل دریا میں غوطے لگائے اور سر نہ دھلا۔

دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اُس کے ساتھ نزاع وبحث میں مصروف ہوجائے یہ بھی اُس کے مقصد ناپاك کا حصول ہے کہ اُس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے جھگڑے میں پڑ جائے اور پھر اس حیص بیص میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف عود کرجائے ۔ والعیاذ بالله تعالٰی۔

لہٰذا نجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبی کریم حکیم علیم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلاۃ والتسلیم نے تعلیم فرمائی کہ فورًا اتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تو جھوٹا ہے۔

اقول : یعنی یہ نہیں کہ صرف اس معنے کا تصور کرلیا کہ یہ کافی نہ ہوگا بلکہ دل میں جمالے کہ ملعون جھوٹا ہے پھر اُس کی طرف التفات اور اُس سے بحث وبردومات کی کیا حاجت شاید اسی لئے فی نفسہ زیادہ فرمایا۔

تنبیہفــــ ضروری سخت ضروری اشد ضروری : اقول : ہمارے حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی کثیرہ پر مشتمل ہوں ۔ بشیطان دو قسم ہیں ۱شیاطین الجن کہ ابلیس لعین اور اس کی اولاد ملاعین ہیں اعاذ نا الله والمسلمین من شرھم وشر الشٰیطین اجمعین (اے اللہ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ت) ۲دوسرے شیاطین الانس کہ کفار و مبتدعین کے داعی ومنادی ہے ۔

لعنہ الله وخذلھم ابدا ونصرنا علیہم نصرا مؤبدا

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن