دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

اِن حدیثوں  فــــ۱ کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکا دینے کیلئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوك دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گمان ہوتا ہے کبھی پیچھے پھُونکتا یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے اس پر حکم ہوا کہ نماز سے نہ پھرو جب تك تری یا آواز یا بُو نہ پاؤ جب تك وقوعِ حدث پر یقین نہ ہولے۔

ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبدالله بن مبارك فرماتے ہیں :

اذا شك فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوءحتی یستیقن استیقانا یقدران یحلف علیہ [1] ا۔  علقہ الترمذی فی باب الوضوء من الریح ـ

یعنی یقین ایسا درکار ہے جس پر قسم کھا سکے کو ضرور حدث ہوا اور جب قسم کھاتے ہچکچائے تو معلوم ہواکہ معلوم نہیں مشکوك ہے اورشك کا اعتبار نہیں کہ طہارت پر یقین تھا اور یقین شك سے نہیں جاتا۔ (ترمذی نے باب الوضو من الریح میں اسے ابن مبارك سے تعلیقًا روایت کیاہے۔ ت)

اسی لئے فــــ۲ سنت ہوا کہ وضو کے بعد ایك چھینٹا رومالی یا تہ بند ہو تو اس کے ا ندرونی حصّے پر جو بدن کے قریب ہے دے لیا کریں ثم لیقل ھو من الماء پھر اگر قطرہ کا شبہ ہوتو خیال کرلیں کہ پانی جو چھِڑکا تھا اُس کا اثر ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذا توضأت فانتضح۔  رواہ ابن ماجہ [2] عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔

جب تو وضو کرے تو چھینٹا دے لے (اسے ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی سے روایت کیا ۔ ) (ت)

 

فـــــ۱ : مسئلہ : شیطان کے تھوك اور پھونك سے نماز میں قطرے اور ریح کاشبہ جاتا ہے حکم ہے کہ جب تك ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھاسکے اس پر لحاظ نہ کرے ، شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میں جواب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے۔

فـــــ۲ : مسئلہ : سنت ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر چھنیٹادے لے ۔

بلکہ ارشاد فرماتے ہیں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

عشر عـــــہ ١من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ والسواك واستنشاق الماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاض الماء ۔

قـال الراوی ونسیت العاشرۃ الا ان تکون المضمضۃ                                         

دس باتیں قدیم سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہیں : لبیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواك کرنا ، وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا ، بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔ راوی نے کہادسویں میں بھول گیا

عـــــہ ۱ :  قال المناوی من للتبعیض ولذا لم یذکر الختان ھنا اھ  [3] اقول کونھا فـــــ للتبعیض لاشك فیہ فان الختان والمضمضۃ کلا من الفطرۃ کما یاتی فالزیادۃ علی العشر معلومۃ ولکن ماعلل بہ من عدم ذکر الختان ھنا لامحل لہ وکانہ نسی ان الراوی نسی العاشرۃ فما یدریك لعلہا الختان استظھرہ جمع کما سیاتی اھ منہ (م)       

علامہ مناوی نے کہا من الفطرۃ میں من تبعیض کاہے۔ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہ کیا اھ اقول من برائے تبعیض ہونے میں کوئی شك نہیں اس لئے کہ ختنہ اورکلی ہرایك کا شمار فطرت کے تحت ہے جیساکہ آرہا ہے تودس سے زیادہ ہونا معلوم ہے۔ لیکن من برائے تبعیض ہونے کی جو علت بیان کی ہے کہ “ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہیں “ اس کا کوئی موقع نہیں ، شاید وہ یہ بھول گئے کہ راوی دسویں چیز بھول گئے ہیں ۔ ہوسکتاہے وہ ختنہ ہی ہوجیساکہ ایك جماعت نے اسے ظاہر کہاہے جیساکہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے ۱۲منہ۔ (ت)

 

فـــــ : دس۱۰ باتیں قدیم سے سنت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ہیں ۔

رواہ احمد [4]ومسلم والاربعۃ عن

شاید عـــــہ کُلّی ہو۔ امام احمد ، مسلم اور اصحابِ سُنن اربعہ نے

 

عـــــہ : امام قاضی عیاض پھر امام نووی نے استظہار فرمایا کہ غالبادسویں ختنہ ہوکہ دوسری حدیث میں ختنہ بھی خصال فطرت سے شمار فرمایا ہے [5]انتہی ، یعنی حدیث احمد و شیخین ابوھریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے

خمس من الفطرت الختان والاستحداد وقص الشارب و تقلیم الاظافر و نتف الابط [6]

پانچ چیزیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنتِ قدیمہ سے ہیں : ختنہ اور اُسترا لینا اور لبیں اور ناخن تراشوانا اور بغل کے بال دورکرنا۔

اقول : ایك حدیث میں کلی کو بھی خصال فطرت سے گناہے ۔ امام احمد و ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوداؤد وابن ماجہ وعمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے راوی ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستشاق ( الی قولہ ) والانتضاح بالماء والاختنان والله تعالی اعلم ١٢ منہ ۔ [7]

فطرت سے ہے کُلّی اورناك میں پانی ڈالنا(الی قولہ) شرم گاہ پر چھینٹا اور ختنہ۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

ام المومنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا ۔

 



[1]   سنن الترمذی باب الطہارت حدیث ۷۶ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۵

[2]   سنن ابن ماجہ ابواب الطہارہ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶

[3]   التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث عشر من الفطرۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۱۳۲

[4]   صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۹ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۵ ، مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن