دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

یعنی سلیقہ سے اٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتاہے اوربدسلیقگی برتوتوبہت بھی کفایت نہیں کرتا(اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکرکیااورامام عینی نے شرح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا :

فائدہ : اوپر حدیث فـــــ۲ گزری کہ وَلَہان نام شیطان وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اُس کے وسوسہ سے بچو۔ دفع وسوسہ کے لئے بہترین تدبیران باتوں کا التزام ہے :

(۱) رجوع الی الله واعوذ۱ ولا حول۲وسورہ۳ناس کی قرأت اور۴اٰمَنْتُ بِالله وَرَسُوْلِہٖ ط کہنا ۵اور

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳) [1]ان سے

فـــــ۱ : مسئلہ : سنت یہ ہے کہ پانی ہاتھ پاؤں کے ناخن کی طرف سے کہنیوں اورگٹوں کے اوپرتك ڈالیں اُدھرسے اِدھرکونہ لائیں ۔

فـــــ۲ : فائدہ جلیلہ : دفع وسواس کی دعائیں اورعلاج )۔

فورًا وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔ اور ۶ سُبْحٰنِ الْمَلِك الْخَلَّاقِ ط اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ(۱۹) وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(۲۰) [2] کی کثرت اُسے جڑ سے قطع کردیتی ہے۔ حدیث۷ میں ہے ایك صاحب نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر وسوسہ کی شکایت کی کہ نماز میں پتا نہیں چلتا دو پڑھیں یا تین۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :

اذا وجدت ذلك فارفع اصبعك السبابۃ الیمنی فاطعنہ فی فخذك الیسری وقل بسم الله فانھا سکین الشیطان رواہ البزار[3] والطبرانی عن والد ابی الملیح ورواہ ایضا الحکیم الترمذی۔

جب تُو ایسا پائے تواپنی دا ہنی انگشتِ شہادت اٹھا کر اپنی بائیں ران میں مار اوربسم الله کہہ کہ وہ شیطان کے حق میں چھُری ہے (اس کو بزار اور طبرانی نے ابو ملیح کے والدسے روایت کیاہے اورحکیم ترمذی نے بھی اسے روایت کیاہے۔ ت)

(۲) وسوسہ کی نہ سُننا اُس پر عمل نہ کرنا اس کے خلاف کرنا ، اس بلائے عظیم کی عادت ہے کہ جس قدر اس پر عمل ہو اُسی قدر بڑھے اور جب قصدًا اُس کا خلاف کیا جائے تو باذنہٖ تعالٰی تھوڑی مدّت میں بالکل دفع ہوجائے۔ عمرو بن مُرّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :

ماوسوسۃ باولع ممن یراھا تعمل فیہ ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ[4]۔

شیطان جسے دیکھتاہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگرہوتاہے سب سے زیادہ اسی کے پیچھے پڑتاہے۔ (اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ ت)

امام ابن حجر مکّی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں مجھ سے بعض ثقہ لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسہ والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی دریائے نیل پرگئے طلوعِ صبح کے بعد پہنچے ایك نے دوسرے سے کہا تُو اتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سر کو پہنچا یا نہیں ، وہ اُترا اور غوطے لگانا شروع کئے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے وہاں پانی نہ پہنچا ایك صبح سے دوپہر ہوگیا آخر تھك کر باہر آیا اور دل میں شك رہا کہ غسل اُترا نہیں ۔ پھر اس نے دوسرے سے کہا اب تُو اُتر میں گنوں گا ، اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا یہاں تك کہ دوپہر سے شام ہوگئی مجبور وہ بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شُبہ کا شبہ ہی رہا ، دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا نہ ہوا والعیاذ بالله تعالٰی ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ ، [5] (اسے حدیقہ ندیہ میں بیان کیاگیا۔ ت)یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔

اور صالحین میں سے ایك صاحب فرماتے ہیں مجھے دربارہ طہارت وسوسہ تھا راستہ کی کیچڑ اگر کپڑے میں لگ جاتی اُسے دھوتا (حالانکہ شرعًا جب تك خاص اُس جگہ نجاست کا ہونا ثابت ومتحقق نہ ہو حکم طہارت ہے) ایك دن نمازِ صبح کیلئے جاتا تھا راہ کی کیچڑ لگ گئی میں نے دھونا چاہا اور خیال آیا کہ دھوتا ہوں تو جماعت جاتی ہے ناگاہ الله عزوجل نے مجھے ہدایت فرمائی میرے دل میں ڈالا کہ اس کیچڑ میں لوٹ اور سب کپڑے سان لے اور یونہی نماز میں شریك ہوجا ، میں نے ایسا ہی کیا پھر وسوسہ نہ ہوا ۔ ذکرہ فی الطریقۃ المحمدیۃ [6](اسے طریقہ محمدیہ میں نقل کیاگیا۔ ت)یہ اس کی مخالفت کی برکت تھی۔ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذا احدکم اذا کان فی المسجد جاء الشیطان فابسّ بہ کما یبسّ الرجل بدابتہ فان اسکن لہ وثقہ اوالجمہ۔

جب تم میں کوئی مسجدمیں ہوتا ہے شیطان آکر اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام کرنے کے لئے اس پرہاتھ پھیرتا ہے پس اگروہ شخص ٹھہر ارہا یعنی اس کے وسوسہ سے فورًا الگ نہ ہوگیا تو اسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتاہے۔

ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا :

وانتم ترون ذلك اما الموثوق فتراہ مائلا کذا لایذکراللّٰہ

یعنی حدیث کی تصدیق تم آنکھوں دیکھ رہے ہو وہ جو بندھا ہوا ہے اُسے تودیکھے گا یوُں جھکاہوا

واما الملجم ففاتح فاہ لایذکر الله عزّوجل رواہ الامام احمد[7] ۔

کہ ذکرِ الہٰی نہیں کرتا اور وہ جولگام دیاہوا ہے وہ منہ کھولے ہے الله تعالٰی کا ذکر نہیں کرتا(اسے امام احمد نے روایت کیا۔ ت)

 رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

واذا وجد احدکم فی بطنہ شیا فاشکل علیہ اخرج منہ شیئ ام لافلا یخرج من المسجد حتی یسمع صوتا اویجد ریحا رواہ مسلم والترمذی[8] عن ابی ھریرۃ۔

والا حمد والترمذی وابن ماجۃ والخطیب عنہ مختصرا بلفظ لاوضوء الامن صوت اوریح[9]

 



[1]   القرآن الکریم ۵۷ / ۳

[2]   القرآن الکریم ۱۴ / ۱۹

[3]   کنزالعمال بحوالہ طب والحکیم عن ابی الملیح حدیث ۱۲۷۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۵۲ ، المعجم الکبیر حدیث ۵۱۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۱۹۲ ، مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزاز کتاب الصلوۃ باب السہو فی الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۵۱

[4]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن