دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

 

 

اقول :  بلکہ تین روایتیں (۱) احتلام یاد آئے بغیر غسل نہیں اگرچہ منی ہی دیکھ لے جیسا کہ امام علی اسبیجابی کے حوالے سے دونوں شرح نقایہ (قہستانی وبرجندی) سے نقل گزری۔

فــــ :  تطفل ما علی الحلیۃ والعلامۃ قاسم۔

وان رأی المذی متذکرا و ھی “ ھذہ والثالثۃ یغتسل فی التذکر باحتمال المذی ایضا وفی عدمہ بعلم المنی وھی الاظھر الاشھر ومرویۃ الاکثر بل عند رابعۃ نحوقولھما علی ما فی القھستانی عــــہ عن العیون وغیرھا والله تعالٰی اعلم۔                   

(۲) بغیر منی دیکھے غسل نہیں اگرچہ مذی دیکھے اور احتلام بھی یاد ہو۔ یہی وہ اختلافی روایت ہے جس کا ذکر ہورہا ہے(۳) احتلام یاد ہونے کی صورت میں تری کے بارے میں مذی کا احتمال ہونے سے بھی غسل واجب ہے اور احتلام یاد نہ ہونے کی صورت میں جب تری کے منی ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب ہے ۔ یہی اظہر واشہر اور مرویِّ اکثر ہے ۔ بلکہ امام ابو یوسف سے ایك چوتھی روایت قول طرفین کے مطابق بھی ہے۔ جیسا کہ قہستانی میں عیون وغیرہا کے حوالے سے نقل ہے۔ والله تعالٰی اعلم (ت)

 

عـــــہ :  حیث ذکرالوجوب عندھما بالمذی وان لم یتذکر ثم قال وکذا عند ابی یوسف اذا تذکرالاحتلام واما اذا لم یتذکر فلا غسل وفی العیون وغیرہ انہ واجب عندہ فلعل عنہ روایتین کما فی الحقائق([1])اھ فالروایتان ھھنا عدم الوجوب بالمذی اذا لم یتذکر وھی المشہورۃ والوجوب بہ و ان لم         

عـــــہ : اس میں یہ ذکر ہے کہ طرفین (امام اعظم و امام محمد کے  نزدیك مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو پھر یہ بتایا کہ ایسا ہی امام ابو یوسف کے نزدیك بھی ہے جب کہ احتلام یاد ہو۔ اور یاد نہ ہو تو ان کے نزدیك غسل نہیں ۔ اور عیون وغیرہ میں ہے کہ اس صورت میں بھی ان کے نزدیك غسل واجب ہے ۔ توشاید ان سے دو روایتیں ہوں جیسا کہ حقائق میں ہے اھ۔ تویہاں پر دو روایتیں یہ ہوئیں (۱) مذی سے غسل واجب نہیں جب کہ احتلام یاد نہ ہو ، یہی مشہور روایت(باقی برصفحہ آئندہ)

اور اگر احتلام یاد نہیں تو امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیك ان تینوں صورتوں میں اصلا غسل نہیں

وھو الاقیس وبہ اخذ الامام الاجل العارف بالله خلف بن ایوب والامام الفقیہ ابو اللیث السمرقندی کما فی الفتح وغیرہ۔

اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اسی کو امام بزرگ عارف بالله خلف بن ایوب اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے اختیارکیا ، جیساکہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے ( ت)

شکل اخیر یعنی ششم میں طرفین یعنی حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی امام ابویوسف کے ساتھ ہیں یعنی جہاں نہ منی کا احتمال نہ مذی کا یقین بلکہ مذی کا احتمال ہے غسل بالاتفاق واجب نہیں ۔

فی رد المحتارلایجب اتفاقا فیما اذا شك فی الاخیرین (یعنی المذی والودی)

ردالمحتار میں ہے کہ بالاتفاق غسل واجب نہیں اس صورت میں جبکہ مذی و ودی میں شك ہو اور  (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

یتذکر وھی التی فی العیون وھی کما فی مذھبھما و الروایتان فی قول العلامۃ قاسم والحلیۃ الوجوب بالمذی اذا تذکر وھی المشہورۃ وعدمہ بہ وان تذکر وھی التی فی العیون فروایتا العون والعیون علی طرفی نقیض ھذا مایعطیہ سوق القھستانی والله اعلم بحقیقۃ الحال ۱۲ منہ (م)         

ہے (۲) مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں ہے۔ اور یہ مذہب طرفین کے مطابق ہے۔ اور علامہ قاسم اور حلیہ کے کلام میں جو روایتیں مذکور ہوئیں وہ یہ ہیں (۱) مذی سے غسل واجب ہے۔ جب کہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہی مشہور روایت ہے(۲) مذی سے غسل واجب نہیں اگرچہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں مذکور ہے۔ تو عون اور عیون کی دونوں روایتیں بالکل ایك دوسری کی ضد ہیں ۔ قہستانی کے سیاق سے یہی حاصل ہوتاہے ، اور حقیقتِ حال خدائے برترہی کو خوب معلوم ہے ۱۲منہ ۔ (ت)

مع عدم تذکر الاحتلام ([2])۔

احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)

اور شکل اول یعنی چہارم میں کہ منی کا احتمال ہو خواہ یوں کہ منی ومذی محتمل ہوں یا منی و ودی یا تینوں (اور ودی سے مراد ہر وہ تری کہ منی ومذی کے سوا ہو) ان سب صورتوں میں دونوں حضرات بالاتفاق روایات غسل واجب فرماتے ہیں ۔

فی رد المحتار یجب عندھما فیما اذا شك فی الاولین (ای المنی والمذی)$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن