30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) ہر چُلّو بھرا ہونا ضرور نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اس کا اندازہ رکھیں مثلًا ناك میں نرم بانسے تك پانی چڑھانے کو پُورا چُلو کیاضرور نصف بھی کافی ہے بلکہ بھرا چُلو کُلی کیلئے بھی درکار نہیں ۔
(۴) لوٹے کی ٹونٹی متوسط معتدل چاہئے نہ ایسی تنگ کہ پانی بدیر دے نہ فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرائے اس کا فرق یوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وضو کیجئے تو بہت خرچ ہوگا یونہی فراخ ٹونٹی سے بہانا زیادہ خرچ کا باعث ہے اگر لوٹاایسا ہوتو احتیاط کرے پوری دھارنہ گرائے بلکہ باریک۔
(۵) بہت بھاری برتن سے وضو نہ کرے خصوصًا کمزورکہ پورا قابو نہ ہونے کے باعث پانی بے احتیاط گرے گا۔
(۶) اعضاء فـــــ دھونے سے پہلے اُن پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتاہے اور تھوڑا ، بہت کا کام دیتا ہے خصوصًا موسم سرمامیں اس کی زیادہ حاجت ہے کہ اعضأ میں خشکی ہوتی ہے بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ بحر الرائق میں ہے :
عن خلف بن ایوب انہ قال
خلف بن ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے
فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ اعضاء دھونے سے پہلے بھیگاہاتھ پھیرلے خصوصاجاڑے میں ۔
ینبغی للمتوضیئ فی الشتاء ان یبل اعضاء ہ بالماء شبہ الدھن ثم یسیل الماء علیھا لان الماء یتجافی عن الاعضاء فی الشتاء کذا فی البدائع[1]۔ فرمایا : وضوکرنے والے کو چاہئے کہ جاڑے میں اپنے اعضاکو پانی سے تیل کی طرح ترکرے پھران پرپانی بہائے اس لئے کہ پانی جاڑے میں اعضا سے الگ رہ جاتاہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الاداب امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ والتأنی والدلك خصوصًا فی الشتاء[2] اھ ۔
واعترضہ فی البحر بانہ ذکر الدلك من المندوبات وفی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا ٣[3] اھ و قدمناہ فی التنبیہ الثالث وقال العلامۃ ش فی المنحۃ قولہ ذکر الدلك الخ یمکن ان یجاب عنہ بان مرادہ امرار الید المبلولۃ علی الاعضاء المغسولۃ لما قدمہ الشارح عندالکلام علی غسل الوجہ عن خلف بن ایوب (ای مانقلناہ اٰنفا قال) لکن کان ینبغی تقییدہ بالشتاء تامل [4] اھ۔
وضو کے آداب میں یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضا پرہاتھ پھیرلے ، اورٹھہر ٹھہرکردھوئے ، اور مَل لیا کرے خصوصًا جاڑے میں اھ۔ (ت)
اس پر بحر کااعتراض ہے کہ انہوں نے ملنے کو مندوبات میں شمارکردیاجب کہ خلاصہ میں یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیك سنت ہے ،
اوریہ اعتراض ہم تنبیہ سوم میں ذکرکرچکے ہیں ۔ علامہ شامی منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں بحر کے اعتراض مذکور کے تحت لکھتے ہیں : اس کا یہ جواب دیاجاسکتاہے کہ صاحبِ فتح کی مراد یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء پر بھیگا ہواہاتھ پھیرلیاجائے اس کی وجہ وہ ہے جو شارح نے غسل وجہ پرکلام کے تحت حضرت خلف بن ایوب سے نقل کی(وہی جواوپر ہم نے ابھی نقل کیا)لیکن انہیں اس کے ساتھ “ جاڑے “ کی قید لگادینا چاہئے تھا۔ تامل کرو۔ اھ۔
اقول : اولا ان فــــــ۱ اراد انہ لایندب الیہ الا فی الشتاء فممنوع لان الماء وان کان یتجافی عن الاعضاء فی غیر الشتاء فلا شك ان البل قبل الغسل ینفع فی کل زمان فانہ یسہل مرور الماء ویقلل المصروف منہ کما ھو مجرب مشاھد فالنقل عن الامام خلف فی الشتاء لاینفیہ فی غیرہ انما یقتضی ان الحاجۃ الیہ فی الشتاء اشد وھذا قد صرح بہ المحقق حیث قال خصوصا فی الشتاء [5]۔
وثانیا امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ قد افرزہ المحقق عن الدلك کما سمعت فکیف یحمل علیہ لکن التحقیق مااقول ان الامرار المذکور لہ ثلثۃ محتملات الاول الامرار بعد الغسل اعنی بعد فــــــ۲
اقول : اولا اگر علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ وہ صرف جاڑے ہی میں مندوب ہے تویہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ غیر سرمامیں پانی اگرچہ اعضا سے الگ نہیں ہوتا مگر اس میں شك نہیں کہ دھونے سے پہلے ترکرلینا ہر موسم میں مفید ہے کیوں کہ اس سے پانی بآسانی گزرتاہے اور کم صرف ہوتاہے۔ جیسا کہ یہ تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے ۔ توامام خلف سے نقل اگرچہ خاص جاڑے کے لفظ کے ساتھ ہے مگراس سے غیرسرماکی نفی نہیں ہوتی اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جاڑے میں ضرورت زیادہ ہے اور اس کی تو حضرت محقق نے تصریح کردی ہے اس طرح کہ انہوں نے لکھا : “ خصوصًا جاڑے میں “ ۔
ثانیًا : دھوئے جانے والے اعـضا پرہاتھ پھیرنے کو حضرت محقق نے دلک(اعضاکوملنے)سے الگ ذکرکیا ہے جیساکہ ان کی عبارت پیش ہوئی تواسے اس پرکیسے محمول کیاجائے گا؟۔ لیکن تحقیق وہ ہے جو میں کہتاہوں کہ مذکورہ ہاتھ پھیرنے میں تین معنی کا احتمال ہے : ۔
اوّل : دھولینے کے بعد ہاتھ پھیرنایعنی پانی گرجانے
فــــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہرعضودھوکراس پرہاتھ پھیردیناچاہئے کہ پانی کی بوندیں ٹپکناموقوف ہوجائے تاکہ بدن یاکپڑے پرنہ ٹپکیں ۔
ماانحدر الماء لنشف الباقی کیلا یترشش علی الثیاب ۔
والثانی مع الغسل ای حین کون الماء بعدُ مارا علی الاعضاء وھو عین الدلك المطلوب قال فی البحر خلف ماقدم عن خلفٍ الدلك لیس من مفہومہ (ای الغسل بالفتح) وانما ھو مندوب وذکر فی الخلاصۃ انہ سنۃ وحدہ امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ [6] اھ۔
والثالث قبل الغسل ویحتاج الی التقیید بالمبلولۃ والتجوز فی المغسولۃ بمعنی ماسیغسل اوما امر بہ ان یغسل فح قد یمکن ان یراد بالدلك الثالث کما زعم العلامۃ ش وبالا مرار الاول فلا ھو ینافی الافراز ولا یلزم عدم الثانی من المندوبات خلافا لما ھو المذھب المذکور فی الخلاصۃ ومن القرینۃ علیہ ان المحقق بحث فی
کے بعد باقی کو خشك کرنے کے لئے ہاتھ پھیرنا تاکہ کپڑوں پر نہ ٹپکے۔
[1] البحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
[2] فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
[3] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
[4] منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
[5] فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
[6] البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع