30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فـاقول : دعوی کراھۃ التنزیہ مبتنیہ علی عدم الفرق بین خلاف الاولی وکراھۃ التنزیہ وزعم ان ترك کل مستحب مکروہ کما قدمنا فی التنبیہ الثالث عن الحلیۃ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ خلاف الاولی والظاھر انہما متساویان وعن البحر ان التنزیہ فی رتبۃ المندوب وعن ش ان ترك المندوب مکروہ تنزیھا وقد علمت ما ھوالتحقیق وبالله التوفیق۔
اما ما عقب بہ الثانیۃ فاقول : اولا اعجب واغرب مع انہ اسلف الاٰن ان لیس
تحریمی نہیں جیساکہ کچھ پہلے اسے ہم بیان کرچکے اھ۔ پہلے یہ بتایا ہے کہ اگردلیل مخالفت نہ کرتی ہوبلکہ غیر جزمی طورپرترك کاافادہ کررہی ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی اھ او ربحر نے مسئلہ دوم کے بعد یہ لکھا کہ : ہم ہدایہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ بیرونِ نماز عبث حرام ہے اور اسے ہم نے کراہت تحریم پر محمول کیا تو بیرونِ نماز بے حاجت عبث کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے اھ۔
اس پر میں کہتاہوں کراہت تنزیہ کا دعوٰی ، خلاف اولٰی اور کراہت تنزیہ کے درمیان عدمِ فرق پر اور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر مستحب کاترك مکروہ ہے جیسا کہ تنبیہ سوم میں حلیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ : مکروہِ تنـزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ اوربحر سے نقل کیا کہ کراہت تنزیہ کا مرتبہ مندوب کے مقابل ہے اورشامی سے نقل کیاکہ ترك مندوب مکروہ تنزیہی ہے۔ اور وہاں واضح ہوچکا کہ تحقیق کیاہے ، اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ اب رہا وہ جو بحر نے مسئلہ دوم کے بعد لکھا تو میں کہتاہوں اولًا بہت زیادہ عجیب وغریب ہے باوجودیکہ ابھی انہوں نے
ف : تطفل علی البحر ۔
خارجہا نھی فلا تحریمیۃ وثانیا فــــ حققنا ان کلام الہدایۃ فی القسم الاول من العبث فاجراؤہ فی الثانی غیر سدید۔
پہلے بتایاکہ بیرونِ نماز نہی نہیں تومکروہ تحریمی نہیں ثانیا ہم تحقیق کرچکے کہ ہدایہ کا کلام عبث کی قسم اول سے متعلق ہے تواسے قسم دوم میں جاری کرنا درست نہیں ۔ (ت)
ہم اوپر بیان کر آئے کہ کراہت تنزیہی کیلئے بھی نہی ودلیل خاص کی حاجت ہے اور مطلقا کوئی فعل کبھی کسی فائدہ غیر معتد بہا کیلئے کرنے سے شرع میں کون سی نہی مصروف ہے کہ کراہت تنزیہ ہو ہاں خلافِ اولٰی ہونا ظاہر کہ ہر وقت اولی یہی ہے کہ انسان فائدہ معتد بہا کی طرف متوجہ ہو۔ رہی حدیث صحیح :
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ رواہ الترمذی [1] وابن ماجۃ والبیہقی فی الشعب عن ابی ھریرۃ والحاکم فی الکنی عن ابی بکر الصدیق وفی تاریخہ عن علی المرتضی واحمد و الطبرانی فی الکبیر عن سید ابن السید الحسین بن علی والشیرازی فی الالقاب عن ابی ذر والطبرانی فی الصغیر عن زید بن ثابت وابن عساکر عن الحارث بن ھشام
انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے یہ بات کہ غیر مہم کام میں مشغول نہ ہولایعنی بات ترك کرے (اس کو ترمذی وابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت ابو ھریرہ سے ، اورحاکم نے کُنٰی میں حضرت ابو بکر صدیق سے اور اپنی تاریخ میں حضرت علی مرتضٰی سے ، اور امام احمد نے اور معجم کبیرمیں طبرانی نے سید ابن سید حضرت حسین بن علی سے ، اورشیرازی نے القاب میں حضرت ابو ذر سے ، اورمعجم صغیر میں طبرانی نے حضرت زید بن ثابت سے ، اورابن عساکر نے حضرت حارث بن ہشام
فــــ : تطفل اخر علیہ ۔
رضی الله تعالی عنھم عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حسنہ النووی وصححہ ابن عبد البر والھیثمی۔
سے ، ان حضرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کیا۔ امام نووی نے اسے حسن اور ابن عبدالبروھیثمی نے صحیح کہا۔ (ت)
اقول : اس کا مفاد بھی اس قدر کہ حسن اسلام سب محسنات سے ہے اور محسّنات میں سب مستحسنات بھی ، نہ کہ ہر غیر مہم سے نہی ، ورنہ غیر مہم تو بیکار سے بھی اعم ہے ، تو سوا مہمات کے سب زیر نہی آکر مباحات سراسر مرتفع ہوجائیں گے۔ لاجرم امام ابنِ حجر مکی شرح اربعین نووی میں فرماتے ہیں :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ مما یشبعہ من جوع ویرویہ من عطش ویستر عورتہ ویعف فرجہ ونحوہ ذلك مما یدفع الضرورۃ دون ما فیہ تلذذ واستمتاع واستکثار وسلامتہ فی معادہ [2]۔
انسان کے لئے مہم امور وہ ہیں جو اس کی حیات ومعاش کی ضر ورت سے وابستہ ہوں اس قدر خوراك جو اس کی بھوك دورکرکے سیری حاصل کرائے اورپانی اس کی پیاس دور کرکے سیراب کردے اور کپڑا جس سے اس کی ستر پوشی ہو اور وہ جس سے اس کی پارسائی کی حفاظت اورعفت ہو ، اوراسی طرح کے امور جن سے اس کی ضرورت دفع ہو ، اورجس میں اس کے معاد و آخرت کی سلامتی ہو وہ نہیں جس میں صرف لطف ولذت اندوزی اورکثرت طلبی ہو۔ (ت)
ابن عطیہ مالکی کی شرح اربعین میں ہے :
مالایعنیہ ھو مالا تدعو الحاجۃ الیہ مما لایعود علیہ منہ نفع اخروی ، والذی یعنیہ مایدفع الضرورۃ دون مافیہ تلذذ وتنعم وقال الشیخ یوسف بن عمر مالایعنیہ ھو مایخاف فیہ فوات الاجر
لا یعنی وغیر مہم امور وہ ہیں جن کی کوئی حاجت نہ ہو ، جن سے کوئی اُخروی فائدہ نہ ہو۔ اورمہم امور وہ ہیں جن سے ضرورت دفع ہو نہ وہ جن میں لذت اندوزی وآسائش طلبی ہو۔ اورشیخ یوسف بن عمر نے فرمایا : لایعنی امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور
والذی یعنیہ ھو الذی لایخاف فیہ فوات ذلک[3]اھ مختصرا۔
یعنی و مہم امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اھ مختصرا۔ (ت)
علاّمہ احمد بن حجازی کی شرح اربعین میں ہے :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ وسلامتہ فی معادہ ومما لایعنیہ التوسع فی الدنیا وطلب المناصب والریاسۃ [4] اھ ملخصًا۔
انسان کے لئے مہم وہ امور ہیں جو اس کی معاشی زندگی اوراُخروی سلامتی کی ضرورت سے متعلق ہوں اور لایعنی وغیرمہم امور دنیا کی وسعت اورمنصب وریاست کی طلب ہے اھ ملخصًا۔ (ت)
[1] سنن الترمذی کتاب الزہد حدیث ۲۳۲۴ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۴۲ ، سنن الترمذی کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۹۵ ، مجمع الزوائد کتاب الادب باب من حسن اسلام المرء الخ دارالکتب بیروت ۸ / ۱۸
[2] شرح اربعین لامام ابن حجر مکی
[3] شرح اربعین للامام ابن عطیۃ مالکی
[4] المجالس السنیہ فی الکلام علی اربعین للنوویہ المجلس الثانی عشر الخ دار احیاء الکتب العربیہ مصر ص۳۶ ، ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع