دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فی الصلاۃ [1] اھ

ہونے کی قید لگی ہوئی ہے اھ۔ (ت)

ظاہر ہے کہ معنی اول پرعبث ممنوع و ناجائز ہوگا نہ دوم پر ، اور یہاں ہمارا کلام قسم دوم میں ہے یعنی جہاں نہ قصد معصیت نہ پانی کی اضاعت۔

بل اقـول :  لك فـــــ۱ ان تقول ان فی النظر الدقیق لاحکم علی العبث فی نفسہ بالحظر والتحریم اصلا وما کان لانضمام ضمیمۃ ذمیمۃ فانما مرجعہ الیہا دونہ وتحقیق ذلك انا اریناك تظافر الکلمات علی ان مناط العبث علی عدم قصد الفائدۃ بالفعل وھذہ حقیقۃ متحصلۃ بنفسھا ولیس قصد المضر اوعدم قصدہ من مقوماتھا ولا مما یتوقف علیہ وجود ھا کسبب وشرط فیعد من محصلاتھا فاذن لیس قصد مضرٍا لا من مجاوراتھا وما کان لمجاور یکون حکمالہ لالصاحبہ ،  الا تری البیع یحرم بشرط فاسد وبعد اذان الجمعۃ واذا سئلت                                                                          

بلکہ میں کہتاہوں تم کہہ سکتے ہوکہ بنظرِ دقیق دیکھا جائے توخود عبث پرمنع وتحریم کاحکم بالکل نہیں اور جو حکم منع کسی مذموم ضمیمہ کے شامل ہوجانے کی وجہ سے ہے اس کا مرجع اس ضمیمہ کی طرف ہے عبث کی جانب نہیں ۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ہم دکھا چکے کہ کلمات کا اس پر اتفاق ہے کہ عبث کا مدار اس پر ہے کہ بالفعل فائدہ کا قصد نہ ہو۔ اوریہ ایك ایسی حقیقت ہے جو خود حصول وثبوت رکھتی ہے۔ اورمضرکاقصد یاعدمِ قصد اس کا نہ توجز ہے نہ سبب وشرط کی طرح اس پراس کا وجودموقوف ہے کہ اسے اس کا محصّل شمار کیاجائے۔ تو کسی مضر کا قصدبس اس کا مجاوِراور اس سے متصل ہی ہوسکتا ہے اورجو حکم کسی مجاوِر ومتصل کے سبب ہو وہ دراصل اسی متصل کا حکم ہے اس کے ساتھ والے کا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھئے کسی شرط فاسد سے بیع حرام ہوتی ہے

 

فـــــ :  تحقیق المصنف ان فی تقسیم الشیئ بحسب المجاور لایکون حك القسم حکم المقسم۔

عن حکم البیع قلت مشروع بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ کما ذکرہ فی غایۃ البیان وغیرھا والصلاۃ تکرہ فی ثیاب الحریر للرجل وفی الارض المغصوبۃ ولا یمنعك ذلك بان تقول اذا سئلت عن حکمھا ان الصلاّۃ خیر موضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر کما رواہ [2]الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ان المصطفٰی صلی الله تعالی علیہ وسلم وبالجملۃ یؤاخذ علی المعصیۃ من حیث قصد الشر لا من حیث عدم قصد الخیر وھی انما کانت عبثا من ھذہ الحیثیۃ لامن تلك فلیس الحظر حکم العبث اصلا۔                                                                                                                                                                   

یوں ہی اذانِ جمعہ کے بعد بیع حرام ہے ، اور اگرخود بیع کاحکم پوچھا جائے توجواب ہوگاکہ جائز ، اورکتاب وسنت واجماعِ اُمت سے مشر وع ہے جیسا کہ اسے غایۃ البیان وغیرہامیں ذکرکیا ہے۔ یوں ہی نماز ریشمی کپڑے میں مردکے لئے اور غصب کردہ زمین میں کسی کے لئے بھی مکروہ ہے لیکن اگرخود نماز کا حکم پوچھاجائے توجواب یہی ہوگا نماز ایك وضع شدہ خیر اورنیکی ہے توجس سے ہوسکے کہ اسے زیادہ حاصل کرے تو اُسے چاہئے کہ وہ زیادہ حاصل کرے۔ جیسا کہ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ، مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کیا ہے ۔ الحاصل معصیت پرمواخذہ اس لحاظ سے ہے کہ شرکا قصد ہوا ، اس لحاظ سے نہیں کہ خیر کا قصد نہ ہوا ، اوروہ عبث اسی حیثیت سے ہے اُس حیثیت سے نہیں توعبث کا حکم ممانعت بالکل نہیں ۔ (ت)

اس کا حکم وہی ہے جو ابھی غایہ سروجی وبحرالرائق وغنیہ شرنبلالی وردالمحتار سے منقول ہوا کہ خلاف اولٰی ہے اور یہی مفاد درمختار ہے ۔

حیث قال کرہ عبثہ للنھی الالحاجۃ ولا باس بہ خارج الصلاۃ[3] اھ فان لاباس لما ترکہ اولی

(اس کے الفاظ یہ ہیں : اس کا عبث نہی کی وجہ سے مکروہ ہے مگریہ کہ کسی حاجت کی وجہ سے ہواوربیرونِ نمازاس میں حرج نہیں اھ۔ اس لئے کہ لاباس(حرج نہیں ) اسی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا ترك اولی ہے۔ (ت)

اور یہی وہ ہے جو قول سوم میں ارشاد ہوا کہ پانی میں اسراف نہ کرنا آداب سے ہے۔

اما ما فی الحلیۃ فی مسألۃ فرقعۃ الاصابع فــــ۱ ھل یکرہ خارج الصّلاۃ فی النوازل یکرہ والظاھران المراد کراھۃ تنزیہ حیث لایکون لغرض صحیح اما لغرض صحیح ولو اراحۃ الاصابع فلا [4] اھ

وفی فــــ۲  تشبیکھا بعد ذکر النھی عنہ فی الصلاۃ وفی السعی الیھا ولمنتظرھا کمثلھم فی الفرقعۃ مانصہ فیبقی فیما وراء ھذہ الاحوال حیث لایکون عبثا علی الاباحۃ من غیر کراھۃ وان کان علی سبیل العبث یکرہ تنزیھا [5]اھ وتبعہ فیہما ش والبحر فی الاولی و زاد انہ لما لم یکن فیھا خارجہا نھی لم تکن تحریمیۃ کما اسلفناہ قریبا [6] اھ یرید ماقدم انہ                                            

مگر حلیہ میں انگلیاں چٹخانے کے مسئلہ میں ہے : کیا یہ بیرونِ نماز بھی مکروہ ہے؟ نوازل میں ہے کہ مکروہ ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہ مراد ہے جبکہ اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ اوراگرکسی غرض صحیح کے تحت ہو اگرچہ انگلیوں کو راحت دینا ہی مقصودہوتوکراہت نہیں اھ۔

اور ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے سے متعلق ، نمازمیں ، اورنمازکے لئے جانے اور نمازکے انتظار کی حالتوں میں انگلیاں چٹخانے کی طرح نہی کاذکرکرنے کے بعد حلیہ میں لکھا ہے : ان کے علاوہ احوال میں جہاں کہ عبث نہ ہو بغیر کسی کراہت کے اباحت پرحکم رہے گا اور اگر بطورِ عبث ہو تومکروہ تنزیہی ہوگااھ۔

ان دونوں مسئلوں میں شامی نے حلیہ کا اتباع کیا ہے اوربحرنے پہلے مسئلہ میں اتباع کیا ہے اور مزیدیہ لکھا : چوں کہ انگلیاں چٹخانے سے متعلق بیرونِ نماز ممانعت نہیں اس لئے وہاں یہ مکروہ

 

فـــــ۱ : مسئلہ : نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے یوں ہی اگر نماز کے انتظار میں بیٹھنا ہے یا نماز کے لئے جارہا ہے ۔ اور ان کے سوا اگر حاجت ہو مثلا انگلیوں میں بخارات کے سبب کسل پیدا ہو تو خالص اباحت ہے اور بے حاجت خلاف اولی و ترك ادب ہے ۔

فـــــ۲ : مسئلہ : یہی سب احکام اپنے ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کے ہیں :

ان لم یکن الدلیل نھیا بل کان مفیدا للترك الغیر الجازم فھی تنزیھیۃ [7] اھ  وعقب الثانیۃ بقولہ وقد قدمناہ عن الھدایۃ ان العبث خارج الصلوٰۃ حرام وحملناہ علی کراھۃ التحریم فینبغی انیکون العبث خارجہا لغیر حاجۃ کذلك[8] اھ

 



[1]   البحرالرائق بحوالہ الغایہ للسروجی کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰ ، غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام علی ہامش درر الحکام باب مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷ ، رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰

[2]   المعجم الاوسط حدیث ۲۴۵ مکتبۃ المعارف ریاض بیروت ۱ / ۱۸۳

[3]   الدر المختار کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتباہی دہلی ۱ / ۹۱

[4]   حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی

[6]   بحرالرائق مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰

[7]   بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹ ، ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن