دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2 | فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

book_icon
فتاوٰی رضویہ جلد ۱ (حصہ دوم)

فـــــــ۴ : معروضۃ سابعۃ علیھما۔

زیف ولا اعلم لہ سندا من السلف ولقد احسن النیسابوری اذا سقطہ من تلخیص الکبیر ۔  اقول :  وتعبیری فــــــ ۱اذ قلت یبنون من دون حاجۃ ایضا احسن من تعبیر الکبیر ومن تبعہ کما تری۔

یہ ایك کمزوروجہ ہے اورسلف سے اس کی کوئی سند میرے علم میں نہیں ۔ اورنیشاپوری نے بہت اچھا کیا کہ تفسیر کبیر کی تلخیص سے اسے ساقط کردیا۔ اقول : میری یہ تعبیر کہ “ بے حاجت بھی بناتے تھے “ تفسیرکبیراوراس کے متبعین کی تعبیرسے بہتر ہے جیسا کہ پیشِ نظر ہے۔ (ت)

امام مجاہد و سعید بن جبیر نے فرمایا : جگہ جگہ کبوتروں کی کابکیں بناتے ہیں ۔

رواہ عن الاول ابن جریر[1] فی (ایۃ) وھو والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ و عبد بن حمید واباالمنذر وابی حاتم فی ( مصانع[2]) وعزاہ للثانی فی المعالم [3]

اسے امام مجاہد سے ابن جریر نے “ آیہ “ کے معنی میں روایت کیا او رابن جریر ، فریابی ، سعیدبن منصور ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم نے ان سے “ مصانع “ کے معنی میں روایت کیا۔ اورمعالم التنزیل میں اسے حضرت سعیدبن جبیر کے حوالے سے بیان کیا۔ (ت)

ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی دوم ہوگا یعنی لغو و لہو۔ بعض نے کہا ہر جگہ اونچے اونچے محل تکبر وتفاخر کے لئے بناتے ۔

ذکرہ الکبیر ومن بعدہ وللفریابی وابناء حمید وجریر والمنذر وابی حاتم عن مجاھد و تتخذون  مصانع قال

اسے تفسیر کبیر میں ذکرکیا اوراس کے بعدکے مفسرین نے بھی۔ اورفریابی ، ابن حمید ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کی “ وتتخذون مصانع “ انہوں نے کہا

 

فـــــــ ۱ : علی الامام الرازی والبیضاوی وابی سعود۔

قصورا مشیدۃ وبنیانا مخلدا [4] ولابن جریر عنہ قال ایۃ [5]۔

مضبوط محل اوردوامی عمارت۔ اور ابن جریر نے ان سے روایت کیا کہ آیۃ یعنی عمارت۔ (ت)

ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے منقول ہوا جو راستے سیدنا ہُود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جاتے ان پر محل بنائے تھے کہ اُن میں بیٹھ کر خدمتِ رسالت میں حاضر ہونے والوں سے تمسخر کرتے ذکرہ فی مفاتیح الغیب ورغائب [6]الفرقان مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر )اور رغائب الفرقان (نیشاپوری) میں اس کا ذکر کیا گیا۔ ت) یا سرِراہ بناتے ہر راہ گیر سے ہنستے ذکرہ البغوی والبیضاوی[7] وابو السعود واقتصر علیہ الجلال[8] ملتزما الاقتصار علی اصح الاقوال (ذکر کیا بغوی اور بیضاوی اور ابو السعود نے اختصار کیا جلال نے اختصار اقوالِ اصح میں لازم ہے۔ ت)

ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی اول ہوگا یعنی قصد شر و ارادہ ضرر۔ بالجملہ دونوں معنے کا پتا قرآنِ عظیم سے چلتا ہے اگرچہ متعارف غالب میں اُس کا استعمال معنی دوم ہی پر ہے بیہودہ وبے معنے کام ہی کو عبث کہتے ہیں نہ کہ معاصی وظلم وغصب وزنا وربا وغیرہا کو۔

اذا تقرر ھذا فـاقـول ظھر ان لاعتب علی الامام الجلیل صاحب الھدایۃ رحمہ الله تعالی اذ یقول ان العبث خارج الصلاۃ حرام فما ظنك فی الصلوۃ [9] اھ وقد اقرہ فی العنایۃ و

جب یہ طے ہوگیا تومیں کہتاہوں واضح ہوگیا کہ امام جلیل صاحبِ ہدایہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِپرکوئی عتاب نہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ : عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اھ۔ اسے عنایہ وفتح القدیر میں برقرار رکھا

الفتح وتبعہ فی الدرر والغنیۃ ولفظ مولٰی خسرو انہ خارج الصلاۃ منھی عنہ فما ظنك فیھا [10] ھ

ولفظ المحقق الحلبی العبث حرام خارج الصلاۃ ففی الصلوۃ اولی [11] اھ

فان قلت اطلقوا وانما ھو حکم القسم الاول۔  قلت اصل الکلام فی الصلاۃ وکل عبث فیہا من القسم الاول فتعین مرادا وکان اللام للعھد فحصل التفصی عما او رد فــــــ السروجی فی الغایۃ وتبعہ فی البحر والشرنبلالی فی الغنیۃ وش ان العبث خارجہا بثوبہ اوبدنہ خلاف الاولی ولا یحرم قال والحدیث (ای ان الله کرہ لکم ثلثا العبث فی الصلاۃ والرفث فی الصیام والضحك فی المقابر رواہ القضاعی[12] عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا) قید بکونہ                            

اور درروغنیہ میں اس کا اتباع کیا۔ مولٰی خسرو کے الفاظ یہ ہیں : وہ بیرونِ نماز منہی عنہ ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہاراکیاخیال ہے اھ اورمحقق حلبی کے الفاظ یہ ہیں : عبث بیرونِ نماز حرام ہے تو اندرونِ نماز بدرجہ اولٰی(حرام) ہوگا اھ۔

اگر کہئے ان حضرات نے مطلق رکھاہے اور یہ قسم اول کا حکم ہے میں کہوں گااصل کلام نماز سے متعلق ہے اورنمازمیں ہرعبث قسم اول سے ہے تو اسی کا مراد ہونا متعین ہے اور “ العبث “ میں لام عہد کا ہے تو اس اعتراض سے چھٹکارا ہوگیا جو سروجی نے غایہ میں وارد کیا اور صاحبِ بحر نے بحر میں اورشرنبلالی نے غنیہ میں اورشامی نے اس کی پیروی کی۔ (اعتراض یہ ہے)کہ بیرونِ نماز اپنے کپڑے یابدن سے عبث(کھیل کرنا) خلافِ اولٰی ہے ، حرام نہیں ۔ اور کہا کہ : یہ حدیث “ بیشك الله نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائیں : نماز میں عبث ، روزے میں بے ہودگی ، قبرستانوں میں ہنسنا۔ قضاعی نے یحیٰی بن ابی کثیر سے مرسلًا روایت کی “ ۔ اس میں عبث کے ساتھ اندورنِ نماز

فــــــ :  تظفل علی السروجی والبحر والشرنبلالی و ش۔ ۔

 



[1]   جامع البیان( تفسیر الطبری) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۹ / ۱۱۰

[2]   الدرالمنثور بحوالہ الفریابی تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۶ / ۲۸۲

[3]   معالم التنزیل ( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۶

[4]   الدرالمنثور بحوالہ الفریابی وغیرہ تحت الایہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن