30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : کیوں مکروہ نہیں جب کہ اس پرواجب یہ ہے کہ سلام پرنماز پوری کرے نہ یہ کہ سلام کے علاوہ کسی عمل سے نماز قطع کر دے۔ تواگر قطع سے ان کی مراد نماز پوری کرنا ہے تو قیاس درست نہیں کیوں کہ سلام پرنماز پوری کرنے کا تواسے حکم ہے اس پراس عمل کاقیاس کیسے ہوسکتا ہے جو مطلوب نہیں اورجب تك وہ نماز سلام سے پوری نہ کرے جو عمل بھی ہوگا درمیانِ نماز ہی ہوگا کیاوہ مشہور بارہ مسائل پیشِ نظر نہیں ۔ ہدایہ میں فرمایا : امام بردعی کی تخریج پریہ ہے کہ نماز سے مصلی کا اپنے عمل کے ذریعہ باہر آنا امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك فرض ہے۔ تو ان کے نزدیك اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے نماز کے درمیان پیش آنا اھ۔ اور فتح القدیر میں امام (باقی برصفحہ آئندہ)
فـــــ : تطفل علی الامام الجلیل صاحب البدائع۔
وانہ لاباس بہ مطلقا فیہ نظر ظاھر[1] اھ وانت تعلم ان اعتراضہ علی مانقل عن الخلاصۃ والنھایۃ صحیح الی الغایۃ للتصریح فیہ ان النفض من التراب۔
اور اس میں “ مطلقًا “ کوئی حرج نہیں ہے اھ۔ ناظر کو معلوم ہے کہ حلبی نے خلاصہ ونہایہ سے جس طرح عبارت نقل کی ہے اس پر ان کا اعتراض بالکل درست اوربجا ہے کیوں کہ اس عبارت میں مٹی سے جھاڑنے کی صراحت موجود ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ناقلا عن الکرخی انما تبطل عندہ فیھا لانہ فی اثنائہا کیف وقد بقی علیہ واجب وھو السلام وھو اٰخرھا داخلا فیھا[2] اھ فاتفق التخریجان ان ماقبل السلام داخل فی خلال الصلوۃ فلم لایکرہ مایکون فیہ مما لیس من افعال الصلوۃ ولا مفیدا محتاجا الیہ فتدبر اذلابحث مع الاطباق لاسیما من مثلی والاتباع للمنقول وان لم یظھر للعقول والله تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ۔ (م)
امام کرخی سے نقل ہے : امام صاحب کے نزدیك ان عوارض کی صورتوں میں نماز اسی لئے باطل ہوتی ہے کہ وہ ابھی اثنائے نماز میں ہے کیوں نہ ہو جب کہ ابھی اس کے ذمہ ایك واجب باقی ہے وہ ہے سلام ، یہ نماز کا آخری عمل ہے اورنماز میں داخل ہے اھ۔ تو امام بردعی وامام کرخی دونوں حضرات کی تخریجیں اس پر متفق ہیں کہ ماقبل سلام ، درمیان نماز داخل ہے تواس حالت میں واقع ہونے والا وہ کام مکروہ کیوں نہ ہوگا جو نہ افعالِ نماز سے ہے نہ مفید ہے نہ اس کی حاجت ہے تو تدبر کرو۔ اس لئے کہ اتفاق موجود ہوتے ہوئے بحث کی خصوصًا مجھ جیسے سے۔ گنجائش نہیں ۔ اتباع منقول کا ہوگا اگرچہ اس کی وجہ معقول ظاہر نہ ہو ۔ والله تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ ۔ (ت)
اقــول : وانما فــــــ قید بقولہ مطلقا لان الثوب ان کان مما یفسدہ التراب کأن یکون من لاحریر المخلوط للرجل اوالخالص للمرأۃ وکان فی التراب نداوۃ فلولم یغسل بقی متلوثا ولو غسل فسد فحینئذا فان الضرورات تبیح المحظورات ۔ والله تعالی اعلم ۔
ولکن الشان ان لیس لفظ التراب لافی الخلاصۃ ولا فی النھایۃ فنص نسختی الخلاصۃ ولا یعبث بشیئ من جسدہ وثیابہ والحاصل ان کل عمل ھو مفید لاباس بہ للمصلی وقد صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ سلت العرق عن جبینہ وکان اذا قام من سجودہ فنفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ وما لیس بمفید یکرہ کاللعب ونحوہ [3] اھ
اقول : اعتراض کے الفاظ میں انہوں نے “ مطلقًا “ کی قید اس لئے رکھی ہے کہ اگرکپڑا ایسا ہو جوکہ مٹی سے خراب ہوجائے مثلًا مرد کا کپڑا مخلوط ریشم کا یاعورت کاخالص ریشم کا ہو اورمٹی میں نمی ہو اب اگر اسے دھوتا نہیں تو کپڑا خاك آلود رہ جاتا ہے اوردھوتا ہے تو خراب ہوتا ہے ایسی صورت میں مٹی سے بچانا ممنوع نہ ہونا چاہئے کیوں کہ ضرورتوں کے پاس ممنوعات مباح ہوجاتے ہیں ، والله تعالٰی اعلم۔
لیکن معاملہ یہ ہے کہ لفظ “ تراب(مٹی) “ نہ خلاصہ میں ہے نہ نہایہ میں ہے۔ میرے نسخہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے : “ اوراپنے جسم یا کپڑے کے کسی حصے سے کھیل نہ کرے۔ اورحاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو مصلی کے لئے اس میں حرج نہیں ، نبی سے بطریق صحیح ثابت ہے کہ جبین مبارك سے پسینہ صاف کیا اورجب سجدہ سے اٹھتے تو اپنا کپڑا دائیں بائیں جھٹك دیتے۔ اورجو مفید نہیں وہ مکروہ ہے جیسے لعب اوراس کے مثل اھ۔
فـــــ : مسئلہ : اگر کپڑا بیش قیمت ہے جیسے ریشمیں تانے کا مرد کے لئے یا خالص ریشمی عورت کے لئے اور نماز خالی زمین پر پڑھ رہا ہے اور مٹی گیلی ہے کہ کپڑا نہ بچائے تو کیچڑ سے خراب ہوگا اور دھونے سے بگڑ جائے گا تو ایسی حالت مٰیں بچانے کی اجازت ہونی چاہیئے والله تعالی اعلم۔
ونص النھایۃ علی مانقل فی البحر مثل مااثرتہ عن العنایۃ بمعناہ وقد صرح فیہ بالمراد اذقال کیلا تبقی صورۃ ولا توجہ علیہ لشیئ من الایرادات بیدان الامام الحلبی ثقۃ حجۃ امین فی النقل فالظاھر انہ وقع ھکذا فی نسختیہ الخلاصۃ والنھایۃ ولکن العجب فــــ۱ من البحر نقل عبارۃ النھایۃ مصرحۃ بالصواب ثم عقبہا بالاعتراضات الواردۃ علی لفظ من التراب واقرھا کانہ لیس عنہا جواب۔
اور نہایہ کی عبارت جیسے بحرمیں نقل کی ہے بالمعنی اسی کی طرح ہے جو میں نے عنایہ سے نقل کی اوراس میں مراد کی تصریح کردی ہے کیوں کہ اس میں کہاہے : “ تاکہ صورت نہ باقی رہے “ اوراس عبارت پر ان تینوں اعتراضوں میں سے ایك بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ مگر امام حلبی نقل میں ثقہ ، حجت ، امین ہیں توظاہر یہ ہے کہ ان کے خلاصہ اورنہایہ کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے نقل کی۔ لیکن تعجب بحر پر ہے کہ انہوں نے نہایہ کی عبارت تو صاف صحیح کی تصریح کے ساتھ نقل کی (وہ جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا) پھر بھی اس کے بعد لفظ “ تراب “ سے متعلق وارد ہونے والے اعتراضات نقل کرکے انہیں برقرار رکھا گویا ان کا کوئی جواب نہیں ۔
یہ نہایت فـــــ۲ کلام ہے تحقیق معنی عبث میں ، اب تنقیح حکم کی طرف چلئے وبالله التوفیق ۔
اقول : بیان سابق سے واضح ہوکہ عبث کا مناط فعل میں فائدہ معتدبہا مقصود نہ ہونے پر ہے اور وہ اپنے عموم سے قصد مضر وارادہ شرکو بھی شامل تو بظاہر مثل اسراف اُس کی بھی دو٢ صورتیں ایك فعل بقصد شنیع دوسری یہ کہ نہ کوئی بُری نیت ہو نہ اچھی۔ رب عزوجل نے فرمایا :
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)[4]
کیا اس گمان میں ہو کہ ہم نے تمہیں عبث بنایا اور تم ہماری طرف نہ پلٹوگے۔
فـــــ ۱ : تظفل علی البحر ۔ فـــــ ۲ : حکم عبث کی تنقیح ۔
علماء نے اس آیہ کریمہ میں عبث کو معنی دوم پر لیا یعنی کیا ہم نے تم کو بیکار بنایا تمہاری آفر ینش میں کوئی حکمت نہ تھی یوں ہی بے معنی پیدا ہوئے بیہودہ مرجاؤ گے نہ حساب نہ کتاب نہ عذاب نہ ثواب ، جیسے وہ خبیث کہا کرتے تھے :
[5] اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَﭪ(۳۷)
یہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی ، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں ، اورمرنے کے بعددوبارہ ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع